مجھے کہا گیا کہ یہ تو کوک ہے نہ ہی سپرائٹ، یہ تو فانٹا ہے

تحریر: کریم الاسلام
مجھے لگتا ہے کہ میری فیملی کو ہمیشہ سے ہی پتا تھا۔ کم از کم میری ماں کو تو پتا ہی تھا کہ میں کون ہوں اور میری شناخت کیا ہے۔ لیکن انہوں نے کبھی مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔ جنوبی ایشیا ءکے قدامت پسند معاشرے میں جب کبھی بھی ہم جنس پرستی کا ذکر ہوتا ہے تو بے شمار بھنویں تن جاتی ہیں۔ لیکن پیشے سے ایک فیشن ڈیزائنر، اڑتیس سالہ علی نقوی اپنے آپ کو ایک ’گے‘ مرد کے طور پر متعارف کرانے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ وہ پاکستان کے ایک بڑے شہر میں اپنے پارٹنر عون عباس کے ساتھ رہتے ہیں جو عمر میں اُن سے کئی برس چھوٹے ہیں۔ علی اور عون کے نزدیک یہ سب بالکل بھی عجیب نہیں۔
علی نقوی یاد کرتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے کچھ مختلف تھے۔ اُن میں نسوانیت تھی اور اپنی عمر کے لڑکوں کے برعکس وہ لڑکیوں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ اُنہیں لڑکوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا تھا اور اپنی ہی صنف کی جانب کشش محسوس ہوتی تھی۔
فیملی کے لوگ اکثر کہا کرتے تھے کہ سیدھے چلو، لچک لچک کر نہ چلو، ہاتھ ہلا ہلا کر بات نہ کرو، مرد ہو، مرد بنو۔ میری امّی اُس وقت زندہ تھیں اور ہر بار میرے تحفظ کےلیے آگے آجاتی تھیں۔ انہوں نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ مجھے کبھی بھی خاندان والوں کی جانب سے ہراسگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ علی نقوی کی والدہ کا رویہ ایک طرف، لیکن عمومی طور پر پاکستانی معاشرہ ہم جنس پرستی کو قبول کرنے کےلیے فی الحال تیار نظر نہیں آتا۔ علی کے بقول اِس موضوع پر معاشرے میں آگاہی کی کمی ہے۔ لوگ جنسی پسند کو اپنا اختیار سمجھتے ہیں۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہیں کب پتا چلا کہ تم ‘گے’ ہو تو میں جواباً سوال کرتا ہوں۔ میں پوچھتا ہوں کہ تم مجھے بتاؤ کہ تمہیں کب احساس ہوا کہ تم ‘اسٹریٹ’۔ تمہیں کب پتا چلا کہ تمہیں مخالف صنف میں دلچسپی ہے۔ علی کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی شخص کی جنسی پسند اُس کی اختیار کردہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسان میں ابتداء سے موجود ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا ہے۔
پاکستان کے مسلم اکثریتی معاشرے میں ہم جنس پرستی کے خلاف اکثر مذہب کی دلیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عون عباس کو بھی بچپن اور لڑکپن میں ایسی کئی نصیحتیں سننے کو ملیں۔ مجھے قومِ لوط کی مثال دی جاتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ نماز پڑھو، اللہ سے لو لگاؤ اور گناہوں کی معافی مانگو۔ دن میں پانچ وقت نماز پڑھو گے تو غلط خیالات ذہن میں نہیں آئیں گے۔ لیکن علی نقوی کے نزدیک مذہب اور جنسی پسند دو الگ الگ اور متوازی شناخت ہیں جن میں کوئی تضاد نہیں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، میں روزہ بھی رکھتا ہوں، میں زکوٰۃ بھی دیتا ہوں، میں حج کا بھی خواہشمند ہوں۔ یہ تو میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ میری جنسی پسند تو میری اپنی ہے۔ یہ سراسر میرا ذاتی معاملہ ہے۔
سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ ہم جنس پرستی ہمیشہ سے کئی معاشروں کا حصہ رہی ہے جس کی سب سے بڑی مثال تاریخ اور لوک داستانوں میں اِس کا ذکر ہے۔ اُن کے مطابق یہ رجحان آج بھی موجود ہے لیکن بحیثیت معاشرہ اِس موضوع پر بات کرنے سے کترایا جاتا ہے۔ عون عباس کے بقول آج پاکستان کی ‘گے’ کمیونٹی میں ‘کچھ نہ پوچھو اور کچھ نہ بتاؤ’ کا سلوگن عام ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر کوئی ہم جنس شخص اپنا پرچار نہیں کرتا تو معاشرے کو اُس کی جنسی شناخت سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن جہاں بات آتی ہے خود کو ظاہر کرنے کی تو پھر بہت سی چیزیں حائل ہو جاتی ہیں جیسے کہ پاکستان کا قانون کیا کہتا ہے یا معاشرے اور مذہب کا نظریہ کیا ہے۔ اِس صورت حال میں اِن تمام محاذوں پر بیک وقت لڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کے چہتر ممالک میں ہم جنس پرستی کے خلاف امتیازی قوانین رائج ہیں جب کہ کچھ ملکوں میں اِس کی سزا موت ہے۔ ‘پیو ریسرچ سینٹر’ کے مطابق پاکستان کا شمار ہم جنس پرستی کےلیے نامواقف ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ 2013 میں کیے گئے سروے کے مطابق ستاسی فیصد پاکستانی ہم جنس پرستی کے خلاف ہیں۔ پاکستانی آئین بھی صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔ مقامی قوانین میں ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان شادی یا اِسی قسم کے کسی دوسرے قانونی رشتے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اِس کے برعکس ملکی قانون ہم جنس پرست افراد کے درمیان تعلق کو قابلِ سزا جرم گردانتا ہے۔ لیکن وکیل اور سماجی کارکن ثنا فرخ کے مطابق اِن قانونی شِقوں میں ابہام موجود ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن تین سو ستتر نو آبادیاتی دور کا قانون ہے جو ‘غیر فطری جرائم’ کا احاطہ کرتا ہے۔ اسِ شق کے مطابق ‘قانونِ فطرت کے خلاف’ کسی مرد، عورت یا جانور کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے والے شخص کو جُرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید یا دو سے دس سال جیل کی سزا دی جا سکتی ہے۔ پینل کوڈ کی یہ شق اُن افراد پر لاگو ہوتی ہے جو رشتہِ ازدواج میں منسلک نہیں ہوتے۔ چوں کہ صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد قانونی طور پر شادی شدہ نہیں ہوتے لہذا یہ شق اُن پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
ہم جنس پرست افراد کی قانونی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوتیں۔ حدود آرڈیننس 1989 کی شق چار اپنے شریکِ حیات کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلق کو جُرم قرار دیتی ہے۔ ثنا فرخ کے مطابق یہاں بھی قانون کی تشریح میں ابہام ہے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ قانون ‘گے’ اور ‘لیزبین’ افراد پر لاگو ہوتا ہے یا نہیں کیوں کہ الفاظ کے چناؤ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شق صرف ایک عورت اور مرد کے درمیان غیر شادی شدہ جنسی تعلق کو جرم گردانتی ہے۔ لیکن اگر اِس قانون کا اطلاق صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر کیا جائے تو پھر زنا کی سزا سنگساری یا سو کوڑے ہے۔
وکیل ثنا فرخ کا دعویٰ ہے کہ حالاں کہ صنفی اقلیتوں پر حدود آرڈیننس کے اطلاق پر ابہام پایا جاتا ہے لیکن چوں کہ عمومی معاشرے خاص طور پر پولیس اور عدلیہ سے منسلک کچھ افراد کے نزدیک ہم جنس تعلقات ناپسندیدہ ہو سکتے ہیں لہٰذا اکثر و بیشتر صورتوں میں حدود آرڈیننس کا اطلاق ہم جنس تعلقات پر بھی کیا جاتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ علی نقوی اور عون عباس کو اپنی جنس پسند کی وجہ سے لوگوں کے طعنے نہیں سننے پڑے۔ علی بتاتے ہیں کہ ابتداء میں اُنہیں کئی ناموں سے پکارا گیا۔ مجھے چھَکا سُننے کو ملا۔ مجھے کیک سُننے کو ملا۔ مجھے شہزادہ پکارا گیا۔ کچھ لوگ مجھے کھُسرا بھی کہتے تھے۔ کچھ کہتے تھے کہ یہ تو نہ کوک ہے نہ ہی سپرائٹ، یہ تو فانٹا ہے۔ دوسری جانب عون کا کہنا ہے کہ معاشرے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اپنے خاندان والوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ شروع شروع میں اُن کے اپنے والدین اور بہنیں اُنہیں ایک ‘گے’ شخص کے طور پر قبول کرنے کےلیے تیار نہیں تھیں۔ ایک وقت تھا کہ مجھے دوغلی زندگی گزارنی پڑی۔ میں اپنی فیملی کے سامنے کچھ ہوتا تھا اور باہر کچھ اور ہوتا تھا۔ لیکن جب عمر پختہ ہوگئی اور اہل خانہ کو اندازہ ہوگیا کہ اب میرا ذہن تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو پھر اُن کا رویہ بدلا۔
جنوبی ایشیاء کے ممالک میں ہم جنس پرست افراد اپنی جنسی شناخت مخفی رکھ کر ایک ساتھ زندگی گزارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھی تلاش کرنے کےلیے اکثر آن لائن ڈیٹنگ کا سہارا لیتے ہیں جس کے ذریعے علی اور عون کی ملاقات ہوئی۔ علی نقوی یاد کرتے ہیں ‘سنہ دو ہزار بارہ میں میں ‘گے’، لیزبین اور ٹرانس جینڈر افراد کےلیے مخصوص ڈیٹنگ ایپس استعمال کر رہا تھا۔ ہم دونوں ہی ایک لائف پارٹنر کی تلاش میں تھے۔ پھر جب اُس ایپ کے ذریعے میں پہلی بار عون سے ملا تو اُس کیمسٹری کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ پہلی ہی ملاقات میں میں نے عون کو پروپوز کیا اور اِس طرح ہم دونوں نے اکٹھے زندگی کا سفر شروع کیا۔
عون عباس اور علی نقوی نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تو دونوں کی خواہش تھی کہ کم از کم قریبی حلقے میں اپنی جنسی شناخت ضرور ظاہر کریں۔ عون بتاتے ہیں یہ ایک آسان کام نہیں تھا لیکن ہم نے راستہ نکال ہی لیا۔ ہم نے اپنے ‘اسٹریٹ’ دوستوں اور دفتر کے ساتھیوں کو گھر دعوت پر بلایا۔ مقصد یہ تھا کہ اُنہیں دکھایا جائے کہ اُن کی طرح ہم بھی نارمل لوگ ہیں۔ ہماری بھی زندگی کی وہی مصروفیات ہیں جو دوسروں کی ہوتی ہیں۔ ہم بھی اُسی طرح اپنے گھر کی دیکھ بھال کرتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں اور بازار سے سودا سلف خرید کر لاتے ہیں۔ عون بتاتے ہیں کہ اِس طرح جہاں بہت سے لوگوں نے اُنہیں کُھلے دل سے اپنایا وہیں بہت سے ایسے بھی تھے جو ایک بار مل کر گئے تو پھر پلٹ کر نہیں آئے۔ علی نقوی کے مطابق بڑی عمر کے افراد کی جانب سے اُنہیں اکثر منفی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن نوجوانوں کی اکثریت گرمجوشی سے ملتی ہے۔ میرے ساتھ دفتر میں ایک لڑکی کام کرتی تھی۔ اُس نے انتہائی خوشی سے مجھے بتایا کہ تم میرے پہلے ‘گے’ فرینڈ ہو۔ پھر اُس نے اپنی والدہ سے میرا تعارف کرایا۔ ہم آج بھی اچھے دوست ہیں۔
جہاں معاشرے میں ایک جانب صنفی اقلیتوں کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے وہیں بنیادی معلومات نہ ہونے کے باعث اِس بارے میں بے جا تجسس بھی موجود ہے۔ عون عباس اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ کبھی کبھی مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ تم دونوں میں سے میاں کون ہے اور بیوی کون ہے۔ میرے لیے یہ سمجھانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے کہ اِس قسم کے تعلق میں کوئی میاں بیوی نہیں ہوتا۔ دونوں ہی اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں۔ علی نقوی کے مطابق کچھ لوگ بیڈروم کی نجی تفصیلات میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اِس تعلق میں سیکس کس طرح کیا جاتا ہے یا ہم دونوں میں سے کون کون سا جنسی رول اپناتا ہے۔ میرا جواب ہوتا ہے کہ یہ ایک انتہائی نجی سوال ہے اور میں اِس کا جواب دینا پسند نہیں کروں گا۔
صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا مطالبہ ہے کہ اُن کے ساتھ بھی معاشرے کے دوسرے افراد کی طرح برابری کا برتاؤ کیا جائے۔ عون عباس ‘گے’ اور ‘لیزبین’ افراد کےلیے اپنی جنسی پسند کا کُھل کر اظہار کرنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ اگر کوئی ‘اسٹریٹ’ شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ‘اسٹریٹ’ ہے اور اِس وجہ سے کوئی اُسے نوکری سے نہیں نکالتا تو ایک ‘ایل جی بی ٹی کیو آئی’ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شخص کو بھی یہ آزادی ہونی چاہیے۔ اُسے ‘گے’ یا ‘لیزبین’ ہونے کی وجہ سے ہراسگی کا سامنا نہ کرنا پڑے یا اُسے اپنی جان کا خطرہ نہ ہو۔ اِس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر ‘ایل جی بی ٹی کیو آئی’ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی نوجوان خاندان والوں کے سامنے اپنی جنسی پسند ظاہر کرے گا تو وہ اُس سے اظہارِ لاتعلقی کر لیں گے یا گھر سے نکال دیں گے۔ اُسے جائیداد سے بھی بے دخل کیا جا سکتا ہے۔
عون عباس کے بقول ہم جنسی پسند کی غیر قانونی حیثیت ختم کرنے سے صنفی اقلیتوں پر موجود معاشرتی دباؤ کافی حد تک ختم ہو جائے گا۔ اِس طرح جو والدین اپنے بچوں کو اُن کی جنسی پسند کے ساتھ قبول کرنا چاہیں گے اُن کےلیے راستہ ہموار ہو جائے گا۔ ہمیں بھی وہ قانونی حقوق مل جائیں گے جو کسی دوسرے شہری کے پاس ہیں اور ہم بھی اُسی طرح زندگی گزار سکیں گے جیسی ایک عام شخص گزارتا ہے۔
وکیل ثنا فرخ کا کہنا ہے کہ چند مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ متعصبانہ قوانین کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ میری معلومات کے مطابق پاکستان میں بہت کم افراد ایسے مقدمات میں سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ حالانکہ چند افراد دس سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں لیکن کسی گے، لیزبین یا ٹرانسجینڈر شخص کو آج تک حدود آرڈیننس کے تحت سنگساری یا کوڑوں کی سزا نہیں دی گئی ہے۔ اِس سب کے باوجود اہم بات یہ ہے کہ متعصبانہ قوانین کی موجودگی میں اِن کا غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ پھر اِن سزاؤں کا خوف سر پر لٹکی تلوار کی طرح صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پریشان کیے رکھتا ہے۔
صنفی اقلیتوں کےلیے کام کرنے والی سماجی کارکن اور ساتھی فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیلیٰ ناز کا کہنا ہے کہ ‘ایل جی بی ٹی کیو آئی’ کمیونٹی کبھی بھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی ہے جبکہ معاشرتی رویوں کے باعث اُن کی فلاح و بہبود کے لیے کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم جنس پرستی جداگانہ جنس پرستی سے کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ ہم جنس پرستی کے اپنے طبی اور نفسیاتی مسائل ہیں جنھیں حل کرنے کے لیے پیشہ وارآنہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘گے’ افراد جب کوئی جنسی مسئلہ لے کر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ علاج کرنے کے بجائے اُنہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کس گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اِس طرح لوگ کُھل کر اپنے طبی مسائل ڈاکٹر سے شیئر نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ مذہب کا پرچار شروع کر دیتے ہیں۔
لیلیٰ ناز کے مطابق اِس صورت حال میں ‘ایل جی بی ٹی کیو آئی’ حقوق کےلیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں پالیسی سازوں، میڈیا اور عام عوام میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہم کمیونٹی بیسڈ آرگنائزئشنز کے ذریعے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مثلاً طلبہ، ڈاکٹر اور علماء کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو طبی اور نفسیاتی سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔ ہم سیف سیکس کے بارے میں معلومات پہنچانے کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور مفت ادویات اور کنڈوم بھی فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی برطانوی دور کا متعارف کردہ پینل کوڈ کا سیکشن تین سو ستتر ہم جنس تعلقات کو جرم گردانتا تھا۔ لیکن سنہ دو ہزار اٹھارہ میں انڈین سپریم کورٹ نے اِسے جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلہ سنایا۔ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ‘گے’ اور ‘لیزبین’ افراد کےلیے قانون سازی ابھی بہت دور کی بات ہے۔ وکیل ثنا فرخ کے مطابق پالیسی ساز فی الحال صرف ٹرانسجینڈر افراد کےلیے قانون سازی کرنے کی ہمت کرسکے ہیں۔ میرے خیال میں دیگر صنفی اقلیتوں کےلیے قانونی مراعات حاصل کرنے میں شاید وقت لگے۔ ابھی تو خواجہ سزاؤں کےلیے بنائے گئے قوانین پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جا سکا تو بہتر ہے کہ معاشرے کو مرحلہ وار اِس تبدیلی کےلیے تیار کیا جائے۔
زندگی کے آٹھ سال ساتھ گزارنے کے بعد اب علی نقوی اور عون عباس کی دیرینہ آرزو ہے کہ وہ باقاعدہ رشتہِ ازدواج میں بندھ جائیں۔ لیکن موجودہ حالات میں وہ کچھ بہت زیادہ پُر امید نظر نہیں آتے۔ عون عباس بتاتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ بحیثیت ایک ہم جنس پرست جوڑے کے ہمیں پاکستان میں کبھی کوئی قانونی حیثیت مل سکے گی۔ میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو صرف اِسی وجہ سے مستقل طور پر مغربی ممالک منتقل ہو گئے ہیں۔ کچھ پاکستانی جنوبی افریقہ جا کر نکاح کرتے ہیں جہاں ایک ‘گے’ امام ہم جنس افراد کا نکاح پڑھاتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے میں پاکستان میں ہم جنس پرست افراد کے درمیان شادی یا سول یونین کی غیر موجودگی کے باعث اُن کے درمیان قائم رشتے کو قانونی حیثیت دینا فی الحال ممکن نہیں۔
عون اور علی کی زندگی کی دوسری بڑی خواہش ایک بچہ گود لے کر فیملی تشکیل دینا ہے۔ لیکن اُنہیں اندازہ ہے کہ اِس خواہش کا پورا ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کام پاکستان میں رہتے ہوئے ہو سکتا ہے۔ آخر میں ہوتا یہ ہے کہ آپ کو اپنا ملک، اپنے لوگ اور اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ آپ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار سکیں اور ہر پابندی سے آزاد ہوجائیں۔
بشکریہ : بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button