لداخ میں چین سے جھڑپ میں کرنل سمیت 3 بھارتی فوجی ہلاک

بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ میں چینی اور بھارتی فوج کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے جس کے بعد ایل اے سی کی گیلوان وادی میں بھارت اور چینی فوج کے درمیان شدید جھڑپوں میں بھارتی فوج کے کرنل سمیت 2 جوان ہلاک ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کشیدہ صورت حال کے بعد بھارت اور چین کے فوجی حکام کے درمیان صورت حال معمول پر لانے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔
انڈیا کے سرکاری بیان کے مطابق یہ تصادم وادی گالوان کی سرحد پر فوجیوں کی واپسی کے دوران ہوئی ہے۔ انڈین فوج کا کہنا ہے کہ پیر کو لداخ میں انڈیا چین سرحد پر واقع وادی گالوان میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں انڈیا کی جانب سے ایک آرمی افسر اور دو فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب چین نے انڈیا پر متنازع سرحد کو پار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
انڈین آرمی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق سرحدی کشیدگی کو حل کرنے کے لیے فی الحال دونوں ممالک کے سینئر فوجی افسران کے درمیان ملاقات ہو رہی ہے۔
اس سے قبل کئی دنوں سے ممالک کے درمیان فوجی سطح پر کئی بار بات ہوئی ہے لیکن کوئی حل نہیں نکلا ہے۔ اس سے قبل انڈیا نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے فوجیوں کی سرحد پر اپنی تعیناتی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انڈین آرمی نے منگل کو کہا ہے کہ اس کے فوجی چینی سرحد پر ایک پرتشدد جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
یہ جھڑپ دونوں اطراف کی جانب سے علاقے میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور کئی ہفتوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ہوئی ہے۔ دوسری جانب چین نے منگل کو انڈیا پر متنازع سرحد کو پار کرنے کا الزام عائد کیا ہے
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے بتایا کہ کہ انڈین افواج نے پیر کو دو مرتبہ سرحد عبور کی اور چینی افواج پر حملہ کیا اور انہیں اشتعال دلایا جس کے بعد دونوں افواج کے درمیاں جھڑپیں ہوئی۔ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے دہلی سے اس معاملے پر سخت احتجاج کیا ہے، تاہم ترجمان نے جھڑپوں میں کسی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم انڈیا سے درخواست کرتے ہیں وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے اور سرحد پر موجود افواج کو روکے۔’ ‘سرحد عبور نہ کریں، اشتعال مت دلائیں اور کوئی ایسی یک طرفہ کارروائی نہ کریں جو کہ بارڈر کی صورت حال کو پیچیدہ کرے۔’
خیال رہے کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان 3500 کلومیٹر سرحد ہے جس پر کوئی باقاعدہ حد بندی نہیں ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اکثر اوقات جھگڑا اور تناؤ معمول کی بات ہے تاہم دہائیوں سے یہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔
انڈین آرمی نے کہا ہے کہ دونوں جانب سے ‘فوجی ہلاک اور زخمی’ ہوئے ہیں تاہم بیجنگ کی جانب سے کسی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا البتہ واقعے کا ذمہ دار انڈیا کو ٹھہرایا ہے۔ دونوں اطراف کے سینیئر فوجی حکام علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
علاقے میں تعینات ایک انڈین فوجی افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے میں فائرنگ نہیں ہو رہی اور یہ کہ ہلاک ہونے والا انڈین افسر کرنل رینک کا تھا۔ انڈین افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘کوئی فائرنگ ہوئی نہ ہتھیاروں کا استعمال ہوا، یہ ایک پُرتشدد دست بدست لڑائی تھی۔’
دونوں ایٹمی ہمسایوں کے ہزاروں فوجی مئی کے مہینے سے کشیدہ ماحول میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود ہیں۔
9 مئی کو چین اور انڈیا کے درمیان جھڑپ میں دونوں کے کئی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ اس جھڑپ میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف مُکوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ ہفتے سفارتی اور فوجی حکام کے موثر رابطوں سے تازہ بارڈر ایشو حل کرنے پر ایک ‘مثبت اتفاق رائے’ ہوا تھا۔
انڈین وزارت خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک ‘فوجی اور سفارتی سطح پر سرحدی علاقے میں امن اور سکون کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button