مجبوری کے تحت مختصر لباس پہننے والی شوبز خواتین سے ہمدردی ہے،

اداکارہ ومیزبان وینا ملک کا کہنا ہے کہ انہیں افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے فنکاروں پر پابندیاں عائد کرنے یا وہاں کی خواتین کے بجائے دنیا کی مختلف شوبز انڈسٹریز میں مجبوری کے تحت انتہائی مختصر لباس پہننے والی خواتین سے ہمدردی ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے‘ (ڈی ڈبلیو) اردو کو دیے گئے انٹرویو میں وینا ملک نے واضح کیا کہ طالبان نے افغانستان پر قبضہ نہیں کیا بلکہ وہ ان کا اپنا ملک تھا اور انہوں نے وہاں حکومت بنائی ہے۔

اداکارہ و میزبان کے مطابق افغانستان بھی طالبان ہی سے تعلق رکھتا ہے اور طالبان نے اپنا ملک حاصل کرنے کے لیے 20 سال تک جنگ لڑکی اور انہیں نہیں لگتا کہ طالبان کے احکامات سے وہاں کے لوگ نہ خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت میں آنے کے بعد اگر کوئی بھی قوائد و ضوابط نافذ کریں گے تو وہاں کے لوگ انہیں خوشی خوشی قبول کریں گے اور یہ کہ تاحال وہاں طالبان کے احکامات کے خلاف کوئی مزاحمت بھی نظر نہیں آ رہی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کی جو برقعے میں تصاویر ہیں وہ کسی مجبوری کے تحت نہیں کھینچی گئیں بلکہ وہ بچپن سے اپنی مرضی کے مطابق پردہ کرتی آ رہی ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی باہر جاتی ہیں تو برقع پہن کر جاتی ہیں اور وہ پردے میں خود کو محفوظ کرتی ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے وہاں کی شوبز انڈسٹری میں عائد کی جانے والی پابندیوں اور خواتین کے لیے مکمل برقع والے لباس کے اعلان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وینا ملک نے کہا کہ انہیں افغانستان کی پردے والا لباس پہننے والی خواتین کے بجائے مختلف ممالک کی شوبز انڈسٹری میں مخنتصر لباس پہننے والی خواتین کی فکر ہے۔

وینا ملک نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک کی شوبز انڈسٹریز میں خواتین مجبوری کے تحت نیم عریاں لباس پہننے پر مجبور ہیں اور وہ مختصر لباس میں خود کو بے سکون محسوس کرتی ہیں۔

انہوں نے مجبوری کے تحت مختصر لباس پہننے والی شوبز خواتین سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ انہیں افغانستان میں شوبز پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے بجائے دوسرے ممالک کی انڈسٹریز کی پریشان ہے، جہاں اداکاروں کو اپنی مرضی سے ہر چیز کرنے کی اجازت ہے جو کہ انتہائی خوفناک ہے۔

وینا ملک نے لباس اور شوبز میں ’ؔڈریس کوڈنگ‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ حکومت پاکستان شوبز کے لیے ’ڈریس کوڈ‘ متعارف کرائے۔

ان کے مطابق زندگی کے ہر مسئلے میں ایک حد ہوتی ہے، جہاں تک ہر کسی نے رکنا ہوتا ہے، اسی طرح شوبز میں بھی لباس کے معاملے پر ایک حد مقرر کی جائے اور بتایا جائے کہ کس طرح کا لباس پہنا جا سکتا ہے۔

حکومت ملک میں شوبز کے لیے ڈریس کوڈ متعارف کرائے، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام
پاکستان اور افغانستان میں خواتین کے لباس کے موازنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یہاں کی خواتین اپنی مرضی سے ہر طرح کا لباس پہنتی ہیں۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے جلد ہی ’اردو فلکس‘ پر نشر ہونے والے اپنے مزاحیہ سیاسی و سماجی شو سے متعلق بھی بات کی اور کہا کہ وہ 13 سال بعد دوبارہ شو کرتی دکھائی دیں گی۔

انہوں نے تصدیق کی کہ مذکورہ شو ماضی کے شو ’ہم سب امید سے ہیں‘ کی طرح کا ہوگا مگر اب شو کو ’اردو فلکس‘ پر چلایا جائے گا اور نئے شو کا اسکرپٹ بھی ڈاکٹر یونس بٹ لکھیں گے۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا شو کب تک نشر ہوگا اور ان کے ساتھ دیگر کون سے اداکار اور میزبان شو کا حصہ ہوں گے؟

وینا ملک کی شوبز میں واپسی کے حوالے سے رواں ماہ ستمبر کے آغاز میں خبریں سامنے آئی تھیں اور اداکارہ نے ڈان امیجز کے ساتھ بات چیت میں تصدیق کی تھی کہ وہ اردو فلکس پر ویب سیریز میں نظر آئیں گی، تاہم اب انہوں نےکہا کہ وہ ویب سیریز نہیں بلکہ شو میں دکھائی دیں گی۔

Back to top button