لاہور سیف سٹی کیمرے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹم پر منتقل


دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق لاہور سیف سٹی کے کیمروں کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اور آرٹیفیشل انٹیلی سسٹم پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب سیف سٹی کیمرے گاڑیوں کے چالان کرنے کے علاوہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تصاویر بھی بنائیں گے جبکہ کیمروں کو ایکسائز اور نادرا کے نظام بھی جوڑ دیا گیا ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت کو ممکن بنایا جا سکے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ای چالان تو کافی عرصے سے کیے جا رہے ہیں تاہم اب لاہور میں سیف سٹی کیمروں کو مکمل آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کامران خان کے مطابق سیف سٹی سسٹم ایک مربوط نظام ہے، ابتدائی طور پر اس کو شہروں کی مانیٹرنگ سے شروع کیا لیکن اس نظام میں اس سے کہیں زیادہ صلاحیت ہے، اب آہستہ آہستہ اس سسٹم کے سارے حصے عمل میں لائے جا رہے ہیں، جدید ترین کیمرے اب مکمل طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر کام کر رہے ہیں، اس وقت ہم نے ان میں تین طرح کی پروگرامنگ کر دی ہے۔
کامران خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس وقت یہ کیمرے اشارہ توڑنے والی گاڑیوں کے چالان کر رہے ہیں اور اسی طرح حد رفتار سے تجاوز کرنے والی گاڑیوں کے بھی خود کار طریقے سے چالان کرتے ہیں، اس کے پیچھے پورا الگورتھم ہے۔ کسی بھی اشارے پر اگر سرخ لائٹ کو کوئی گاڑی کاٹتی ہے، چاہے وہ ایک سے زیادہ گاڑیاں ہوں تو کیمرہ اس وقت ان سب گاڑیوں کی تصاویر لے لیتا ہے، اشارے سے پہلے سفید لائن جہاں ہوتی ہے اگر وہ مٹ بھی چکی ہے تو کیمرے کے اندر ایک ورچوئل لائن موجود ہے جو بالکل اسی جگہ پر ہے جہاں اصل لائن ہے۔ سرخ لائن آن ہوتے ہی جو گاڑیاں اس ورچوئل لائن پر ہوتی ہیں، ان کی تصاویر کیمرہ محفوظ کر لیتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس مصنوعی ذہانت پروگرام سے ایکسائز اور نادرا کے نظام بھی منسلہ کئے گے ہیں، خو چند سیکنڈ میں تمام اشارہ کاٹنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھ کر، اسی لمحے ایکسائز سے ڈیٹا لے کر اور نادرا سے ایڈریس لے کر کیمرہ چالان جاری کر دیتا ہے۔ اب یہ سسٹم مکمل خود مختار ہو چکا ہے، اور اس میں انسانی مداخلت ختم ہو چکی ہے۔
سیف سٹیی پراجیکٹ کے سی ای او کامران خان کے مطابق ہم نے ہر کیمرے کو ورچوئل فینسنگ یا جیو فینسنگ میں بھی تبدیل کر دیا ہے، 100 میٹر کے اس ورچوئل جنگلے میں کوئی بھی گاڑی گزرتی ہے تو اس کی سپیڈ بھی فوری ریکارڈ ہو جاتی ہے اگر یہ رفتار مقررہ حد سے زیادہ ہو تو اسی وقت اس گاڑی کی نمبر پلیٹ پڑھ کے کیمرہ پہلے والے عمل سے ہی چالان جاری کر دیتا ہے۔نخیال رہے کہ لاہور میں کینال روڈ کے علاوہ پورے شہر میں حد رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ کینال روڈ پر یہ رفتار 70 کلومیٹر ہے، سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق مکمل مصنوعی ذہانت پر جانے کے بعد اس وقت ای چالان کی روزانہ اوسط تعداد سات ہزار ہو چکی ہے۔

Back to top button