لینگوئج کورس سے جاپانی ملازمت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟

پاکستان اور جاپان کے درمیان معاہدے کے مطابق پاکستانی نوجوان صرف جاپانی زبان سیکھ کر نہ صرف جاپان میں آ سکتے ہیں بلکہ یہاں ملازمت بھی کر سکتے ہیں، اسی پروگرام کے تحت 65 پاکستانی نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن کو جاپان میں ملازمت فراہم کی جا رہی ہے۔2019 میں پاکستان اور جاپان کی حکومت کے درمیان ہونے والے ایک معاہدہ کے بعد رواں برس پاکستان سے 65 لوگ جاپان جانے کے لیے منتخب ہو چکے ہیں جبکہ 6 افراد جاپان پہنچ کر اچھی تنخواہوں پر نوکریاں کر رہے ہیں، باقی کے لیے نیو ٹیک یونیورسٹی کے جاپان میں موجود کنسلٹنٹ نوکریاں تلاش کرنے اور ان کے باقی کے تمام معاملات طے کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اگلے ماہ مزید 4 افراد جاپان روانہ ہو جائیں گے۔ یہ طریقہ تمام 65 طلبا کو وہاں نوکریاں تلاش کر کے دینے تک جاری رہے گا۔واضح رہے کہ اس تمام تر معاملات کے لیے سوائے لینگویج کورس کے کسی قسم کے اضافی کورس کی ضرورت نہیں۔ پاکستان سے جاپان پہنچنے اور جاپان پہنچ کر نوکری کرنے تک کسی چیز کے اخراجات نہیں ہیں۔اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے نیوٹیک یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اسکلز ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ ندیم خالد نے بتایا کہ 2019 میں معاہدہ باقاعدہ طور پر’ ٹیکنیکل انٹرن پروگرام ‘جاپان اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا کہ ہم پاکستان سے جاپان اپنے اسکلڈ ورکرز وہاں بھیجیں گے اور وہ انہیں نوکریاں دیں گے۔اب تک جاپان جانے والے طلبا اور وہاں کی انتظامیہ کی جانب سے بہت اچھا ردعمل آرہا ہے جس کے بعد وہ مزید پاکستانی افراد کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔نوکری حاصل کرنے کے خواہشمند افراد پورے ملک سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ اس کا اشتہار نیوٹیک یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے علاوہ تمام اخباروں میں بھی دیا جاتا ہے، یونیورسٹی کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی شئیر کیا جاتا ہے جس کے بعد اس میں سے تمام ذہین افراد کو منتخب کیا جاتا ہے۔کم از کم 18 سال اور زیادہ سے زیادہ 40 برس کے افراد اس پروگرام میں شمولیت کے اہل ہیں۔ یہ افراد کسی بھی شعبے سے منسلک ہو سکتے ہیں اور پاکستان کے کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس پروگرام کے لیے بآسانی اپنی آن لائن درخواست جمع کروائی جاسکتی ہے۔ٹیکنیکل انٹرن پروگرام کے لیے اعلیٰ تعلیم ہونا ضروری نہیں، کم از کم ایف اے پاس لوگ بھی اس پروگرام کے تحت جاپان جا سکتے ہیں۔ بس ان کا اپنے شعبے میں ماہر ہونا ضروری ہے پھر خواہ وہ کسی بھی انڈسٹری سے وابستہ ہوں۔واضح رہے کہ اس وقت جاپان کو 100 سے زائد شعبوں میں اسکلڈ ورکرز کی ضرورت ہے۔ اور ان میں سب سے زیادہ کنسٹرکشن، آٹو انڈسٹری، ڈے کئیر، ایگریکلچر اور آئی ٹی سے منسلک شعبوں میں قابل لوگوں کی ضرورت ہے۔اس پروگرام کے تحت پاکستانی 5 سال کی مدت کے لیے جاپان جائیں گے، وہاں پاکستان کے مقابلے میں اچھی تنخواہ پر نوکری کریں گے۔ 5 برس بعد انہیں وطن واپس آنا ہوگا اگر کوئی شخص وہاں رہنا چاہے تو وہ 5 سال کے بعد جاپان کے قوانین کے مطابق رہ سکتا ہے۔5 سالہ مدت کے دوران تمام پاکستانی اپنی کمپنیوں کے قواعد وضوابط کے مطابق پاکستان آسکتے ہیں۔
