عدالت عظمیٰ سے مایوس ہوکر شوکت صدیقی نے وکالت شروع کردی
بحالی کیس میں سپریم کورٹ کے تیور دیکھتے ہوئے تین سال تک اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج کے عہدے سے برطرفی کے اپنے کیس کی پیروی کرنے کے بعد شوکت عزیز صدیقی نے بالآخر وکالت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال 24 نومبر کو سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بطور وکالت لائسنس بحال کیا تھا تاہم اسوقت جسٹس صدیقی نے اعلان کیا تھا کہ چونکہ وہ بطور وکیل سپریم کورٹ میں بھی پیش ہوں گے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ پہلے ان کی برطرفی اور پینشن سے متعلق کیس کا فیصلہ آجائے جائے تاکہ وہ سرخرو ہو کر مستقبل قریب میں سپریم کورٹ کے ججز کا بطور وکیل سامنا کریں۔ تاہم جسٹس ر شوکت عزیز صدیقی نے اپنے کیس کی حالیہ سماعتوں میں ججز کے تیور دیکھتے ہوئے روزی روٹی چلانے کے لیے فوری طور پر وکالت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ بطور وکیل وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہو سکیں گے کیونکہ وہ اس عدالت میں بطور جج خدمات انجام دے چکے ہیں۔
شوکت عزیز صدیقی نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ، تمام ہائی کورٹس اور شریعت کورٹ میں اپنے مؤکلوں کے مقدمات کی پیروی شروع کر رہے ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ میں 13 دسمبر سے وکیل کی حیثیت سے اپنی پریکٹس دوبارہ شروع کر رہا ہوں۔ ہائی کورٹ کے معزول جج نے کہا کہ انہوں نے اپنے مؤکلوں کے بہت سے کیسز لیے ہیں اور ان کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ جج بننے سے پہلے میں ایک کامیاب وکیل تھا اور مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی پریکٹس دوبارہ شروع کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے بطور جج 7 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے، بطور وکیل 23 سال اور سپریم کورٹ میں شکایت کنندہ کے طور پر تقریباً ساڑھے تین سال کا تجربہ ہے۔ شوکت عزیز صدیقی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنا دفتر بھی قائم کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ایف الیون میں رہتا ہوں، اس لیے میں اپنے گھر کے قریب اپنا دفتر بنا رہا ہوں۔ جج بننے سے پہلے شوکت عزیز صدیقی راولپنڈی کے علاقے گوالمنڈی میں رہائش پذیر تھے۔
خیال رہے کہ تین سال قبل سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اداروں کے خلاف متنازع تقریر کے معاملے پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔عہدے سے ہٹائے جانے پر سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رد عمل دیا تھا کہ میرے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں، تقریبا 3 سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پر شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرنس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہ ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا، جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا۔یاد رہے کہ 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔اپنے خطاب کے دوران بغیر کسی کا نام لیے انہوں نے الزام لگایا کہ ’مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا۔
اس کے بعد 22 جولائی کو چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔22 جولائی کو ہی پاک فوج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ریاستی ادارے پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد یکم اگست 2018 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور پہلی سماعت پر ہی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انہیں بطور جج معزول کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا۔
