مذاکرات کیلئےایران،امریکاسنجیدہ ہیں کوئی کھیل نہیں کھیل رہا،ڈونلڈٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کاکہناہے کہ امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اب لگتا ہے کہ کوئی فریق کھیل نہیں کھیل رہا یعنی سب سنجیدہ ہیں۔

نیو یارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئےامریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفدچند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا اور اگر ایسا ہو جائے تو ایران ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔

تاہم  ٹرمپ  نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ایران ان شرائط کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکا کیا قدم اٹھائے گا لیکن انہوں نےاشارہ دیا کہ صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران اعلان کرچکا ہے کہ ان کا وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں جا رہا کیوں صدر ٹرمپ سنجیدہ نہیں اور دھمکیوں سے باز آرہے ہیں اور نہ جارحیت روکی ہے۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سےہمارے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا اس پر قبضے کی کوشش کی گئی اور تاحال ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے دوسرے دور کا آغاز ممکن ہے۔

مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

Back to top button