’’لاپتہ‘‘ سقوط ڈھاکہ اور پروفیسر وارث میر

تحریر: وارث رضا

نجانے ھم کب سے لاپتہ ہیں، ہماری شناخت ہماری شخصیت، ہمارے راہ و رسم، ہمارا شعر و ادب ،ثقافتی اکائیاں اور صحافت کہیں گم ہوچکی ہے، اور ھم سب ایسی ڈگر پر چل نکلے ہیں کہ باوجود تلاش کے ہم 72 برس سے نہ صرف اپنی پہچان سے محروم کر دیئے گئے ہیں، بلکہ بے یار و مددگار ہونقوں کی طرح ٹکر ٹکر اس امید و آس سے ایک دوجے کو دیکھے جارہے ہیں کہ شاید کوئی ہمیں منزل کی نشاندہی کرادے۔ آج کے نئے پاکستان میں اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے لیئے سراپا احتجاج پاکستانی شہریوں کو ’’ریاستی اجنبیوں‘‘ کی قطار میں کھڑا کر دیا گیا ہے، متحرک رہنے والے قلم کے دھنی صحافیوں اور لکھاریوں کو دیس کا خطرناک ناسور قرار دے کر نئی نسل کو ان بہادروں سے دور کیا جا رہا ہے، پہلے ملک کے مشرقی بازو کو لہو لہان کیا گیا، پھر اسے معتوب کر کے ’’لاپتہ‘‘ کر دیا گیا۔ جب مشرقی بازو مزاحمت سے باز نہ آیا تو اسے بے رحمی سے کاٹ دیا گیا۔ افسوس کہ 1971 سے 2021 آگیا لیکن نہایت ڈھٹائی سے پاکستان کا مشرقی بازو کاٹ دینے والے عناصر آج بھی ہائیبرڈ نظام کی آڑ میں اپنی بندوق کی طاقت بڑے کرو فر سے قائم رکھے ہوئے ہیں۔

یہ عناصر اپنے عوام دشمن بیانیئے کو آگے بڑھانے کے لیئے تحریر و تقریر اور خبر کی رسائی کے ذرائع پر کنڈلی مارے بیٹھے ہیں اور اپنے ’’نفرت بھرے زہر‘‘ سے صحافت اور جمہور کے سچ کو ڈنک مارے جارہے ہیں۔ اور تو اور، یہ عناصر اب کٹے بازو والے باقی ماندہ زخمی ملک کو چلانے کی غرض سے اس کے متفقہ جمہوری آئین ہی کو ’’ہائیبرڈ‘‘ کی اصلاح میں ’’جبری لاپتہ‘‘ کر چکے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ’’لاپتہ‘‘ کیے جانے اور ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ بنانے پر صرف سوال کر رہے ہیں مگر ہائیبرڈ نظام ہے کہ عدالتی ریمارکس کو خاطر میں ہی نہیں لا رہا یہی کچھ آج سے پچاس دہائی قبل بھی ہوا تھا، جب مغربی صحافت، درد مند اہل قلم اور شاعر و ادیب ملک کے مشرقی حصے کے زخموں سے رستے ہوئے خون کی دہائی دے رہے تھے، آج اگر ابصار عالم، حامد میر، عاصمہ شیرازی، اور مطیع اللہ جان ایسے صحافی ’’لاپتہ افراد‘‘ کے کیسز میں عدالتی ججز کی بے بسی اور کم ھمتی اور ماورائے آئین فیصلوں کا ذکر کرتے ہیں تو انہیں معتوب کر دینے کے فتاوی جاری کئے جاتے ہیں،اور جب درد مند سیاسی اکابرین ’’لاپتہ بلوچ‘‘ اور ’’گم شدہ صحافیوں‘‘ کی آواز بن کر آنے والے خطرات کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں تو بالکل پچاس برس پہلے کی طرح ان کی حقانیت کو عوام تک پہنچنے کی ہر راہ مسدود کی جارہی ہوتی ہے۔ دوسری جانب ’’ہائیبرڈ نظام‘‘ ریت میں منہ دیئے بیٹھا خطرے کو طاقت سے نمٹنے کا فرسودہ انداز اپنانے پر تلا بیٹھا ہے۔

اپنی ’’لاپتہ شناخت‘‘ کی تلاش میں میرا ارادہ تو یہ تھا کہ عامر میر کی بھیجی ہوئی پروفیسر وارث میر کی کتاب’’ ایک باغی کی کہانی‘‘ پر مفصل لکھوں گا جو کہ اب بھی مجھ پر قرض ہے، مگر چونکہ ہمارے ہاں خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں ’’لاپتہ‘‘ کرنے کے عذاب کا میں خود شکار رہا ہوں اور ہائیبرڈ نظام کا گویا ’’غدار‘‘ بھی ٹھہرا ہوں تو کیوں نا بات حامد میر اور عامر میر کے والد کی اس قلمی جدوجہد کی ہو جائے جس کی پاداش میں ہائیبرڈ نظام کے ٹھیکیدار حامد میر کو بھی بنگلہ دیش سے وفاداری اور ملک سے’’غداری‘‘ کی رسیدیں عطا کر رہے ہیں۔ہم اب تاریخ سے سبق سیکھنے کی روش کو ترک کر کے ایسے ہائیبرڈ نظام کی جانب چل دیئے ہیں کہ 16 دسمبر 71 کے سقوط ڈھاکہ کو بقول حامد میر ’’یومِ احتساب‘‘ کی صورت منانے کے بر خلاف ہم طالبان کی خون ریزی کی المناکیوں میں اپنی کوتاہیاں چھپانے پر نہ صرف تلے بیٹھے ہیں بلکہ نئی نسل کو سقوط ڈھاکہ کے دردناک پہلوئوں سے نا آشنا رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی تاریخ کا ستم ہے کہ پچاس برس قبل ملک کے مشرقی حصے سے جان چھڑانے کے لیئے ریاستی مذہبی انتہا پسندی کے تحت ’’الشمس و البدر‘‘ کے ذریعے مشرقی حصے کے بیانیئے کو مغربی حصے میں ’’غدار‘‘ بنا کر پیش کیا گیا، اور بالکل اسی طرح 16 دسمبر 2014 کی تاریخ کا انتخاب کرکے دوبارہ انتہا پسند مذھبی عناصر کے ذریعے پشاوت اے پی ایس ایسے دردناک المیئے کو نہ صرف جنم دیا گیا بلکہ اس کے مرکزی کردار پر ’’احسان‘‘ کرتے ہوئے "ہائیبرڈ نظام نے جیل کی آہنی دیواریں اور زنجیریں ریت کی بنادیں اور معصوم بچوں کا یہ قاتل اب فرار کے بعد آزادانہ زندگی گذار رہا ہے۔

سقوط ڈھاکہ کے المیئے کے چند پہلو پروفیسر وارث میر کے جنگ میں چھپے کالموں بعنوان ’’میں نے پاکستان دو لخت ہوتے دیکھا‘‘ میں بڑی صراحت کے ساتھ عامر میر نے مرتب کیئے ہیں، آج کی نسل کے لیئے ان کالموں کی چنیدہ اور ہوش ربا باتوں سے آگہی ضروری ہے تاکہ نئی نسل آج کے تمام ’’لاپتہ‘‘ افراد کے گم شدہ ہونے اور وطن پرستوں کے دکھوں سے واقف ہو۔ وہ کتنا مشکل وقت ہوگا جب موجودہ ہائیبرڈ نظام کے طاقتور خدائوں نے مئی 71 کے بعد مشرقی پاکستان کے حالات و واقعات کی خبروں سے مغربی حصے کو محروم رکھنے کے لیے آمرانہ اقدام ذریعے اخبارات پر پابندی عائد کر دی اور مغربی پاکستان کے عوام کو صرف آمرانہ فوجی بیانئے کی ’’سب ٹھیک ہے‘‘ کی لولی پوپ دی جانے لگی، تصور کیجئے کہ اس کڑے وقت نے پروفیسر وارث میر ایسے استاد میں جرات اور بہادری کی جوت جگائی اور ایک استاد اور صحافی کی حیثیت سے وہ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کا وفد لے کر دگرگوں حالات میں ڈھاکہ روانہ ہوگئے۔ تب کے حالات کی سچی تصویر کشی کی وجہ سے ہی آج بھی وارث میر تاریخ کے دھارے کا ایک معتبر فرد اور حوالہ ہے۔

ڈھاکہ ٹوٹنے کے دلسوز لمحات کی نشاندہی کرتے ہوئے وارث میر لکھتے ہیں کہ 1971 کے مارچ اپریل میں میری ملاقات ایک برطانوی ڈپلومیٹ سے ہوئی۔ تب میرے خیالات ایک مخصوص پنجابی سوچ کی نمائندگی کرتے تھے۔ برطانوی ڈپلومیٹ نے کہا انتخابات سے پہلے میں نے مشرقی پاکستان میں دیکھا تھا کہ تعلیمی اداروں کے اساتذہ سہمے ہوئے ہیں اور سیاست پر بات کرنے سے پہلے ادھر ادھر ضرور دیکھ لیتے ہیں، اس خوف و ہراس کی فضا میں کوئی کیسے توقع کر سکتا تھا کہ ووٹ مجیب کی مخالف پارٹیوں کو جاتے۔ وارث میر بتاتے ہیں کہ ہم نے جواب دیا، آپ نے ہندو اساتذہ سے بات کی ہوگی،جبکہ مسلمان کو جھوٹ بولنے اور سازش کرنے کا سلیقہ نہیں آتا۔ اس پر اس برطانوی ڈپلومیٹ نے کہا کہ یحیی نے ٹی وی پر انتقال اقتدار کا کہا ہے تو کیا ان کے ہم پیشہ ساتھی اسے ایسا کرنے دیں گے۔ اس نے جاتے جاتے یہ بھی کہا کہ ’’ آپ کے پاس یکطرفہ معلومات ہیں جو کہ حکومتی موقف ہے، آپ شیخ مجیب کے موقف کے بارے میں کیا علم رکھتے ہیں‘‘۔۔؟؟

پروفیسر وارث میر لکھتے ہیں کہ "عوامی لیگ کے خلاف فوجی کاروائی سے ایک واضح تاثر یہ تھا کہ مغربی پاکستان یعنی ’’پنجابی فوج‘‘ نے پنجابیوں اور بہاریوں کی خاطر بنگالیوں پر گولی چلائی ہے۔ وارث میر تاریخ کے حوالے یہ بات بھی کر گئے کہ "عوامی لیگ کے باغی بنگالیوں (مکتی باہنی) کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج نے جماعت اسلامی کے کارکنوں اور بعض دوسرے بنگالی نوجوانوں پر مشتمل رضا کاروں کی دو تنظیمیں البدر اور الشمس بنائی تھیں،اہم سرکاری عمارتوں،بجلی کی تنصیبات،ریڈیو اور ٹیلیویژن اسٹیشن کی حفاظت کا کام، ان تنظیموں کے سپرد تھا بلکہ بغاوت کے دنوں میں ٹریفک پولیس کا نظام بھی انہی نوجوانوں نے انجام دیا۔ وارث میر کے بقول بنگالیوں کو فوجی تربیت دکھانے خاطر ہمیں انکے کیمپ لے جایا گیا، انہی نوجوانوں میں ایک شفیق الاسلام کا بیٹا بھی تھا، نوجوانوں کے اس دستے کو لڑائی کے لیئے تیار کرنے کی ذمہ داری پاکستانی فوج کے میجر جمیل کے سپرد تھی، یہ وہی میجر جمیل تھے جو بود میں لاہور کے اردو اخبار میں ’’ابوذر غفاری‘‘ کے نام سے مضامین لکھتے رہے۔

سقوط ڈھاکہ کے یہ چند گوشے ایک استاد اور صحافت سے وابستہ اس شخص کے ہیں جس کی خدمات اور حقیقت پسندی کو خراج پیش کرنے کے لیئے بنگلہ دیش کا اعلی سول اعزاز حامد میر نے اور پاکستان میں عامر میر نے وصول کیا اور اس کی پاداش میں اب تک دونوں معتوب و غدار کے لقب سجائے وارث میر کی حق و سچ کی ڈگر سے نہیں ہٹے، سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو غدار قرار دینے، ملک دشمن بنا کر پیش کرنے یا جماعت اسلامی کے ذریعے گوادر کے حقیقی قبضے اور سرمایہ کاری کو روکنے سے مسائل حل ہو جائیں گے، کیا آج کی انفارمیشن اور سوشل میڈیا کی یلغار اور ترقی اشرافیہ کے بیانیئے کو وطن پرستی کے سرٹیفیکیٹ بانٹ پائے گی، کیا پاکستان کی عوام کو آئینی حق کی ضمانت دینے کے بجائے ان کو ’’لاپتہ‘‘ کرنے سے عوام کی جمہوری اور آئینی سوچ کو طاقت اور بندوق سے روکنا ممکن ہوگا۔۔۔؟؟ یہی کچھ کل ’’سقوط ڈھاکہ‘‘ کی صورت میں سامنے لایا اور آج کا ہائیبرڈ نظام پھر مشرقی پاکستان ایسے حالات کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے ، جس سے ہر محب وطن نہ صرف پریشان ہے بلکہ مضطرب بھی ہے۔ اس صورت حال کے سدباب کے لیئے ضروری ہے کہ عوام کو آئین کے مطابق آزادی اظہار کا جمہوری حق دیا جائے وگرنہ جمہوری وطن کے حصول کے خواب ریزہ ریزہ ہو سکتے ہیں۔

Back to top button