مردوں کے عوامی مقامات میں داخلے پر پابندی لگائی جائے


سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے مینار پاکستان پر ایک خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے بعد مردوں کے عوامی مقامات پر جانے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پاکستان کے شہر لاہور میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آئے تو ایک خاتون صحافی نے چند برس قبل اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کردیا۔
بختاور نے یہ مطالبہ سوشل میڈیا پر مینار پاکستان واقعے کے حوالے سے جاری بحث میں حصہ ڈالتے ہوئے کیا۔ دراصل ایک خاتون صحافی نے ٹویٹر پر بتایا کہ کراچی میں محمد علی جناح کے مزار پر رپورٹنگ کے دوران وہاں موجود 100 سے زائد مردوں نے انکے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ اس پر بختاور بھٹو زردای نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک اور تکلیف دہ واقعہ لاہور کا ہے، پولیس نے سارا منظر دیکھا اور ہتھیاروں کے ذریعے ہجوم کو منتشر کرنے کے بجائے لڑکی کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بختاور بھٹو نے لکھا کہ ’مردوں کے عوامی مقامات پر جانے پر پابندی عائد کی جائے۔ ہمیں خواتین کی مدد کرنے کے لیے زیادہ خواتین کی ضرورت ہے۔‘
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق بختاور بھٹو کی جانب سے دیے جانے والے ردعمل کے جواب میں شفیق نامی صارف نے لکھا کہ ’عورتوں پر بھی بلا ضرورت باہر نکلنے پر پابندی لگانی چاہیے۔ کسی بھی تہوار پر دنیا بھر میں ہلڑ بازی اور بدتمیزیاں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی عقل مند اپنی فیملی کو ان دنوں باہر لے کر کم ہی جاتا ہے۔ ان ایشوز پر تبصرے کے لیے وہ لوگ بلائے جاتے ہیں جن کا اس معاشرے سے کوئی تعلق نہیں۔‘
جہاں سوشل میڈیا صارفین نے مردوں کے عوامی مقامات پر جانے کی پابندی کے حوالے تبصرے کیے وہیں کچھ صارفین نے پولیس کی ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا۔ ٹوئٹر سہیل تبصرہ کرتے ہیں کہ ’اس طرح کے مقامات پر عوام کی حفاظت کی کی ذمہ داری پولیس کی ہے۔‘ بختاور بھٹو کی جانب سے مردوں کے عوامی مقامات پر جانے پر بابندی کے حوالے سے دیے گئے اس بیان پر کچھ صارفین تنقید کرتے دکھائی دیے جبکہ بعض صارفین ان کے بیان سے متفق نظر آئے۔ ٹوئٹر صارف وقاص نے بختاور بھٹو زرداری کی جانب سے دیے جانے والے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’دراصل میں آپ کے ساتھ اس معاملے پر اتفاق کرتا ہوں۔‘‘ ایک اور ٹویٹر صارف عابدہ مختار نے لکھا کہ ہمیں خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل تبصرے کرنے والوں میں سے ایک صارف علی ترمذی نے مختصر الفاظ میں بختاور بھٹو کے بیان سے متفق ہونے کا کہا۔ لکھتے ہیں کہ ’ سو فی صد رضا مند۔‘

Back to top button