گلگت کا انتخابی معرکہ، اقتدار کا تاج کس کے سر سجے گا؟

گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ 7 جون کو ہونے والے انتخابات نہ صرف خطے کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ وفاقی سیاست کا اثر اب بھی گلگت بلتستان کے ووٹروں پر غالب ہے یا عوام اس بار کوئی نیا سیاسی راستہ اختیار کرنے جا رہے ہیں۔

انتخابی میدان میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار سرگرم ہیں، جبکہ تحریک انصاف انتخابی نشان نہ ملنے کے باعث آزاد امیدواروں کے ذریعے قسمت آزما رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار مقابلہ گزشتہ انتخابات کی نسبت زیادہ دلچسپ اور غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔

انتخابی مہم میں وفاقی سطح کی بڑی سیاسی شخصیات نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے طویل عرصے بعد گلگت بلتستان کا رخ کیا اور مختلف حلقوں میں جلسوں سے خطاب کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ متعدد انتخابی دورے کیے اور گلگت سے اسکردو تک کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر 664 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مخصوص نشستوں سمیت اسمبلی کی مجموعی تعداد 33 بنتی ہے۔ تقریباً 9 لاکھ 63 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز اس انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں، جو خطے کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہاں وفاقی حکومت کے اثرات ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ ماضی کے تینوں انتخابات میں وہی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جو اسلام آباد میں اقتدار میں تھی۔ 2009 میں پیپلز پارٹی، 2015 میں مسلم لیگ (ن) اور 2020 میں تحریک انصاف نے اسی روایت کے تحت حکومت قائم کی۔

اس تاریخی پس منظر کے باعث اس بار بھی مسلم لیگ (ن) کو ایک اہم برتری حاصل دکھائی دیتی ہے کیونکہ وفاق میں اس کی حکومت موجود ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی بھی بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے سخت مقابلہ کر رہی ہے اور کئی حلقوں میں اسے مضبوط پوزیشن حاصل ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات صرف جماعتی سیاست تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہاں برادری، خاندانی تعلقات، مقامی شخصیات، مذہبی وابستگیوں اور علاقائی شناخت کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں شخصی ووٹ کسی بھی سیاسی جماعت کے ووٹ بینک پر بھاری پڑ سکتا ہے۔

ایک اور اہم عنصر تحریک انصاف کے ووٹرز ہیں، جو بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرتے ہیں تو کئی حلقوں میں نتائج توقعات کے برعکس بھی آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی بھی پہلی مرتبہ نسبتاً منظم انداز میں میدان میں موجود ہے اور بعض حلقوں میں اس کی موجودگی روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ انتخابی منظرنامے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سب سے مضبوط قوتیں دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی، جس کے باعث انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کا امکان بھی خاصا روشن ہے۔

گلگت بلتستان کے باشعور اور تعلیم یافتہ ووٹرز کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ صرف نعروں پر نہیں بلکہ کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے امکانات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 7 جون کا انتخابی معرکہ محض نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ خطے کی آئندہ سیاسی، معاشی اور ترقیاتی سمت کا فیصلہ بھی ہوگا۔

اب تمام نظریں پولنگ ڈے پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا ماضی کی روایت برقرار رہتی ہے اور وفاق میں برسرِاقتدار جماعت دوبارہ گلگت بلتستان میں حکومت بناتی ہے یا پھر ووٹرز کوئی ایسا فیصلہ کرتے ہیں جو خطے کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو۔

Back to top button