قومی ویمن ٹیم کی 4 سابق کرکٹرز کا بطور میچ آفیشل نئے کیریئر کا آغاز
پاکستان ویمن کرکٹ کی سابق کھلاڑیوں نے کھیل کے میدان کے بعد میچ آفیشلز کے طور پر نئی اننگز شروع کردیپاکستان ویمن کرکٹ کی سابق کھلاڑیوں نے کھیل کے میدان کے بعد میچ آفیشلز کے طور پر نئی اننگز شروع کردی

کراچی: ویمن کرکٹ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی
پاکستان میں ویمن کرکٹ کے فروغ کے ساتھ ساتھ خواتین میچ آفیشلز کی نمائندگی بھی بڑھنے لگی ہے۔ کراچی میں جاری نیشنل انڈر 19 ویمن ٹورنامنٹ میں پانچ خواتین میچ ریفریز فرائض انجام دے رہی ہیں، جن میں چار سابق قومی کرکٹرز بھی شامل ہیں۔
یہ سابق کھلاڑیاں اب کھیل کے میدان میں بطور کھلاڑی نہیں بلکہ میچ آفیشلز کے طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔
سابق قومی کرکٹرز کی نئی اننگز
پاکستان کی پہلی خاتون میچ ریفری ثمن ذوالفقار کے ساتھ سابق قومی کرکٹرز کائنات امتیاز، ایمن انور، حنا اعظم اور فاخرہ کاظمی بھی نیشنل انڈر 19 ویمن ٹورنامنٹ میں میچ ریفری کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
چاروں کھلاڑیوں نے قومی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اب کرکٹ کے میدان میں ایک نئے کردار کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔
کائنات امتیاز کا کرکٹ کیریئر
سابق فاسٹ بولر کائنات امتیاز نے پاکستان کی جانب سے 19 ون ڈے اور 21 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے ہیں۔
کائنات امتیاز اب میچ ریفری کے طور پر کرکٹ سے اپنا تعلق مزید مضبوط کر رہی ہیں۔ ان کی والدہ بھی بین الاقوامی امپائر ہیں، جس کے باعث ان کا خاندان بھی کرکٹ آفیشلز کے شعبے سے وابستہ رہا ہے۔
ایمن انور کی نئی ذمہ داری
ایمن انور نے حال ہی میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ حاصل کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 8 ون ڈے اور 37 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔
کرکٹ سے بطور کھلاڑی رخصت ہونے کے بعد ایمن انور نے اب میچ آفیشل کی حیثیت سے اپنی نئی اننگز کا آغاز کیا ہے۔
حنا اعظم اور فاخرہ کاظمی بھی شامل
حنا اعظم اور فاخرہ کاظمی بھی قومی سطح پر کرکٹ کھیلتی رہی ہیں۔
دونوں سابق کرکٹرز پہلی مرتبہ میچ ریفری کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، جو پاکستان ویمن کرکٹ اور خواتین میچ آفیشلز کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں خواتین میچ آفیشلز کی نئی تاریخ
کراچی میں جاری نیشنل انڈر 19 ویمن ٹورنامنٹ میں پانچ خواتین میچ ریفریز کی شرکت پاکستان میں خواتین میچ آفیشلز کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔
ویمن کرکٹ میں آل ویمن میچ آفیشلز کی روایت عالمی سطح پر بھی مضبوط ہو رہی ہے، جبکہ آئی سی سی کے بڑے ایونٹس میں بھی خواتین پر مشتمل میچ آفیشلز کی ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔
ویمن کرکٹ کے لیے اہم پیش رفت
پاکستان میں نیشنل انڈر 19 ویمن ٹورنامنٹ میں پانچ خواتین میچ ریفریز کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ ویمن کرکٹ کے ساتھ ساتھ میچ آفیشلز کے شعبے میں بھی خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
چار سابق قومی کرکٹرز کا بطور میچ ریفری کیریئر شروع کرنا نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہے، جو مستقبل میں کھیل کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دینا چاہتی ہیں۔
