مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے معاملے میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کےخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے اداکارہ مومنہ اقبال کی شکایت پر رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کےخلاف سائبر ہراسگی،بلیک میلنگ،نازیبا مواد کی تشہیر، غیرقانونی نگرانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
دستاویزات کےمطابق شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیاکہ ملزم ثاقب چدھڑ نے شادی کی پیشکش مسترد ہونے کےبعد مبینہ طور پر اسے ہراساں کرنا شروع کردیا۔ شکایت میں الزام عائد کیاگیا کہ ملزم نے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے،کردار کشی کی کوشش کی اور مختلف ذرائع سے بلیک میلنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
شکایت کےمطابق خاتون کی مبینہ نازیبا ویڈیوز اور نجی معلومات اس کی رضامندی کےبغیر مختلف افراد تک پہنچائی گئیں،جس سے اس کی ذاتی زندگی اور ساکھ متاثر ہوئی۔این سی سی آئی اے نے انکوائری کےدوران شکایت کنندہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کیے جب کہ ڈیجیٹل شواہد، موبائل فونز اور دیگر آلات فرانزک جانچ کےلیے بھجوا دیےگئے۔
حکام کےمطابق ابتدائی تکنیکی تجزیے میں بعض شواہد سامنے آئےہیں جن کی بنیاد پر پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی 2025) اور دیگر متعلقہ قوانین کےتحت مقدمہ درج کیاگیا۔
این سی سی آئی اے کاکہنا ہےکہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ،شواہد اور قانون کےمطابق کی جائے گی جب کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
