آن لائن پروپیگنڈا،کالعدم بلوچ تنظیمیں نوجوانوں کو کیسے ورغلانے لگیں؟

ڈیجیٹل دور میں جنگ اور تنازعات کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آج محاذ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خفیہ چیٹ ایپس اور آن لائن نیٹ ورکس بھی نظریاتی کشمکش اور اثر و رسوخ کی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ بلوچستان میں شدت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کو آن لائن ذرائع کے ذریعے متاثر کرنے کے دعووں نے اس پیچیدہ اور تشویشناک مسئلے کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے رابطوں اور معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، لیکن اسی سہولت کو بعض شدت پسند عناصر نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جذباتی پیغامات، مخصوص بیانیے، شناخت اور محرومی کے احساسات کو ابھارنے والی مہمات اور خفیہ رابطوں کے ذریعے بعض افراد کو اپنے نظریات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ انتہاپسند گروہ روایتی بھرتی کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں نوجوانوں کے جذبات، سماجی مسائل، ذاتی مشکلات یا شناخت کے بحران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ابتدا میں ہمدردی، دوستی یا نظریاتی وابستگی کا تاثر دیا جاتا ہے اور بعد میں انہیں مزید گہرے رابطوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بلوچستان کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات اور دعووں میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض شدت پسند عناصر نوجوانوں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے متاثر کر رہے ہیں۔ ان دعووں کے مطابق نوجوانوں کو مختلف پیغامات اور نظریاتی مواد کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ تشدد یا غیرقانونی سرگرمیوں کو ایک جائز راستہ سمجھیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس عمل میں جذباتی استحصال ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔ بعض متاثرہ افراد کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں سماجی، نفسیاتی یا جذباتی کمزوریوں کے دوران نشانہ بنایا گیا اور ایسے وعدے کیے گئے جو حقیقت سے مختلف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک میں اب شدت پسندی کے خلاف حکمت عملی صرف سیکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی، تعلیمی اور سماجی پہلوؤں کو بھی شامل کرتی ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نوجوانوں کو آن لائن دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنما اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، ڈیجیٹل آگاہی اور معلومات کی جانچ پڑتال کی صلاحیت پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ طلبہ کو سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی استعمال کے بارے میں آگاہ کریں۔ اسی طرح والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب توجہ دینی چاہیے تاکہ کسی بھی مشکوک یا خطرناک رابطے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

دفاعی ماہرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خود مسئلہ نہیں بلکہ ان کا غلط استعمال خطرات کو جنم دیتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، مثبت مواقع اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے تو وہ گمراہ کن بیانیوں اور انتہاپسند نظریات کے اثرات سے زیادہ محفوظ رہ سکتے ہیں۔

آج کے دور میں شدت پسندی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار صرف طاقت نہیں بلکہ شعور، تعلیم اور درست معلومات ہیں۔ یہی عناصر نوجوان نسل کو آن لائن پروپیگنڈا، جذباتی استحصال اور انتہاپسند بیانیوں سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Back to top button