مخنث افراد سے متعلق قانون کےخلاف درخواست۔

مخنث افراد سے متعلق قانون کےخلاف درخواست۔ وفاقی شرعی عدالت (ایف ایس سی) نے ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کے خلاف دائر درخواستوں پر اٹارنی جنرل فار پاکستان سے معاونت طلب کرلی۔
مذکورہ درخواستوں میں مخنثوں سے متعلق اس قانون کو اسلامی احکام کے منافی قرا۔
وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی،
جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل فل بینچ نے عرفان خان اور دیگر کی دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے آئین کی دفعہ 203 (د) کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنا دائرہ اختیار سنبھال لیا ہے۔
قانون کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا اور حکم دیا
کہ جو شخص بھی اس مقدمے میں فریق بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔
عدالت نے ٹی وی اینکر اوریا مقبول جان، عائشہ مغل اور ببلی ملک کو بھی ان درخواستوں میں فریق بننے کی اجازت دے دی جنہیں اب پٹیشنز میں درخواست گزار قرار دے دیا گیا ہے۔
بعدازاں ایک مخنث لیکچرر عائشہ مغل نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت میں اپنا جواب جمع کروائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مخنث برادری ایک کمزور طبقہ بن گئی ہے کیونکہ گزشتہ چار سالوں کے دوران 80 مخنثوں کو قتل کیا گیا لیکن کسی بھی قاتل کو سزا نہیں ملی اور وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔
کہ چونکہ معاشرے کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ خواجہ سراؤں کے حقوق غضب کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ یہ قانون مذہب کے احکام کے خلاف ہے اس لیے اٹارنی جنرل سے معاونت کا حصول ضروری ہوگیا ہے۔
