لاپتہ افراد کے معاملے میں ریاست پاکستان ظالم ہے یا بے بس؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے کہا ھے کہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے تو ڈنکے کی چوٹ پر آئین و قانون توڑ ڈالتے ہیں،بے گناہ افراد کو علاقائی اور مسلکی تعصب کی بنا پر قتل کردیتے ہیں سیکیورٹی اداروں پر حملہ کرتے ہیں، فوجی افسروں اور دیگر ریاستی اداروں کے افسروں اور ملازموں قتل کرتے ہیں۔ لیکن ریاست پاکستان نے غیر قانونی اقدامات اور جرائم کا جواب بھی قانون کے دائرے میں رہ کر ہی دینا ہے۔ ریاست نے آئین سے انحراف کرنے والوں کے ساتھ بھی آئین کے دائرے میں ہی نبٹنا ہے اسی لئے ریاست مجبور بھی ہے اور بے بس بھی ہے لیکن ریاست پاکستان کو ھی ظالم بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اپنے ایک کالم میں مزمل سہروری کہتے ہیں کہ جب ریاست آئین وقانون سے باہر نکلے گی تو اس کا کام کتنا بھی جائز کیوں نہ ہو، کتنا ہی ملک کے مفاد میں کیوں نہ ہو کچھ لوگ دہشت گردوں اور ریاست پر حملہ آوروں کے لیے انسانی حققوق کا جھنڈا اٹھائیں گے اور ریاست پاکستان کو ظالم اور آمر ہی کہیں گے۔ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرنا شہریوں کا قانونی اور جمہوری حق ہے، لیکن دوسرے موقف پر بھی غور ضرور کیا جانا چاہیے ، اسے یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اسلام آباد میں لاپتہ بلوچوں کے حوالے سےجو احتجاج جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں آئین وقانون کے دائرے میں ان کے مطالبات کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ ریاست الزامات کی زد میں ہے اور ریاست کا اہم ترین رکن یعنی نظام انصاف خاموش ہے۔

مزمل سہروری لکھتے ہیں کہ اسلام آباد میں احتجاج کرنے والی بلوچ خواتین کا مطالبہ اورموقف ہے کہ ان کے گمشدہ اور لاپتہ پیاروں کو اول تو رہا کیا جائے، اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے تو انھیں قانون کے سامنے پیش کیا جائے، اس طرح لوگوں کو لاپتہ یا گمشدہ رکھنا قانوناً جائز نہیں۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بھی گزشتہ روز اس حوالے سے حقیقت پر مبنی بات کی ھے کہ پاکستان کا نظام انصاف دہشت گردوں کو سزا دینے کے قابل نہیں ہے۔ اے پی ایس پشاور سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت گرفتار دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے ملٹری کورٹس بنائی گئیں۔

یہ کورٹس ایک مخصوص مدت کے لیے قائم ہوئی تھیں ، اس وقت یہی توقع کی گئی تھی کہ اس دوران ملک کا سول نظام انصاف اپنے اندر ایسی اصلاحات لے آئے گا کہ وہ مصدقہ دہشت گردوں کو سزائیں دے سکے۔ یہ ملٹری کورٹس دو سال تک قائم رہیں اور پھر ختم ہو گئیں۔ لیکن اس دوران نظام انصاف جوں کا توں رہا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کو پکڑتے ہیں لیکن نظام انصاف کی کمزوریوں کی وجہ سے انھیں ریلیف مل جاتا ہے جس کی وجہ سے ریاست مشکل میں آجاتی ہے کیونکہ رہائی کے بعد یہ دہشت گرد پھر فعال ہوجاتے ہیں۔ نگران وزیراعظم کی یہ بات بھی درست ہے کہ بلوچستان میں جس طرح پنجابیوں کو مارا جا رہا ہے، اس کا ذمے دار کون ہے؟ کیا ہمارا نظام انصاف بلوچستان میں پنجابیوں کے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو سزا دے سکا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بلوچستان میں چینی باشندوں کو قتل کرنے والے کون ہیں؟

مزمل سہروری کے مطابق بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں اور ان کے مسلح گروہ کون چلا رہا ہے اور ملک کے اندر ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟ ان پہلوؤں پرکتنا کام ہوا ہے؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔اس سنگین صورتحال کے باوجود وفاق کا موقف قانون کی نظر میں کمزور ہے، انسانی حقوق کے تناظر میں بھی کمزور ہے۔ ریاست کسی شہری کو زبردستی لاپتہ کرنے کا حق نہیں رکھتی ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی قابل توجہ ہے، دنیا میں کوئی بھی ریاست دہشت گردوں، قاتلوں اور علیحدگی پسند مسلح لشکروں کو کھلا نہیں چھوڑ سکتی اور نہ ہی انھیں من مرضی کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی آڑ اور قانونی ابہام کا فائدہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہورہا ہے، نظام انصاف کی کمزوریاں بھی عیاں ہوچکی ہیں، ایسے ریاست کے کیا آپشن بچتا ہے؟ ملک بھی تو چلانا ہے۔ افغانستان سے جن لوگوں کو لاکر ملک میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے، اس سے ملک میں دہشت گردی کی لہر دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ہمارے سیکیو رٹی ادارے ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ لیکن ہم ان دہشت گردوں کو فوری سزا دینے کے قابل نہیں ہیں۔ریاست کا یہ موقف بھی ہے اور گلہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کو انتہائی جدوجہد کے بعد گرفتار کیا جاتا ہے لیکن انھیں ضمانت پر رہا مل جاتی ہے بلکہ عام مقدمات کی طرح ان کے مقدمات بھی عدالتوں میں برسوں تک زیر التوا رہتے ہیں۔ اس دوران ضمانت پر رہا یہ لوگ دہشت گردی بھی جاری رکھتے ہیں، ایسے میں ریاست کیا کرے؟ اگر دہشت گردی اور سہولت کاری کے الزام میں کسی کو گرفتار کیا جائے تو انسانی حققوق کی آڑ لے کر کچھ لوگ ریاست پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ اصولاً توان سے بھی تفتیش ہونی چاہیے کہ وہ جن معاملات میں ریاست کو ملوث کررہے ہیں، ان کے شواہد بھی پیش کریں تاکہ ملزمان کی نشاندہی ہوسکے، اگر ریاستی اداروں پر الزام لگانے والے اشخاص یا تنظموں کے عہدیدار شواہد پیش نہ کرسکیں تو ان کے محاسبے کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔

مزمل سہروری کہتے ہیں کہ پاکستان کے نظام انصاف اور ریاستی اداروں کو مل بیٹھ کر کوئی روڈ میپ تیار کرنا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کے مقدمات کی جلد سنوائی اور سزا ممکن ہوسکے، اگر ملک میں ملٹری کورٹس قابل قبول نہیں ہیں تو سول عدالتیں دہشت گردوں اور ریاست پر حملہ کرنے والے ملزمان کو ان کے جرائم کی نوعیت اور سنگینی کے مطابق سزائیں دینے کا کوئی راستہ نکالیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشت گردوں، شرپسندوں، ان کے سہولت کاروں اور فنانسرزکو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسلح لشکروں، دہشت گردوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کے سامنے ریاست بے بس اور لاچار ہو جائے تاکہ یہ لوگ ملک میں دندناتے پھریں، بے گناہ لوگوں کا قتل عام کریں، لوٹ مار کریں، فوجی تنصیبات کو نذر آتش کردیں , فوجی شہدا کی یادگاروں کو تباہ کردیں، ان کی توہین کریں۔ ہمیں ریاست کی مجبوریوں اورضرورتوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button