لال مسجد کا پاکستان میں امارات اسلامیہ قائم کرنے کا اعلان

افغان طالبان کے کابل پر ہونے والے قبضے کے اثرات اب تیزی سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جہاں لال مسجد کے شدت پسند خطیب مولانا عبدالعزیز کے انتہا پسند پیروکاروں نے مسجد سے منسلک جامعہ حفصہ میں افغان طالبان کی امارات اسلامیہ کے جھنڈے لہرا دیے ہیں۔ مسجد کے ترجمان کے مطابق خطیب لال مسجد و مہتمم جامعہ حفصہ مولانا عبدالعزیز غازی نے لال مسجد میں نفاذِ شریعت و فتح مبین کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جلد پاکستان میں بھی افغان طالبان کے طرز پر امارات اسلامیہ قائم کر دی جائے گی۔
اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کی جانب سے اس اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2007 کے لال مسجد فوجی آپریشن کے بعد سے مسجد اور جامعہ حفصہ دونوں اب تک مولانا عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں کے قبضے میں ہیں اور پچھلے 18 برس میں ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا۔ 2007 میں لال مسجد پر قابض انتہا پسندوں کے خلاف ہونے والا فوجی آپریشن ملک گیر دہشت گردی کا نقطہ آغاز ثابت ہوا تھا جس کے بعد خودکش بم دھماکوں کی وہ خوفناک لہر آئی جس نے اگلے دس سالوں میں پاکستان کے سکیورٹی منظر نامے کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ اس آپریشن کے پانچ ماہ بعد دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی گئی جس نے پورے ملک میں دہشتگردی شروع کر دی اور ہزاروں معصوم پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لال مسجد آپریشن کے نتیجے میں وجود میں آنے والی تحریک طالبان کو شکست دینے میں ریاست پاکستان کو دس سال لگ گئے۔ لیکن امریکہ کے خلاف افغان طالبان کی 20 برس طویل جنگ جیتنے کے بعد سے اب پاکستان میں بھی طالبان کے حامیوں نے حوصلہ اور طاقت پکڑنا شروع کر دی ہے جسکا ایک مظاہرہ لال مسجد والوں کی طرف سے جامعہ حفصہ پر افغان طالبان کی امارت اسلامیہ کے جھنڈے لگانا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لال مسجد 2007 کے فوجی آپریشن اور خون خرابے کے باوجود مولانا عبدالعزیز کے قبضے میں ہے۔
جامعہ حفصہ پر افغان طالبان کی امارت اسلامیہ کے پرچم لہرانے کے عمل۔کی۔مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ایسے جھنڈے لگانے کی کسی طور اجازت نہیں ہے اور ان کو ہٹا کر ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب لال مسجد کے ترجمان حافظ احتشام نے اس بارے میں تصاویر اور ایک بیان میڈیا سے شئیر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون تھری فور میں قائم جامعہ سیدہ حفصہ میں طالبان امارات اسلامیہ افغانستان کے جھنڈے لہرا دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کے مہتمم اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے جمعہ کو لال مسجد میں نفاذِ شریعت و فتح مبین کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ لال مسجد سیکٹر جی سکس میں آب پارہ مارکیٹ کے قریب واقع ہے اور گزشتہ ایک برس سے زائد عرصہ سے اس مسجد سے منسلک سڑک کو خاردار تاریں اور سیمنٹ کے بلاکس رکھ کر بند کر دیا گیا ہے۔ مسجد میں پانچ وقت نماز ادا کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی اجتماع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو کچھ عرصہ قبل اس مسجد میں خطیب کے عہدہ سے برطرف کر دیا گیا تھا لیکن وہ اب بھی نمازِ جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں۔ جامعہ حفصہ لال مسجد آپریشن سے پہلے مسجد کے ساتھ ہی منسلک تھا اور حکام کے مطابق سرکاری زمین پر بغیر اجازت اس کی تعمیر کی گئی تھی جس کے باعث اسے منہدم کر دیا گیا تھا۔ بعد میں مدرسہ میں مقیم خواتین کے لیے عارضی طور پر سیکٹر جی سیون تھری فور میں ایک مسجد سے منسلک خالی زمین پر انتظام کیا گیا لیکن اب وہاں غیر قانونی طور پر کئی منزلہ عمارت بن چکی ہے۔ اس وقت بھی جامعہ حفصہ میں سیکڑوں طالبات مقیم ہیں۔
جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔ جامعہ حفصہ جس جگہ قائم کیا گیا ہے وہاں سرکاری ملازمین کے کوارٹرز بنے ہوئے ہیں۔ ان گھروں کو جانے والی گلیوں میں پولیس کے جوان 24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں۔ کسی کو آنے جانے سے روکا نہیں جاتا لیکن اگر کسی مقام پر جلوس جانے کا خدشہ ہو تو خاردار تاریں لگا کر راستوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔
سال 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد کا معاملہ سامنے آیا جب اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں قائم مساجد کو منہدم کرنے کے معاملہ پر لال مسجد انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان تنازع ہو گیا۔ چند دنوں میں اس تنازع نے عالمی سطح کے تنازع کی شکل اختیار کر لی جس میں اس وقت کی فوجی حکومت کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے مسجد انتظامیہ کے خلاف فوجی آپریشن کی منظوری دی۔ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی لیکن تنازع شدت اختیار کرنے کے باعث فوجی آپریشن ہوا جس میں مولانا عبدالرشید غازی سمیت مبینہ طور پر درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ اس آپریشن کے دوران کئی فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ آپریشن کے دوران مولانا عبدالعزیز کو برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ لال مسجد آپریشن کے بعد کے ایک سال میں پاکستان میں ریکارڈ 88 بم دھماکے اور خود کش حملے ہوئے جن میں 1188 افراد ہلاک ہوئے۔ مگر لال مسجد پر آج بھی انتہا پسندوں کا قبضہ ہے جو پاکستان میں بھی طالبان طرز کی امارات اسلامیہ قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
