گوادر دھرنے پر کپتان ٹویٹ کرنے کے بعد خاموش کیوں؟

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں 4 ہفتوں سے جاری عوامی مظاہروں اور دھرنے کا دباؤ محسوس کرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں یہ دعویٰ تو کردیا کہ گوادر کے محنت کش مچھیروں کے جائز مطالبات پر کاروائی ہوگی، لیکن عملا اب تک کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہو پائی لہٰذا دھرنا اور مظاہرے جاری ہیں۔
خیال رہے کہ گوادر کو حق دو تحریک کے زیر انتظام 28 روز سے دھرنا جاری ہے جس کے مجموعی 19 مطالبات میں شہر سے سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کا خاتمہ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور غیر قانونی فشنگ کی روک تھام کے مطالبے شامل ہیں۔ بلوچستان حکومت نے پہلے تو دھرنا مظاہرین سے کوئی بات ہی نہیں کی لیکن جب شہر میں بڑے بڑے جلوس نکلنے لگے تو گوادر کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت اللہ اور انکے ساتھیوں کے خلاف مقدمات درج کر لئے گے جس پر مظاہروں میں اور بھی شدت آگئی۔ اب صورت حال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ گوادر کے مچھیروں کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے کارروائی کریں گے اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی بات کریں گے۔
دوسری جانب گوادر کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت اللہ نے ایک جوابی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ‘ہم ضدی لوگ نہیں ہیں اور مسئلے کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس بھینلیا ہے لیکن مجھے اچھے کی توقع ہے حالانکہ ماضی میں انہوں نے جس معاملے کا بھی نوٹس لیا ہے وہ لٹک گیا ہے اور خراب ہوا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے 28 دن سے جاری تحریک کا نوٹس لیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا گیا کہ گوادر کے سمندر میں بڑے ٹرالرز کے ذریعے غیر قانونی فشنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور وزیر اعلی بلوچستان سے بھی بات کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں ختم کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔
وزیر اعظم کی جانب سے نوٹس لینے کی ٹویٹ کے بعد ابھی تک کوئی عملی کاروائی نہیں ہوئی اور دھرنا جاری ہے۔ تاہم گوادر کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا یے کہ صوبائی حکومت ہمارے مطالبات جائز مانتی ہے جس کا اظہار صوبائی وزرا بارہا کرچکے اور کچھ نوٹیفیکیشنز بھی جاری کیے گئے مگر ان پر عملدرآمد نہیں کروایا جا سکا۔’ واضح رہے کہ 15 نومبر سے جاری اس تحریک کے زیر انتظام دھرنے کے دوران گوادر شہر میں تین بڑی ریلیاں نکالی گئی تھیں جن میں خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت کی تھی۔ ان میں سب سے اہم مطالبات بلوچستان کی سمندری حدود سے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر عائد پابندی کا خاتمہ ہے۔
گوادر کی معروف سیاسی شخصیت حسین واڈلیہ جو اس تحریک کا حصہ ہیں کہتے ہیں کہ ‘دیر آید درست آید کے مصداق ہم وزیر اعظم صاحب کے بیان کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن گوادر کے لوگ اب عملی اقدامات چاہتے ہیں’۔
لیکن ان کا گلہ تھا کہ وزیر اعظم نے اس اہم مسئلے کا ذکر نہیں کیا جس کا حل صرف وفاق کے پاس ہے۔حسین واڈیلہ نے کہا کہ وزیر اعظم کو چاہیے کہ ٹوکن کے نام پر سرحدی تجارت پر جو پابندیاں ہیں ان کا بھی نوٹس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں غیرقانونی ماہی گیری کو روکنا بڑی حد تک بلوچستان حکومت کا کام ہے لیکن جہاں تک سرحدی تجارت بند ہونے سے لوگوں کی متاثر ہونے کی بات ہے تو وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر سرحدی اضلاع کے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب وہاں معاش اور روزگار کے دیگر ذرائع نہیں ہے تو پھر صدیوں سے جاری سرحدی تجارت کو پہلے کی طرح بحال کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کا انتظام وفاقی حکومت کے اداروں کے پاس ہے اس لیے وزیر اعظم کو چاہیے کہ انھوں نے ٹوکن کے نام پر وہاں جو پابندیاں یا رکاوٹیں کھڑی کی ہیں ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ:شہباز شریف ، حمزہ شہباز مرکزی ملزم نامزد
انھوں نے کہا کہ ٹوکن سے قبل جو سرحدی تجارت ہو رہی تھی اس سے عام آدمی بھی مستفید ہورہا تھا لیکن اب ان کے بقول ٹوکن سسٹم سے صرف وفاقی اداروں کے منظور نظر لوگوں اورگروہوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘حکمران یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی ہورہی ہے ۔لیکن گوادر میں جو احتجاج ہورہا ہے اس میں تو ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا ۔ حکومت کو تو ان پر امن احتجاج کرنے والوں کی بات کو تو مان لینی چاہیے۔‘حسین واڈیلہ نے احتجاج ختم نہ کرنے کے حوالے سے بتایا کہ گوادر کے لوگ اب عملی اقدامات چاہتے ہیں اور صرف نوٹیفیکیشن نہیں۔
