مذاکرات میں حکومت نے PTIکو ٹھینگا کیسے دکھایا؟

تحریک انصاف اور حکومت کے مابین جاری مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں ایک طرف حکومت ستمبر سےپہلے الیکشن کرانے پر تیار نہیں جبکہ دوسری طرف عمران خان ستمبر یا اکتوبر میں انتخابات کے انعقاد بارے مذاکرات کو بے سود سمجھتے ہیں جبکہ خواجہ آصف کے مطابق پی ٹی آئی سے مذاکرات صرف وقت کا ضیاع ہے جس سے کوئی فائدہ ملنا ممکن نہیں۔

تاہم فریقین کے مابین جاری مذاکرات میں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کا بجٹ سے پہلے قومی اسمبلی کی تاریخ دینے اور جولائی میں انتخابات کرانے کا مطالبہ یکسر مسترد کر دیا جس کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ایک ہی روز انتخابات کے حوالے سے مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتیجہ ختم ہو گیا تاہم فریقین نے کسی ڈیڈ لاک کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے اسے منگل تک ملتوی کردیا۔ مذاکرات کی سامنے آنے والی اندرونی کہانی کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ کے بعد اسمبلیاں تحلیل کرنے کی پیشکش کی ہے اور حکومت نے ستمبر میں انتخابات کروانے کی تجویز دی ہے جس پر پی ٹی آئی وفد نے عمران خان سے بات کرنے کی ہامی بھرلی ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان حکومت سے مذاکرات میں الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔

آئندہ اجلاس میں بریک تھرو اور معاہدے کے ضامن کے معاملات پر غور کا امکان ہے۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اسحق ڈار نے منگل کو آخری راؤنڈ کا عندیہ دیتے ہوئے کہاکہ کوئی ڈیڈ لاک نہیں‘شاہ محمودکے مطابق مثبت پیشرفت ہوئی ہے ‘کشورزہرہ کا کہنا ہے کہ ہمیں آپس میں معاملات طے کرنے چاہئیں ورنہ کوئی اورآجائے تو پھر سب روتے ہیں جبکہ فواد چوہدری نے کہاکہ گرفتاریاں بند نہ ہوئیں تو معاملات ڈی ریل ہوجائیں گے ۔ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی نے مذاکرات میں مؤقف اپنایا کہ معاشی صورتحال کے باعث بجٹ پیش کرنا ضروری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے حکومتی تجویز پر مشاورت کا وقت مانگ لیا اور کہا کہ بجٹ پیش کرنا ضروری ہے تو مئی میں بھی کیا جا سکتا ہے، ایک ساتھ انتخابات کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہو گی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی نے کہا کہ اتفاق رائے ہو گیا تو قانونی اور آئینی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کے مثبت رویے کی وجہ سے پی ٹی آئی مذاکرات آگے بڑھانے پر رضامند ہے ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے جولائی میں انتخابات کا مطالبہ کیا تھا جس پر حکومت نے جون میں بجٹ پیش کرنے کی حکومتی مجبوری ظاہر کی۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے مطابق ’موجودہ صورتحال میں فوری طور پر اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ نہیں دی جاسکتی کیوں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ تاحال طے نہیں پایا ہے اس لیے بجٹ سے پہلے اسمبلی تحلیل نہیں کی جاسکتی‘۔ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ عالمی ادارے اور حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے اس لیے فوری طور پر اسمبلی تحلیل کرنے سے پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے آئینی ترمیم کا کہہ کر اسمبلی واپسی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت 2 ماہ قبل انتخابات پر لچک دکھائے تو ہم بھی لچک دکھا سکتے ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے حکومتی رہنماؤں نے نواز شریف اور آصف زرداری کے سامنے معاملہ رکھنے کا کہا۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے حکومتی ارکان سے سوال کیا کہ الیکشن اکتوبر یا بعد میں ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی کو کیا ملے گا؟ اکتوبر میں انتخابات کی صورت میں صوبائی حکومتوں کی بحالی پر بھی بات چیت ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے حکومتی ممبران کا کہنا تھا اصل فیصلہ پی ڈی ایم قیادت اور نواز شریف کریں گے۔ذرائع کا بتانا ہے حکومتی ٹیم کا مؤقف تھا کہ بجٹ گزرنے کے بعد الیکشن کے فیصلے ہوں گے جبکہ پی ٹی آئی کے وفد نے مطالبہ کیا کہ بجٹ سے پہلے الیکشن کی تاریخ کا تعین کیا جائے، جس پر حکومتی ممبران کا کہنا تھا ملکی مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز مشترکہ فیصلہ کریں۔ذرائع کے مطابق اب تک ہونے والے مذاکرات پر پی ٹی آئی اور حکومتی رہنما اپنی اعلیٰ قیادت کو بریفنگ دیں گے ۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کے ایک ہی روز بعد کہہ دیا ہے کہ بال حکومت کے کورٹ میں ہے ، ایک ہی دن انتخابات کرانے ہیں تو 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں توڑیں اور الیکشن کرائیں توبات بنے گی ‘ستمبر ،اکتوبر کی بات کرنی ہے تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ‘ہم قانون پر چل رہے ہیں‘وہ قانون شکنی کر رہے ہیں، مذاکرات ایک جیسے لوگ کرتے ہیں‘وہ اور ہم ایک جیسے نہیں‘ یہ آئین پر نہیں چلتے‘اگر 14 مئی کی تاریخ گزر گئی تو آئین ٹوٹ جائے گاپھر جس کا بھی زور ہو گا اسی کی بات چلے گی‘

عمران خان کی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں جانب سے اعتماد کا فقدان موجود ہے اور فریقین نہ تو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر تیار ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے پر اعتبار کرنے پر آمادہ ہیں۔ ان حالات میں مذاکرات کا مثبت نتیجہ نکلنا نا ممکن ہی دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button