لاہور بم دھماکے کا ماسٹر مائنڈ ائیرپورٹ سے گرفتار؟


لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون کو جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے گھر کے قریب ہونے والے دھماکے کے الزام میں 24 جون کے روز ایک غیر ملکی باشندے کو دھماکے کا ماسٹر مائنڈ قرار دے کر لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے گرفتار ہونے والا پیٹر پال ڈیوڈ لاہور میں دہشت گردی کی واردات کا ماسٹر مائنڈ ہے جس کا تعلق بنیادی طور پر کراچی سے ہے اور وہ کسی غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہا تھا۔ ڈیوڈ کچھ عرصہ قبل ہی دبئی سے واپس آیا تھا جسکے بعد وہ گوجرانوالہ میں رہائش پذیر تھا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ پیٹرپال ڈیوڈ نے جوہر ٹاؤن لاہور دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بارودی مواد سے بھر کر تیار کروایا تاکہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے وقت حافظ سعید اپنی رہائش گاہ میں موجود تھے اور دھماکے سے انکے گھر کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
بتایا گیا ہے کہ ایک حساس ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے مشتبہ شخص کو لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا جو کہ کراچی فرار ہونے کوشش کر رہا تھا۔ حساس ادارے کے اہلکاروں نے ائیرپورٹ پہنچ کر اس کو فلائٹ سے آف لوڈ کروایا اور حراست میں لیا جس کے بعد ملزم کو نامعلوم مقام پر تفتیش کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب بم دھماکے کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جس کار میں دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا وہ گیارہ برس پہلے چوری ہوئی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی 23 جون کو ہی بابو صابو انٹر چینج سے لاہور شہر میں داخل ہوئی، سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے گاڑی کے شہر میں داخل ہونے کی فوٹیج حاصل کر لی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کار 23 جون کی صبح 9 بج کر 40 منٹ پر قریب داخل ہوئی۔ بابو صابو ناکے پر اس گاڑی کی باقاعدہ چیکنگ بھی کی گئی۔ چنانچہ چیکنگ کے باوجود اس کار کے دھماکے میں استعمال ہونے کے بارے میں سوالیہ نشانات کھڑے ہو گئے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا چیکنگ کے وقت گاڑی میں دھماکا خیز مواد نصب کیا جا چکا تھا یا لاہور میں داخل ہونے کے بعد اس میں دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا؟ کیس کی تحقیقات کرنے والے اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ لاہور میں داخل ہونے کے بعد گاڑی کو کسی خفیہ مقام پر لے جاکر اس میں دھماکا خیز مواد بھرا گیا ہو گا جس کے بعد اسے حافظ سعید کے گھر سے کچھ دور پارک کر دیا گیا کیونکہ پولیس ناکے کے باعث کار کا حافظ صاحب کے گھر تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی پے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کار سے نیلی شلوار قمیض میں ملبوس ایک نوجوان شخص دھماکے سے 30 منٹ پہلے باہر نکلتا ہے اور فرار ہو جاتا ہے- ذرائع کا کہنا ہے کہ کار میں موجود دھماکہ خیز مواد کو ٹائم ڈیوائس کے ذریعے اڑایا گیا۔ یاد رہے کہ جائے وقوع سے بال بیرنگ، لوہے کے ٹکڑے اور گاڑی کے پارٹس بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ تحقیقاتی اداروں کی طرف سے جیو فینسنگ کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا جبکہ دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا ہے جس میں قتل، اقدام قتل، انسداد دہشت گردی اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے ای بلاک جوہر ٹاؤن میں کارروائی کے لیے گاڑی کا استعمال کیا ، دھماکے سے گہرا گڑھا پڑگیا اور ارد گرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے۔
بتایا گیا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد سی ٹی ڈی نے مختلف شہروں مسے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق جوہرٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا سراغ بھی لگا لیا گیا ہے، یہ گاڑی 11سال قبل گوجرانوالہ سےچھینی گئی تھی۔ کار نمبر ایل ای بی 9928 چھیننے کا مقدمہ تھانہ کینٹ گوجرانوالہ میں پہلے ہی درج ہے، پولیس نے گاڑی چوری کا مقدمہ حافظ آباد کے رہائشی شکیل کے بیان پر درج کیا تھا۔ گاڑی کے مالک شکیل نے ڈرائیور منظور کو اپنے دوست کو گاڑی دینے کے لیے بھیجا تھا جب 29 نومبر 2010 کو صبح پونے 10 بجے 3 ڈاکوؤں نے ڈرائیور سے گاڑی چھین لی تھی۔

Back to top button