لکی مروت میں پولیوکےکیس کی تصدیق

خیبر پختونخوا(کے پی) کےعلاقے لکی مروت میں پولیوکاایک اورکیس سامنےآگیاجونئےسال کےپہلےمہینےمیں دوسرا کیس ہےجبکہ پورےملک میں مجموعی طورپر4کیسزہوگئے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق لکی مروت میں 8 ماہ کےبچےمیں پولیووائرس کی تصدیق ہوئی ہےاوراس بچےکو حفاظتی ٹیکےنہیں لگوائےگئےتھے۔ ان کا کہنا تھا کہ8 ماہ کےبچےکےپیشاب کےنمونےقومی ادارہ صحت اسلام آباد کی لیبارٹری کوبھیجےگئےتھےجہاں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کردی گئی ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹرکےکوآرڈینیٹر عبدالباسط نےپولیس مہم کو مزید موثربنانےکی ہدایات جاری رکتےہوئےکہا کہ موثرانسداد پولیومہم میں ہربچےکوپولیوکے قطےپلانا ضروری ہےورنہ اس مرض کا خاتمہ ممکن نہیں اس لیےکوئی کوتاہی یاغفلت برداشت نہیں کی جائےگی۔
انہوں نےبچوں کےوالدین سےدرخواست کی کہ پولیو مہم میں ٹیموں کےساتھ تعاون کریں اوراپنے5سال سےکم عمربچوں کو پولیوکےقطرے ضرورپلائیں۔ آپریشن سینٹرسےجاری اعداد وشمارکےمطابق رواں سال اب تک ملک بھرمیں سامنےآنےوالے پولیوکیسزکی تعداد4 ہوگئی جن میں سے2 لکی مروت اور2 سندھ میں سامنےآئےتھے۔ سندھ میں گزشتہ ہفتے پولیو کے نئے کیسز سجاول اور ٹنڈوالہیار میں سامنے آئے تھے۔
خیال رہےکہ نئے سال کے پہلے پولیو کیس کی لکی مروت میں تصدیق ہوئی تھی جہاں ایک سالہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہوا تھا جبکہ انہیں ایک مربہ پولیوکے قطرے پلائے گئےتھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پولیو وائرس نےبچےکی دونوں ٹانگوں کومتاثر کیا جس سےان کےمعذورہونےکےعلامات نظرآرہی تھیں اوردائیں ٹانگ میں زیادہ اثرہوا تھا۔ انسداد پولیو پروگرام کےمطابق گزشتہ برس پورے پاکستان میں پولیو کے136کیسزسامنےآئےتھےجن میں سب سےزیادہ کےپی میں 96 کیسزرپورٹ ہوئےتھےجس کےبعد سندھ میں 25، بلوچستان میں11 اورپنجاب میں8 کیسزسامنےآئےتھے۔
polio list
پولیووائرس5سال سےکم عمربچوں کو متاثرکرتا ہےاوراعصابی نظام میں داخل ہوکرتاحیات معذوربناسکتا ہے۔ دنیا کےاکثر ممالک پولیو کےمرض سےچھٹکارہ پاچکے ہیں لیکن پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان دوایسےممالک ہیں جہاں اس وقت بھی پولیو کیسزمسلسل سامنےآرہے ہیں اوراس کا انسداد نہ ہوسکا۔ پاکستان تاحال پولیوسے متاثرہ ملک ہونےکےباعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد سفری پابندیوں کا شکارہےاور2014 سےبیرون ملک سفرکرنےوالےہرشہری کو پولیوسےمتعلق سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔
واضح رہےکہ 4 جنوری کو5 پولیو کیسزکی تصدیق ہوئی تھی اور2 جنوری کو مزید 6 پولیو کیسزسامنے آئے تھے لیکن ان کیسز کے نمونے2019 میں حاصل کیے گئے تھے اس لیےان کو گزشتہ سال میں شمار کیا گیا تھا۔ قومی ادارہ صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کےمتحرک ہونے کے لیے کم ازکم 3 ہفتوں کاوقت درکارہوتا ہے، لہٰذا نمونے حاصل کرنے کے3ہفتوں بعد پولیو کیس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’عین ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں تک ہم 2019 کےمزید پولیو کیسزکی تصدیق کریں‘۔
قبل ازیں 30 دسمبرکو وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخرکار اپنی ‘درست سمت پر گامزن’ ہے۔ انسداد پولیو پروگرام نےدعویٰ کیا تھا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کےدوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اورملک بھر میں 3 کروڑ96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔
یاد رہے کہ 2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھےاور2017 میں 8 پولیوکیسزمنظرعام پرآئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button