قومی اسمبلی نے نیب آرڈیننس کو مزید 120 روز کی توسیع دے دی

قومی اسمبلی میں نامکمل کورم پر اپوزیشن کے سخت احتجاج کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے نئے ترمیم شدہ قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس 1999 کو مزید 120 روز کےلیے بڑھا دیا۔
اپوزیشن نے دعوی کیا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے کورم نامکمل ہونے باوجود نیب آرڈیننس میں دوسری توسیع کے لیے قرارداد پاس ہونے کی اجازت دی تھی۔ اس دوران کچھ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ بھی زیربحث آیا جب اراکین قومی اسمبلی نے کہا کہ جموں کشمیر ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی، سینیٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی اور سپریم کورٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کا ان اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے جن کے نام ان سوسائٹز کو شروع کرنے کےلیے استعمال کیے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن شگفتہ جمانی نے کہا کہ جب وہ اور ان کے بہت سے ساتھی 2002 میں پارلیمنٹ آئے تھے تو انہوں نے سینیٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری کی تھی، بہت سارے پارلیمنٹیرین کی محنت سے کمائی جانے والی رقم ان منصوبوں میں پھنس گئی ہے، جب ایم این اے اقبال احمد نے جموں وکشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی شکایت کی تو سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ نیب اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کو کوئی این او سی جاری نہیں کی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پنجاب نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے بلدیاتی اداروں کو بحال نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت عظمیٰ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف اپنے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر قانونی کارروائی کرے۔اجلاس کے آغاز میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قانون ساز شیخ فیاض الدین نے اراکین قومی اسمبلی کی عدم حاضری کی وجہ سے کورم کی طرف نشاندہی کی۔ اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں اراکین کی گنتی کی جس سے معلوم ہوا کہ کورم نامکمل ہے۔ جس کے بعد کورم کی تکمیل تک کارروائی معطل کردی گئی۔ تاہم اجلاس کچھ دیر بعد دوبارہ شروع ہوا۔جب وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے نیب آرڈیننس میں توسیع کےلیے قرارداد پیش کی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون ساز سکندر رہپوٹو نے کورم کی کمی کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ تاہم اسپیکر قومی اسمبلی نے قرارداد پاس ہونے کی اجازت دی جس پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ اسپیکر چھٹی مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی اسپیکر نے پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ کام کبھی نہیں کیا۔قرارداد کی منظوری کے بعد ہی اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ اراکین اسمبلی کی گنتی کا حکم دیا تو کورم نا مکمل تھا۔تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بیوروکے ’غیرمعمولی اختیارات‘ کو محدود کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فروری میں نیب کے پراسکیوٹر جنرل (احتساب) کے عہدے کےلیے آرڈیننس جاری کیا تھا یہ عہدہ نیب کے چیئرمین کے بعد انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیوں کہ پراسکیوٹر جنرل کی منظوری کے بغیر کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا ہے۔
