بجٹ بارے PPPکی ناراضی،حکومت کیلئےخطرے کی گھنٹی کیوں؟

وفاقی بجٹ 2026-27 کی آمد کے ساتھ پاکستان کی سیاسی فضا ایک مرتبہ پھر گرم ہو گئی ہے۔ اگرچہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے، لیکن حکمران اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نے بجٹ سے زیادہ سیاسی استحکام کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔بظاہر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بجٹ منظور کرا سکتی ہے؟ لیکن حقیقت میں اس سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پاکستان کی اتحادی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ حکمران اتحاد کے پاس مجموعی طور پر اتنی نشستیں موجود ہیں کہ وہ چند اضافی ووٹ حاصل کرکے بجٹ منظور کرا سکتا ہے۔ اسی لیے آئینی اور قانونی اعتبار سے حکومت کے لیے پیپلز پارٹی کے بغیر بجٹ منظور کرانا ناممکن نہیں۔تاہم اصل چیلنج پارلیمانی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔
پیپلز پارٹی گزشتہ دو برس سے وفاقی حکومت کی سب سے اہم اتحادی رہی ہے۔ اگرچہ وہ کابینہ کا حصہ نہیں، لیکن اس نے حکومت سازی، آئینی ترامیم اور اہم قانون سازی میں مسلسل مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا ہے۔ اگر بجٹ جیسے بنیادی قومی معاملے پر دونوں جماعتوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک مالیاتی دستاویز پر اختلاف نہیں ہوگا بلکہ اتحادی سیاست کے پورے ڈھانچے کے لیے خطرے کی علامت سمجھا جائے گا۔اس وقت پیپلز پارٹی کے تحفظات بجٹ تجاویز، وسائل کی تقسیم اور بعض معاشی فیصلوں سے متعلق بتائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی اہداف اور معاشی دباؤ کے باعث اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کے لیے زیادہ گنجائش نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے کئی دور ہونے کے باوجود اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت بجٹ منظور کرا بھی لیتی ہے تو اس کے بعد اسے متعدد اہم محاذوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی ایک بڑی قوت ہے، جبکہ سندھ میں بھی اس کی حکومت موجود ہے۔ این ایف سی ایوارڈ، بین الصوبائی معاملات، ترقیاتی فنڈز اور وفاقی پالیسیوں پر تعاون جیسے معاملات میں پیپلز پارٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔مزید یہ کہ حکومت سازی کے وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو سیاسی مفاہمت طے پائی تھی، وہ بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں جماعتیں بجٹ جیسے اہم معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نہ رہیں تو صدرِ مملکت، گورنر شپ اور دیگر انتظامی عہدوں سے متعلق سیاسی بحث بھی شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت کے لیے ایک اور چیلنج اپوزیشن کی سیاست ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات مزید کشیدہ ہوتے ہیں تو حکومت کو نہ صرف تحریک انصاف بلکہ ایک ناراض اتحادی جماعت کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے کے باوجود حکومتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ موجودہ اختلافات مکمل علیحدگی کی طرف نہیں بلکہ زیادہ سیاسی دباؤ حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بجٹ مذاکرات کے ذریعے اپنے سیاسی اور معاشی مطالبات منوانا چاہتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے مالیاتی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔بہر حال آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر بجٹ سے پہلے دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی مفاہمت ہو جاتی ہے تو اتحادی حکومت مزید مضبوط ہو سکتی ہے، لیکن اگر اختلافات برقرار رہے تو بجٹ کی منظوری کے باوجود سیاسی عدم استحکام کی نئی بحث جنم لے سکتی ہے۔اسی لیے موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ نہیں کہ بجٹ منظور ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بجٹ کے بعد حکمران اتحاد پہلے جیسا برقرار بھی رہے گا یا نہیں۔
