لاک ڈاؤن میں جزوی نرمی؛ ملک میں متعدد کاروبار کھل گئے

وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کے ساتھ ساتھ کچھ نرمی کیے جانے کے بعد ملک بھر میں چند مخصوص دکانیں اور کاروبار کھل گئے۔کھلنے والے تمام کاروباروں کو کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.
چاروں صوبوں میں لاک ڈاؤن میں توسیع کردی گئی ہے جبکہ چند دکانوں اور صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے ساتھ ہی گھروں سے باہر نکلنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا جبکہ سڑکوں پر بھی ٹریفک زیادہ نظر آنے لگا۔ کھلنے والے کاروباروں میں الیکٹریشن، پلمبر، حجام، بڑھئی، درزی، پرچون اسٹورز، بیکریز ،آٹا چکی، ڈیری شاپس ،چکن اینڈ گوشت ،مچھلی ،فروٹس، سبزیاں ،تندور ،آٹو ورکشاپس ،ٹائر پنکچرز ،اسپیئر پارٹس کی دکانیں شامل ہیں۔ انہیں صبح 9 سے شام 5 بجے تک کام کی اجازت ہوگی۔اسی طرح تعمیراتی صنعتوں، برآمداتی کمپنیوں، آن لائن کام کرنے والے اداروں اور کوریئر کمپنیوں کو بھی کھولنے کی منظوری دی گئی ہے۔
کیمیکل ،سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، پروگرامنگ کمپنیوں، کال سینٹرز، ای کامرس بزنس اور لوکل ڈلیوریز کمپنیوں کو 50 فیصد عملے کے ساتھ کام کی اجازت دی گئی ہے۔کام شروع کرنے والے تمام کاروباروں کو کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، کم سے کم عملے کے ساتھ کام کرنا ہوگا، سماجی فاصلے اور ماسک، سینیٹائزر کی دستیابی بھی یقینی بنانی ہوگی۔
سندھ کے بعد پنجاب حکومت نے بھی لاک ڈاؤن بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مختلف دکانوں اور کاروباروں کو کام کی مشروط اجازت دے دی ہے۔لاہور میں چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پنجاب میں جاری لاک ڈاؤن میں 25اپریل رات12بجے تک توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں صوبے میں کورونا سے کم خطرے کا شکار شعبوں کو فوری طور پر کھولنے کی منظوری دی گئی۔ جن کاروباروں کو اجازت دی گئی ہے انہیں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، کم سے کم عملے کے ساتھ کام کرنا ہوگا اور اس دوران سماجی فاصلے کو یقین بنانا ہوگا۔ دفاتر اور دکانوں پر ماسک، سینیٹائزر کی دستیابی اوردیگر ہدایات پر عملدرآمد کرانا ضروری ہوگا۔حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق الیکٹریشن ،پلمبر ،بڑھئی، درزی، پرچون اسٹورز، بیکریز ،آٹا چکی، ڈیری شاپس ،چکن اینڈ گوشت ،مچھلی ،فروٹس، سبزیاں ،تندور ،آٹو ورکشاپس ،ٹائر پنکچرز ،اسپیئر پارٹس، پیٹرول پمپس اور آئل ڈپو صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے۔ پوسٹل کوریئر سروسز اور پک اینڈ ڈراپس کو خدمات فراہم کرنے جبکہ ریسٹورنٹس سے کھانا لے جانے اور ہوم ڈلیوری کی بھی اجازت ہوگی۔کیمیکل ،سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، پروگرامنگ کمپنیوں، کال سینٹرز، ای کامرس بزنس اور لوکل ڈلیوریز کمپنیوں کو 50 فیصد عملے کے ساتھ کام کی اجازت دی گئی ہے۔ سماجی ،مذہبی تقریبات ،میلوں،اسپورٹس فیسٹول، جم، اسنوکر کلب، شادی ہال، تقریبات، تعلیمی اداروں، دینی مدارس بند رہیں گے اورامتحانات پر پابندی رہے گی۔ تمام مارکیٹس ،شاپنگ مال ،ریسٹورنٹس، سرکاری ونجی دفاتر بند رہیں گے اور بین الاصوبائی اور ایک سے دوسرے شہر لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی رہے گی۔
دوسری طرف سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے تحت چند ضروری شعبہ جات کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ اجتماعات، تفریحات اور دیگر سرگرمیوں پر بدستور پابندی عائد رہے گی۔محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردی نوٹی فکیشن کے مطابق مختلف صںعتوں، مزدوروں کی کالونی کے حامل بڑے پیداواری یونٹس، متعدد دکانوں، آن لائن کاروبار اور کورئیر کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دھوبی، حجام، مکینک، درزی، پلمبر، الیکٹریشن، بڑھئی، کتب شاپس، ریڑھی بان ایس او پی کے تحت مشروط کاروبار کرسکیں گی، تعمیراتی صنعتیں محدود طور پر جب کہ برآمدی صنعتوں کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تصدیق اور انڈر ٹیکنگ کے بعد کام کی اجازت ہوگی، بڑی صنعتیں جن کے مزدور کالونی حدود کے اندر ہیں انہیں معائنے کے بعد کام کی اجازت ہوگی، تمام فیکٹریوں کو ایس او پیز کو فالو کرنا ہوگا۔بھٹے، بجری کی کرشنگ، شیشہ انڈسٹری کے کارخانے کھلیں گے، ہر وہ فیکٹری کھلے گی جس کی لیبر اسی فیکٹری تک محدود رہے گی۔
حکم نامے کے مطابق 13 پیداواری یونٹس اور کاروباری سرگرمیوں کو لاک ڈاؤن کے دوران سرگرمیوں کی مشروط اجازت ہوگی، آئل ریفائنریز، ایل این جی اور گیس کے پیداواری یونٹس، پیپر اور پیکیجنگ انڈسٹریز، سیمنٹ، کیمیکل اور فرٹیلائزر کمپنیاں ایس او پی فالو کرتے ہوئے پیداواری عمل شروع کرسکیں گی تاہم ان پر بھی ایس او پیز کو فالو کرنا لازمی ہوگا۔
جانوروں سے متعلق ضروری سازو سامان، زرعی آلات کی فیکٹری کھلیں گی، پودوں کی نرسریاں اور تمام ضروری ورکشاپس کھلیں گی، کیمیکلز مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، ایکسپورٹس اور لوکل سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ پروگرامنگ، مائنز اینڈ منرلز، لانڈری، ڈرائی کلیننگ، پودوں کی نرسری، زراعت کی مشینری اور آلات بنانے والی انڈسٹری، جانوروں کے اسپتال، ایکسپورٹس انڈسٹری بھی کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔پابندیوں سے مستشنی صنعتی یونٹس کو ملازمین کی آمد و رفت کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا ہوگا اور ٹرانسپورٹ کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر سےاجازت نامہ لینا ہوگا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق کورئیر سروس اور آن لائن کاروبار کو کام کی اجازت ہوگی، آن لائن کاروبار سے وابستہ 49 رجسٹرڈ اداروں کے رائیڈرز ادویات اور دیگر سامان کی ترسیل کرسکیں گے، آن لائن بزنس سے وابستہ ادارے صرف بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل کرسکیں گے، کورئیر سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں ادویات اور ریلیف کے سامان کی ترسیل کرسکیں گی تاہم تیار کھانے کی ہوم ڈیلیوری ممنوع ہوگی، رائیڈرز کو ایس او پیز فالو کرنا ہوں گے خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں، مزارات پر سرگرمیوں، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، مساجد اور عبادت گاہوں میں اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ریستوران کو تیار کھانوں کی ہوم ڈیلیوری بحال کردی گئی ہے تاہم شہریوں کو ریسٹورنٹ میں کھانے اور ٹیک اووے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اندرون شہر اور بیرون شہر ٹرانسپورٹ بند رہے گی، عوامی، کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں گی، شاپنگ پلازا، شادی ہالز سینما گھر بند رہیں گے، تمام تفریحی مقامات پر آمد و رفت بند رہے گی، ہرقسم کے عوامی، سیاسی، سماجی مذہبی تقاریب، اجتماعات پر پابندی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button