عمران خان کو کالی بالٹی پہننے کی جگاڑ کیوں لگانا پڑی

سینئر صحافی اور کالم نگار محمد حنیف نے کہا ہے کہ عمران خان کے دو طرح کے مخالفین ہیں، ایک سیاسی اور دوسرے وہ جن کو ان کی شکل، اطوار اور باتیں پسند نہیں۔ وہ انھیں سر پر کالا ڈبہ پہن کر عدالت آنے پر بزدلی کے طعنے دیتے ہیں، کہتے ہیں جس شخص کو اپنی جان کا اتنا خوف ہو وہ ملک کی قیادت خاک کرے گا۔ پچھلی پیشی پر کوئی صحافی ، عمران خان پر چیخ رہا تھا کہ خان صاحب آپ نے ایسا کیا کیا ہے کہ منھ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں محمد حنیف لکھتے ہیں کہ عمران خان آج کل کبھی کورٹ کچہری میں پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں تو ان کے چاروں طرف بلٹ پروف شیلڈ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سر پر بھی کالے رنگ کا ایک چوکوڑ ڈبہ رکھا ہوتا ہے جو کہ مجھے یقین ہے کہ بلٹ پروف ہے۔
پہلی دفعہ میں نے عمران خان کی اس کالے کنٹوپ کے ساتھ تصویر دیکھی تو مجھے تھوڑا مضحکہ خیز لگا، پھر حیرت بھی ہوئی کہ سات لاکھ فوج والی ایٹمی قوت والی ریاست اپنے سب سے مقبول سیاست دان کو شرطیہ سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی اور اسے کالے کنٹوپ والی جگاڑ لگانی پڑی ہے۔پھر میں نے ان کے ناقدین کو ان کا مذاق اڑاتے سنا تو باقاعدہ خوف محسوس ہوا کہ ہماری سیاست میں اب اختلاف خونی دشمنی میں بدل چکے ہیں۔ہم اگر اپنے سیاسی مخالف کو شکست نہیں دے سکتے تو یہ خواہش کرنے لگتے ہیں کہ اس کا حفاظتی حصار ہٹا لیا جائے اور پھر دیکھیں کہ اس کے سر کا نشانہ کون لیتا ہے۔ محمد حنیف کا کہنا ہے کہ اچھا ہی ہے کہ عمران خان اور ان کے چاہنے والوں کو اس طرح کی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں۔ بلکہ عمران خان پر کوئی بھی جھوٹا سچا الزام لگاؤ ان کے چاہنے والے اسے چوم کر گلے کا ہار بنا لیتے ہیں۔عمران خان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ہر بات پر یو ٹرن لے لیتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ یہ ایک ذہین اور ایماندار آدمی کی نشانی ہے، جب آگے راستہ بند دیکھتا ہے تو واپس پلٹتا ہے اور بتا کر پلٹتا ہے۔
کبھی کبھی عمران خان تاریخ جغرافیہ کی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو ان کو پیار کرنے والے کہتے ہیں ہمارا لیڈر سادہ دل ہے جو دل میں آئے کہہ دیتا ہے کم از کم پرچی سے تو نہیں پڑھتا۔کوئی ان کی پلے بوائے ٹائپ آڈیو اور تصویریں جاری کر دیتا ہے تو ان کے متوالے کہتے ہیں کہ اپنی شکلیں دیکھو تم تو اپنی پھوپھی کے گھر بھی پلے بوائے نہیں بن سکتے، خان صاحب پر تو گوریاں مرتی ہیں۔اگر عمران خان فرما دیتے ہیں کہ چار سال حکومت میں، میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں جب باجوہ کہتا تھا بیٹھ جاؤ میں بیٹھ جاتا تھا اور جس کے ساتھ کہتا تھا بیٹھ جاتا تھا تو چاہنے والے پھر عش عش کر اٹھتے ہیں کہ کبھی دیکھا ہے کہ اتنا معصوم اور اعتبار کرنے والا لیڈر۔ محمد حنیف لکھتے ہیں کہ خان صاحب کے دو طرح کے مخالفین ہیں، ایک سیاسی اور دوسرے وہ جن کو ان کی شکل، اطوار اور باتیں پسند نہیں۔ وہ ان کے کالے کنٹوپ کو لے کر انھیں بزدلی کے طعنے دیتے ہیں، کہتے ہیں جس شخص کو اپنی جان کا اتنا خوف ہو وہ ملک کی قیادت خاک کرے گا۔
ان کی پچھلی پیشی میں کوئی میرا صحافی بھائی خان صاحب پر چیخ رہا تھا کہ خان صاحب آپ نے ایسا کیا کیا ہے کہ منھ چھپاتے پھر رہے ہیں۔خان صاحب کو بار بار بے نظیر بھٹو کی بہادری کی مثال دی جاتی ہے کہ اس نے اپنے اوپر ایک بھرپور قاتلانہ حملے کے باوجود اپنا منھ ایسے نہیں چھپایا جس طرح خان صاحب دو چار ہلکی پھلکی گولیاں کھانے کے بعد چھپاتے پھرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عمران خان نے انھیں اپنی موت کا ذمہ دار خود ٹھہرایا تھا۔ لیکن کیا عمران خان کو یہ طعنہ دینے والے کہ مرد بنو، بے نظیر بنو، کیا بے نظیر کو بھی یہی مشورہ دیتے۔ ہمیں بچپن سے رٹا لگوا دیا جاتا ہے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ہم نے اپنے فوجی، پولیس والے، سیاست دان، حتی کہ سبز کوٹوں میں اے پی ایس پڑھنے گئے ہوئے بچے بھی شہید کروائے ہیں۔
قوم کی نبض پر پاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس قوم کو ان شہادتوں کی وجہ سے کتنی حیات ملی ہے۔شہید کی موت اور قوم کی حیات کے بعد ہم تھوڑے بڑے ہوتے ہیں تو ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔بے نظیر بھٹو سے زیادہ سج دھج کے مقتل میں کون گیا تھا؟ ان کے بعد ان کی سیاست کتنی سلامت ہے؟شاید عمران خان کو پتہ ہے کہ ان کی شان ہمشہ سے سلامت ہے اور رہے گی لہذا فی الحال جان کی فکر کرو۔ کیا ہم عمران خان کے سر سے حفاظتی حصار اتروا کر یہ تو نہیں چاہتے کہ ایک دن کسی سٹیڈیم کا نام بدل کر عمران خان شہید سٹیڈیم رکھ دیں اور وہاں پر ٹی ٹوئنٹی میچوں کے مزے لیں۔
