لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب کا تبادلہ چیلنج

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ عدالت عالیہ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی۔
مذکورہ درخواست میں وفاقی اور صوبائی حکومت، موجودہ آئی جی انعام غنی، سابق آئی جی شعیب دستگیر، ایڈیشنل آئی جی پی آپریشنز ذوالفقار حمید اور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور محمد عمر شیخ کو فریق بنایا گیا ہے۔ لیگی رہنما کی دائر کردہ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ پولیس رولز کی خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی یہ استدعا کی گئی کہ عدالت آئی جی پنجاب کے تبادلے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے جبکہ سی سی پی او لاہور کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئی جی کو تبدیل کرتے ہوئے شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کو نیا آئی جی پولیس تعینات کردیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت نے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے عہدے پر فرائض سر انجام دینے والے سینئر پولیس افسر انعام غنی کو آئی جی پنجاب کے عہدے پر تعینات کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا تھا۔ شعیب دستگیر کی آئی جی کے عہدے سے تبدیلی حال ہی میں تعینات ہونے والے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد سامنے آئی تھی۔ اس سے قبل یہ رپورٹس آئی تھیں کہ شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کو حال ہی میں لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کے تقرر پر تحریک انصاف کی حکومت کے تحت کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ان کے کسی ‘مناسب جگہ’ پر تبادلہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا، آئی جی پی کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ سی سی پی او نے مبینہ طور پر اپنے عہدے پر آنے کے بعد چند پولیس اہلکاروں سے گفتگو کے دوران چند تبصرے کیے تھے۔ اس پیش رفت سے متعلق معلومات رکھنے والے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ شعیب دستگیر نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی اور ان سے ‘کسی اور مناسب جگہ پر تبادلہ’ کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ وہ سی سی پی او کی برطرفی تک صوبائی پولیس چیف کے عہدے پر نہیں رہیں گے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ سی سی پی او کے تبصرے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے آئی جی پی مشتعل ہوئے تھے، وہ اپنے دفتر میں چند پولیس افسران سے گفتگو کے دوران ان کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں تھے۔ جیسے ہی یہ بات شعیب دستگیر تک پہنچی تو انہوں نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور وزیر اعظم عمران خان سے شکایت کی اور سی سی پی او کے تبادلے کا مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں لاہور واپسی پر آئی جی پی نے سی سی پی او کے تبادلے تک کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد ان کی تبدیلی کردی گئی تھی اور انعام غنی کو صوبے کی پولیس کا نیا سربراہ بنایا گیا تھا۔
خیال رہے کہ پنجاب میں جب 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی تو اس وقت صوبے میں پولیس کے سربراہ سید کلیم امام تھے۔ پنجاب پولیس کی ویب سائٹ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہ 11 ستمبر 2018 تک اپنے عہدے پر رہے جس کے بعد محمد طاہر کو نیا آئی جی پنجاب پولیس تعینات کردیا گیا۔ تاہم محمد طاہر ایک ماہ تک ہی اس عہدے کو اپنے پاس رکھ سکے اور 15 اکتوبر 2019 کو انہیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا اور پھر اسی روز امجد جاوید سلیمی کو یہ ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ نیشنل پولیس اکیڈمی میں بطور کمانڈنٹ فرائض سرانجام دینے والے گریڈ 22 کے پولیس افسر امجد جاوید سلیمی بھی صوبے کی ذمہ داریاں 6 ماہ ہی نبھا سکے اور 17 اپریل 2019 کو ان کا بھی تبادلہ کردیا گیا۔ اسی روز کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو ایک مرتبہ پھر آئی جی پنجاب بنا دیا گیا، وہ اس سے قبل بھی سال 2017 سے 2018 کے دوران صوبے کی پولیس کے سربراہ رہ چکے تھے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ایک مرتبہ پھر آئی جی بننے والے عارف نواز خان بھی اس عہدے پر 7 ماہ تک برقرار رہے جس کے بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا۔
اس کے بعد 28 نومبر 2019 کو شعیب دستیگر نے صوبے کے آئی جی پولیس کی ذمہ داری سنبھالی تھیں تاہم 8 اگست 2020 کو ساڑھے 9 ماہ بعد انہیں بھی تبدیل کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button