تعلیم یافتہ بلوچ خواتین خودکش بمبار کیوں بن رہی ہیں؟

بلوچستان میں علیحدگی کے لیے سرگرم بلوچ لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والی تعلیم یافتہ نوجوان طالبات کے مسلسل خودکش حملوں نے سیکیورٹی اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ یہ سلسلہ تھمنے کی بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچ قوم پرستوں کے شورش کے دوران خواتین حملہ آوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ماضی کی روایتی عسکری حکمت عملی سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ رجحان تصور کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کی جانب سے خودکش حملہ اس سلسلے کا سب سے نمایاں واقعہ تھا، تب ایک تعلیم یافتہ خاتون شاری بلوچ نے چینی لینگویج انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف ملک بھر میں تشویش پیدا کی بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کس طرح شدت پسند تنظیموں کے نظریاتی دائرہ اثر میں آ جاتی ہیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے نے گزشتہ چند برسوں میں خواتین کو اپنی کارروائیوں میں شامل کرنے کی باقاعدہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کے مطابق تنظیم یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ خواتین کی شمولیت اس کے نظریاتی بیانیے کی وسعت اور عوامی حمایت کی علامت ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بلوچ قوم پرستی، مقامی سیاسی شکایات، معاشی محرومیوں کا احساس اور بعض خاندانوں میں پائے جانے والے احتجاجی جذبات ایسے عوامل ہیں جن سے شدت پسند گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ عوامل اکیلے کسی شخص کو خودکش حملہ آور نہیں بناتے بلکہ منظم نظریاتی تربیت، مسلسل ذہنی اثراندازی اور تنظیمی رابطے اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں سوشل میڈیا، خفیہ رابطوں اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ بعض معاملات میں خواتین کو پہلے تنظیمی سرگرمیوں، پیغام رسانی اور بھرتی مہمات میں شامل کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں زیادہ خطرناک ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ ادھر بلوچستان میں بی ایل اے، تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ سے منسلک بعض عناصر کے درمیان تعاون سے متعلق رپورٹس نے سیکیورٹی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق مختلف شدت پسند نیٹ ورکس کے درمیان روابط دہشت گرد تنظیموں کو وسائل، تربیتی سہولتوں اور افرادی قوت کے تبادلے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مختلف شدت پسند گروہ ایک دوسرے کے تجربات اور نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھائیں تو انہیں بارودی مواد، اسلحے، مالی معاونت اور بھرتی کے زیادہ مؤثر ذرائع میسر آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے والی مہمات مزید منظم ہو سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کا کیس بھی زیر بحث رہا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارچ 2026 میں ایک خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنائی گئی جس میں لائبہ کا نام سامنے آیا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ شدت پسند عناصر کے رابطے میں آ چکی تھی اور اسے نہ صرف خودکش کارروائی بلکہ دیگر نوجوان خواتین کی بھرتی کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسی طرح رحیمہ بی بی اور خاتون خودکش بمبار زرینہ رفیق سے متعلق سامنے آنے والی تحقیقات نے بھی مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان ممکنہ روابط کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا۔ حکام کے مطابق بعض معاملات میں سرحد پار تربیتی رابطوں اور سہولت کاروں کے کردار کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ہونا باقی ہے۔
سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں خواتین خودکش حملہ آوروں کا رجحان زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی چند شدت پسند تنظیموں میں دیکھا گیا تھا، تاہم اب بلوچستان میں اس حکمت عملی کا استعمال ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد سیکیورٹی اداروں کے لیے غیر متوقع چیلنجز پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے اب تک بی ایل اے سے منسلک درجن بھر خواتین خودکش حملے کر چکی ہیں۔ ان میں کراچی یونیورسٹی حملے کے علاوہ تربت، بیلہ اور کلات میں ہونے والی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ان حملوں کی مجموعی تعداد محدود ہے، لیکن ان واقعات کی علامتی اور نفسیاتی اہمیت بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
موٹروے گینگ ریپ کیس 6 برس بعد دوبارہ سرخیوں میں کیوں؟
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بلوچ خواتین کی ایک بہت بڑی اکثریت تعلیم، روزگار، سماجی ترقی اور پرامن سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔ چند شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں کو پورے بلوچ معاشرے یا بلوچستان کی خواتین کی نمائندگی قرار دینا حقائق کے منافی ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نوجوانوں میں شعور اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا، خواتین کو معاشی اور سماجی مواقع فراہم کرنا، تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام شروع کرنا اور آن لائن انتہا پسند پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خطے میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کا باہمی تعاون ایک طویل المدتی سیکیورٹی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لائبہ عرف فرزانہ، رحیمہ بی بی اور دیگر کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں اور خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مقابلہ سیکیورٹی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی سطح پر مربوط اور جامع حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
