بھارت اور اسرائیل کی پاکستان مخالف ایک اور خفیہ سازش بے نقاب

حالیہ دنوں منظرِ عام پر آنے والی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں نے خطے کی سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف صحافیوں اور مبصرین کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” نے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں تیزی لاتے ہوئے بی ایل اے سمیت بعض دیگر بلوچ علیحدگی پسند عناصر کے ساتھ رابطے مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف اقوام متحدہ کی سطح پر عائد ممکنہ پابندیوں کو روکتے ہوئےپاکستان کے لیے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت کے حوالے سے منفی سفارتی ماحول پیدا کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اپریل میں برطانیہ میں ہونے والی ابتدائی مشاورت کے بعد مئی 2026 کے آخر میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔اس اجلاس میں "را” اور "موساد” کے نمائندوں نے بلوچ علیحدگی پسند قیادت کے بعض ارکان سے ملاقات کی۔ان رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک بین الاقوامی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا گیا تاکہ امریکا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں سفارتی سطح پر اثرورسوخ بڑھایا جا سکے اور بی ایل اے کے خلاف ممکنہ بین الاقوامی کارروائیوں کی مخالفت کی جا سکے۔
رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض بلوچ علیحدگی پسند حلقوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ روابط میں اضافہ کریں تاکہ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جی ایس پی پلس سہولت متاثر ہوتی ہے تو اس کے پاکستان کی برآمدات اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ یورپی یونین پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہے۔
خیال رہے کہ یہ تمام دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جی ایس پی پلس کے نئے ضوابط اور آئندہ تعاون کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں دونوں فریقین نے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب بی ایل اے کو امریکا سمیت متعدد ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر اس تنظیم کے خلاف مزید اقدامات اور ممکنہ پابندیوں پر بھی بحث جاری ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ان دعوؤں اور رپورٹس کے حوالے سے بھارت، اسرائیل یا مبینہ طور پر نامزد لابنگ فرم کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ان الزامات کے حق میں آزاد اور قابلِ تصدیق شواہد بھی عوامی سطح پر پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل مستند شواہد، سرکاری مؤقف اور آزاد ذرائع سے تصدیق کا انتظار ضروری ہوتا ہے۔
