لیگی حلقوں کی جانب سے لندن پلان کی کامیابی کے دعوے
مسلم لیگ نون کے حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لندن میں ہونے والی چند حالیہ ملاقاتوں اور مشوروں کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو رخصت کرنے کے معاملے پر اتفاق ہو گیا یے اور آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں واضح شواہد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے سابقہ موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے ان ہاؤس تبدیلی لانے پر اتفاق کرلیا ہے جس کے بعد ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔
نون لیگی حلقے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک حالیہ انٹرویو کی طرف بھی توجہ دلا رہے ہیں جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن جب بھی ہوں گے، مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف ہی ہونگے، انا کہنا تھا کہ مریم نواز چونکہ الیکشن لڑنے کے لیے نا اہل ہو چکی ہیں اس لیے ابھی وہ دوڑ میں نہیں ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عموما پارٹی کا صدر ہی وزیراعظم بھی بنتا ہے، لہذا چونکہ شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں لہذا وہی ہمارے وزارت عظمی کے اگلے امیدوار ہونگے.
یاد رہے کہ اس سے پہلے مسلم لیگ نون کے مزاحمتی کیمپ کی جانب سے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چونکہ فوری الیکشن کے حق میں ہیں اس لیے وہ کسی بھی صورت ان ہاؤس تبدیلی کے لئے راضی نہیں ہو رہے۔ دوسری جانب مفاہمتی دھڑے کا یہ موقف تھا کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں جس کے تحت موجودہ اسمبلی برخاست کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیار صرف وزیراعظم کے پاس ہے اور وہ اپنی حکومت کسی صورت ختم نہیں کریں گے لہذا اگر اگر کپتان سے جان چھڑانی ہے تو اس کا واحد راستہ ان ہاؤس تبدیلی ہے۔ نواز شریف کو یہ کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی کی صورت میں نیا وزیراعظم کچھ ماہ بعد اسمبلیاں توڑ کر دوبارہ الیکشن کا اعلان کر سکتا ہے۔ لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اگلا وزیر اعظم اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کروائے، یہ تجویز دی گئی ہے کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے۔
یاد رہے کہ ماضی قریب میں بلاول بھٹو نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے پنجاب اسمبلی، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مرحلہ وار ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے۔ اب نون لیگی حلقے بھی یہ دعوی کر رہے ہیں کہ نواز شریف اس فارمولے پر راضی ہوگئے ہیں۔ تاہم دوسری جانب مسئلہ یہ ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کے لئے ایم کیو ایم اور قاف لیگ کے علاوہ اپوزیشن کے پاس پیپلز پارٹی کی حمایت ہونا بھی لازمی ہے۔ ماضی میں اگر یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی سے سینٹ کی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے تو اس کی بنیادی وجہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا اکٹھے ہو کر چلنا تھی جبکہ انہیں درپردہ جہانگیر ترین گروپ اور قاف لیگ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ لیکن اب صورت حال تھوڑی تبدیل ہوتی اس لیے نظر آتی ہے کہ حال ہی میں آصف زرداری نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے نواز شریف اور نون لیگ پر سنگین الزامات عائد کر دیے تھے جس کے بعد سے دونوں جماعتوں کے مابین تعلقات خراب ہیں۔
جب شاہد خاقان عباسی سے آصف زرداری کے سخت بیان بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے مابین پہ ڈی ایم اتحاد سے علیحدگی کے بعد فاصلے تو موجود ہیں لیکن یہ فاصلہ اتنے زیادہ نہیں کہ وقت آنے پر سمیٹے نہ جا سکیں۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ نظام آئین کے مطابق نہیں اس لیے عدم اعتماد لانا مشکل ہوتا ہے، کسی کو کہیں سے فون آجاتے ہیں اور کسی کو کوئی لے جاتا ہے۔ لیکن مجھے سیاست میں 34 برس ہو گئے ہیں لہذا اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پیچھے سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کے عدم اعتماد کا راستہ بند ہونے پر اپوزیشن استعفے بھی دے سکتی ہے، لیکن ہم سگنل لے کر چلنے کے خلاف ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے اعلان کردہ 23 مارچ کے لانگ مارچ کے آغاز کے بعد وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی لائی جا سکتی ہے۔
