لیبیا کے عوام اب کرنل قذافی کی یاد کیوں آئی؟


حال ہی میں سامنے آنے والی پرانی خفیہ ای میلز سے پتہ چلا ہے کہ لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت کی تحریک اور پھر اسکے قتل کی سازش تیار کرنے میں فرانس نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور نیٹو ممالک کو استعمال کیا تھا کیونکہ فرانس افریقی ممالک میں اپنی مالی دھاک برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ اس سازش کا ایک اور مقصد قذافی کو سونے کی بنیاد پر افریقی خطے میں فرانسیسی اور یورپی کرنسی کی طرح مقامی مشترکہ کرنسی متعارف کرانے سے روکنا تھا کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں مغربی مرکزی بینکاری کی اجارہ داری ختم ہونے کا خدشہ تھا۔ اسکے علاوہ فرانس کی قیادت میں نیٹو افواج کی جانب سے لیبیا میں کارروائی شروع کرنےکا بنیادی مقصد لیبیا کے تیل کا زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنا تھا۔
لیکن نیٹو ممالک نے لیبیا کے وسائل پر قبضے کے لئے عرب ممالک کی حمایت سے لیبیا کے مرد آہن کرنل معمر قذافی کو تو جسمانی طور پر ختم کردیا لیکن آج 9 برس بعد کے لیبیا میں افراتفری کا راج ہے اور ایک ہی ملک میں دو متوازی حکومتوں کے سائے میں لیبیا کے عوام کرنل معمر قذافی کو یاد کر رہے ہیں۔ ان حالات میں قذافی کے بیٹے سیف الاسلام صدارتی معرکہ جیتنے کے لئے میدان سیاست میں آچکے ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ مغربی ممالک اور ان کے پروردہ عرب ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا کرنل معمر قذافی مزاحمت کی علامت بن کر آج بھی کروڑوں لیبیائی باشندوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ 18 دسمبر 2010ء کو پڑوسی ملک تیونس سے شروع ہونے والی عرب سپرنگ کے اثرات کو لیبیا پہنچنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگا۔ مطلق العنان کہلائے جانے والے حکمران کرنل معمر قذافی نے عرب سپرنگ کو سختی سے دبانے کی کوشش کی لیکن اسکے مخالف سعودی عرب، امریکہ اورفرانس کی قیادت میں نیٹو ممالک نے اس تحریک کی پشت پناہی کی جس سے یہ زور پکڑ گئی۔ جب قذافی کو اپنا اقتدار خطرے میں محسوس ہوا تو وہ جان بچانے کی غرض سے اکتوبر 2011 میں اچانک غائب ہو گئے۔ بعد ازاں ان کو باغیوں نے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا۔ پھر ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں کرنل قذافی خون میں لت پت دکھائی دیتے ہیں اور باغیوں کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اسی روز، 17 اکتوبر 2011 کے روز قذافی کو انہی کے سونے کے پستول سے فائر کر کے قتل کر دیا گیا۔ یوں ایک بغاوت کے ذریعے منظر عام پر آنے والے کرنل قذافی دوسری بغاوت کے نتیجے میں منظر سے ہمیشہ کے لیے روپوش ہو گئے۔
تاہم جس بغاوت کے نتیجے میں قذافی نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اس میں خون کا ایک قطرہ نہیں بہا لیکن 2011 والی بغاوت میں ہزاروں لیبیائی بانشندوں کے ساتھ ساتھ قذافی کا خون بھی بہہ گیا۔ ان دونوں بغاوتوں کے نتیجے میں حکومتیں بدلیں، نظام بدلے، لوگ بدلے۔ دونوں بغاوتوں کا مرکزاور مرکزی کردار ایک ہی نام تھا، معمر قذافی، جو جدید لیبیا کی تاریخ سے جڑا ہے۔ قذافی کے بڑے بیٹے سیف الاسلام اپنے باپ کے دورا قتدار میں انتہائی اثر ورسوخ کے حامل رہے تاہم بغاوت کے دوران انہیں گرفتار کرکے پہلے ان کے داہنے ہاتھ کی انگلیاں کاٹی گئیں اور پھر قید میں ڈال دیا، کچھ عرصہ قبل سیف الاسلام بھی رہا ہوکر سیاست میں پھر سے متحرک ہوچکے ہیں اور صدارتی معرکے میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں۔
شاید مکافات عمل اسی کا نام ہے کہ قذافی ایک بغاوت کے نتیجے میں مستند اقتدار پر فائز ہوئے اور دوسری بغاوت خود ان پر آ کر ختم ہوئی۔ یہ یکم ستمبر 1969 کا دن تھا۔ اس روز لیبیا کے حکمران شاہ ادریس بیرون ملک تھے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ سڑکوں، دفاتر اور گھروں میں زندگی رواں تھی۔ اچانک فوج کے 70 آفیسرز ٹینکوں سمیت بن غازی کے علاقے میں نکل آئے۔ ان کی قیادت 12 فوجی افسران پر مشمتل ایک ڈائریکٹوریٹ کر رہا تھا جسے ریوولوشنری کمانڈ کونسل یا آر سی سی کا نام دیا گیا تھا۔ معمر قذافی اس ڈائریکٹوریٹ کے ایک رکن تھے۔ آر سی سی نے ایک ایک کر کے سرکاری اداروں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیا۔ باغیوں کی اس فوجی کارروائی کے دوران ہی فوج کے دیگر اہلکار بھی باغیوں سے مل گئے، ایک کے بعد دوسرا دفتر فوج کے کنٹرول میں آتا گیا۔ صرف دو گھنٹے کی کارروائی میں لیبیا کا تمام انتظام اس آر سی سی نے سنبھال لیا۔ حسن بن ردا، جو شاہ ادریس کے خاندان کے ایک اہم رکن تھے اور ان کے جانشین کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔ ان کو دیگر شاہی امرا کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔ حیران کن طور پر اس تمام عمل کے حوالے سے عوام کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ حسن بن ردا نے تمام شاہی اختیارات چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بغیر تشدد کے نئی حکومت کو تسلیم کر لیں۔ شہری علاقوں کے نوجوانوں نے شہنشاہیت کے خلاف بغاوت پر جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجیوں کو باقاعدہ خوش آمدید کہا اور پھر استقبال کا یہ سلسلہ دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ آر سی سی نے ملک کی آزادی اور اسے خود مختار ریاست بنانے کا اعلان کرتے ہوئے لیبیا کے نئے نام لیبین عرب ریپبلک قرار دیا اور تمام عوام کو یکساں حقوق دینے کا اعلان کر دیا۔ بظاہر تو یہ ایک دن کی کارروائی تھی لیکن اس کے پیچھے ایک طویل منصوبہ بندی تھی۔
1942 میں سرت میں پیدا ہونے والے معمر قذافی بن غازی ملٹری یونیورسٹی اکیڈمی اور برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد لیبیا کی فوج میں کیپٹن کے عہدے پر بھرتی ہوئے۔ وہ پڑوسی ملک مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی بغاوت کو آئیڈئیلائز کرتے تھے، جس میں انہوں نے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا۔ تاہم لیبیا میں بغاوت کا ماحول بنانے کے لیے قذافی کو باقاعدہ مہم چلانا پڑی۔ انہوں نے فوج کے اندر ہی فری آفیسرز موومنٹ شروع کی۔ چونکہ ان کی شخصیت میں کرشمہ اور قیادت کی اہلیت موجود تھی اس لیے وہ جلد ہی فوج میں اپنا پیغام پھیلانے میں کامیاب ہو گئے۔ بغاوت کے واقعات کے بعد کی تمام معلومات شاہ ادریس تک پہنچ رہی تھیں۔ حسن بن ردا کے علاوہ خاندان کے کئی دیگر افراد بھی حراست میں لیے جا چکے تھے۔ شاہ ادریس کو اپنے خاندان کے افراد کی فکر تھی۔ انہیں صورت حال کی نزاکت کا بھی اندازہ تھا، اس لیے انہوں نے پڑوسی ملک مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی وساطت سے آر سی سی کو پیغام بھجوایا کہ مسئلے کا حل نکالنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ معمر قذافی کے گروپ کی رضامندی کے بعد جمال عبدالناصر کے ذریعے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔
شاہ ادریس نے یقین دہانی کروائی کہ وہ کبھی وطن واپس نہیں آئیں گے جس کے بعد فریقین میں ایک معاہدے کے زریعے شاہ کے خاندان کے تمام افراد کومصرجانے کی اجازت دے دی گئی۔ شاہ ادریس مصر میں مقیم ہوگئے اور 1983 میں اپنی طبعی موت مرگئے۔
7 ستمبر 1969 کو آر سی سی نے اعلان کیا کہ وہ نئی حکومت کے قیام کے لیے کابینہ تشکیل دینے جا رہی ہے۔ محمود سلیمان المغربی، جن کو 1967 میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور وہ جیل میں تھے، انہیں وزیر اعظم نامزد کر دیا گیا۔ ان کی مدد کے لیے آٹھ رکنی کابینہ کا اعلان کیا گیا جس میں چھ سویلین اور دو فوجی اراکین شامل تھے۔ اگلے روز کابینہ کو ہدایات جاری کی گئیں کہ آر سی سی کی تجویز کردہ سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ریاستی پالیسی بنائی جائے اور انہی میں سے ایک سفارش یہ بھی تھی کہ کیپٹن معمر قذافی کو کرنل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے لیبیا کا کمانڈر انچیف بنایا جائے۔ ایسا ہی کیا گیا اور کرنل قذافی انتہائی طاقتور شخصیت کے طور پر سامنے آگئے۔ کچھ روز بعد وہ ملک کے سربراہ بن گئے۔ قذافی 42 برس تک اس عہدے پر رہے اور اس دوران انہوں نے مختلف ادوار کے دوران مختلف نظام کار اپنائے۔ پہلے عرب دنیا کا ساتھ دیا پھر افریقی بلاک کے لیے سرگرم ہوئے، ان کا نام امریکہ مخالف دہشت گردوں کے سہولت کار کے طور پر بھی لیا گیا، اقوام متحدہ نے لیبیا پر پابندیاں بھی لگائیں، ان کا الگ انداز زندگی، خواتین گارڈز، خیمہ، اونٹ وغیرہ بھی خبروں میں رہے۔
اب حال ہی میں سامنے آنے والی پرانی خفیہ ای میلز سے پتہ چلا ہے کہ معمر قذافی کو اس لئے بیدردی سے قتل کیا گیا کیونکہ فرانس افریقی ممالک میں اپنی مالی دھاک برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ مذکورہ ای میلز میں اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ مغربی ممالک نے نیٹو کو معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے استعمال کیا۔ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ نیٹو کی جانب سے قذافی کا تختہ الٹنا عوام کی فلاح کیلئے کیا جانے والا اقدام نہیں تھا۔
تاہم یہ طے ہے کہ معمر قذافی کے خلاف شروع ہونے والے انقلاب اور اس کے بعد جاری رہنے والی مسلسل افراتفری نے لیبیا کو تباہ کر دیا ہے۔ افریقی ممالک میں یہ تاثر عام ہے کہ معمر قذافی کو اسلئے راستے سے ہٹایا گیا کیونکہ وہ افریقہ سے غیر ملکی استحصال کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے۔ نیٹو کی بمباری کی وجہ سے ایسے تمام گروپس جنہیں کنٹرول میں رکھا گیا تھا وہ کھل کر باہر آ گئے اور انہوں نے لیبیائی قوم کا ایک خواب چکنا چور کر دیا، یہ خواب اور اس کیلئے منصوبہ دہائیوں کی نو آبادیاتی اور اس کے بعد کے نظام کو دیکھ کر اور تجربات حاصل کرکے مرتب کیا گیا تھا۔
لیبیا کی موجودہ صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور یہ پر امن ملک بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ یاد رہے کہ لیبیا میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ بڑے قومی اتحاد یعنی جی این او کی کٹھ پتلی حکومت کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے جبکہ باغی لیڈر خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی نیشنل آرمی کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا تاہم اسے روس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل ہے۔ کئی علاقے اب بھی باغیوں اور قذافی کے حامیوں کے قبضے میں ہیں جبکہ مغربی طاقتیں دھڑا دھڑا یہاں کے وسائل لوٹ رہی ہیں۔ ترکی اور مصر بھی اپنے مفادات کے لئے فوجی کارروائیں کر چکے ہیں۔ تاہم دوسری جانب جون 2017 میں زنتان میں جیل سے رہائی کے بعد سے سیف الاسلام منظر عام سے غائب رہنے بعد ایک بار پھر منظر عام پر آئے تو ان کے حامیوں نے بے پناہ خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور انہیں صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔ خانہ جنگی کے ستائے ہوئے کروڑوں لیبیائی باشندے اب قذافی دور کو یاد کرتے ہیں اور سیف الاسلام کو اقتدار میں دیکھنے کے خواہشمند ہیں لیکن مغربی طاقتیں اور عرب ممالک قذافی کی باقیات کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

Back to top button