لاک ڈاؤن سے جرائم میں کمی لیکن سائبر کرائمز میں اضافہ

پاکستان کے مختلف علاقوں میں کرونا وائرس پھیلنے کے نتیجے میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران ڈکیتی، چوری اور قتل جیسے جرائم میں تیس سے پچاس فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے مگر سائبر کرائمز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے نت نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔
عام تاثر کے برعکس لاک ڈاؤن یا کرونا کے خوف کی وجہ سے سنگین جرائم کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ تاہم ان جرائم میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ دوسری طرف لاک ڈاؤن کے دوران سائبر کرائمز میں کافی حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کی بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ آج کل کمائی کے بیشترذرائع بند ہیں اور لوگوں نے پیسے بٹورنے کے لیے گھر بیٹھے سائبر کرائمز کے نت نئے طریقے استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ اس حوالے سے جرائم پیشہ افراد ویڈیو ایپ زوم اور دیگر ایپلیکیشنز کو استعمال کر رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف کام کرنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کی ایڈوائزری کے مطابق آجکل غیر قانونی امدادی اداروں اور طبی فراڈ کے حوالے سے سائبر کرائم میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایف آئی اے اور مالیاتی اداروں نے اقدامات کرتے ہوئے صارفین کو ہوشیار رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بھی خبردار کیا ہے کہ ‘کرونا وائرس کی معلومات کے جھانسے میں سائبر کرائم کا خطرہ ہے اس لیے لوگ پبلک وائی فائی کے استعمال سے گریز کریں۔’
دوسری طرف کراچی، اسلام آباد اور روالپنڈی کے کرائمز کے اعدادو شمار کے مطابق مارچ اور اپریل کے ابتدائی دنوں میں کرونا اور لاک ڈاؤن کے باعث جرائم کے واقعات میں واضح کمی سامنے آئی ہے۔ کیا اس کی وجہ کرونا سے موت کا خوف ہے یا موقع کی کمی؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی سہیل حبیب تاجک کا کہنا تھا کہ جرائم میں کمی کی وجہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے پولیس کی ہر جگہ ناکہ بندی بھی یے۔
اسلام آباد پولیس سے حاصل اعداد وشمار کے مطابق اس سال 12 مارچ سے 12 اپریل تک چوری کی 16 وارداتیں ہوئیں جبکہ گذشتہ برس اسی عرصے میں ایسی چالیس وارداتیں ہوئی تھیں۔ گویا ان میں 60 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ اسی طرح کار اور موٹرسائیکل چوری کی کورونا وائرس کے عرصے میں 34 وارداتیں ہوئیں جبکہ گذشتہ سال 12 مارچ سے 12 اپریل کے عرصے کے دوران ایسی 51 وارداتیں ہوئی تھیں۔ اس طرح اس جرم میں 33 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ قتل کے جرائم میں کرونا اور لاک ڈاؤن کے دوران 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اسلام آباد پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق 40 فیصد کمی آئی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پیٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے تاکہ لاک ڈاؤن کے دوران جرائم پر قابو پایا جا سکے۔ راولپنڈی پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق کرونا لاک ڈاؤن کے دوران جرائم میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 12 مارچ سے 12 اپریل 2020 کے عرصے کے دوران قتل کی 50، ڈکیتی کی 90، چوری کی 89 اور کار و موٹرسائیکل چوری کی 135 وارداتیں راولپنٖڈی میں ہوئیں۔ انہیں جرائم کے حوالے سے گذشتہ ماہ یعنی 12 فروری سے 12مارچ تک کے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قتل کی 52، ڈکیتی کی 123، چوری کی 112 اور کار و موٹرسائیکل چوری کی 247 وارداتیں ہوئی تھیں۔ اسی طرح جنوری فروری کے اسی عرصے کے دوران قتل کی 65، ڈکیتی کی245، چوری کی 186 اور کار و موٹرسائیکل چوری کی 283 وارداتیں ہوئی تھیں۔
کراچی میں سٹیزن پولیس لائزان کمیٹٰی کے ڈیٹا کے مطابق کرونا اور لاک ڈاؤن سے جرائم میں کمی ضروری آئی ہے مگر اب بھی کار چھیننے اور موبائل چھیننے جیسے واقعات جاری ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق لاک ڈاؤن اور کرونا کے پھیلاؤ سے قبل جنوری میں کار چھیننے کی 20 وارداتیں ہوئیں اور فروری میں 14 واقعات ہوئے، تاہم مارچ میں ایسے صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح کار چوری کی جنوری میں 171، فروری میں 136 جبکہ مارچ میں صرف 28 وارداتیں ہوئیں۔ کراچی شہر موبائل فون چھینے جانے کے واقعات کی وجہ سے ملک بھر میں بدنام ہے۔ یہاں پر جنوری میں فون چھینے جانے کی 1912 وارداتیں ہوئیں، فروری میں 1824 اور کورونا کی آمد کے بعد مارچ میں صرف 166 وارداتیں دیکھنے میں آئیں۔ کراچی میں جنوری میں قتل کے 30 فروری میں 18 اور مارچ میں 24 افسوسناک واقعات ہوئے۔ گویا اس جرم میں کرونا کی وجہ سے کراچی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button