لال مسجد مذاکرات کامیاب، حکومت کا سرنڈر، مسجد کھل گئی

اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں گذشتہ کئی روز سے جاری کشیدہ صورت حال فریقین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوگئی ہے جس کے بعد لال مسجد میں نمازیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ حکومت نے جنونی مولوی مولانا عبدالعزیزکے تمام مطالبات ماننے کا اعلان کردیا جس کے بعد مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا۔ اس معاہدے کا اعلان 2007 میں لال مسجد کے فوجی آپریشن میں مارے جانے والے مولانا عبدالرشید غازی کے بیٹے ہارون غازی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے کیا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اعلی اہلکار نے معاہدے کی تصدیق کی۔
مولانا عبدالعزیز اور ہارون غازی کا مطالبہ تھا کہ ایچ الیون میں ان کو الاٹ کردہ پلاٹ کیونکہ متنازعہ بن گیا ہے اور اس پر ان کی تقریبا تین کروڑ روپے کی رقم لگی ہوئی ہے تو جب تک اس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک حکومت کسی پارٹی کو یہ پلاٹ نہیں دے گی۔ ’اس پر مذاکرات کے بعد جید علما کی ضمانت پر ہم نے جامعہ حفصہ کی بچیاں واپس بلا لیں ہیں اور لال مسجد کا محاصرہ ختم کر دیا گیا ہے۔‘
سپریم کورٹ کے حکم پر جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے 2012 میں اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں پلاٹ الاٹ کیا گیا تھا۔ جہاں مسجد اور مدرسے کی تعمیر بھی شروع کر دی گئی تھی۔ تاہم ایچ الیون میں واقع جامعہ حفصہ اور متصل عمارتیں انتظامیہ نے سیل کر رکھی ہیں۔ جامعہ حفصہ سے تعلق رکھنے والی تقریباً ایک سو طالبات جمعرات کی رات لال مسجد میں داخل ہو گئیں، جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے لال مسجد کا محاصرہ کر لیا۔ ہارون کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مزید مطالبات پر بھی بات چیت جاری رہے گی۔ مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز گذشتہ دو ہفتوں سے مسجد میں موجود تھے اور اس دوران جمعے کی نماز بھی پڑھا چکے ہیں۔ معاہدے کے مطابق مولانا عبدالعزیز کے مسجد آنے جانے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
سال 2007 میں لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کے طلبہ کے پرتشدد احتجاج کے بعد یہاں فوجی کارروائی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 102 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایس ایس جی گروپ اور رینجرز کے 11 اہلکار اور مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے بھائی غازی عبدالرشید بھی شامل تھے۔ تازہ کشیدگی کے بعد انتظامیہ نے لال مسجد کے گرد خار دار تارے بچھا کر اس کو محصور کر دیا تھا۔ مسجد کے مرکزی گیٹ کے سامنے قناتیں لگا کر راستہ بند کر دیا گیا تھا۔
