مریم نواز کے بیٹے کی شادی پر احتجاج کرنے والوں کی دھلائی


22 اگست کو لندن میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بیٹے جنید کے نکاح کی تقریب کے دوران احتجاج کرنے اور رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کرنے والے یوتھیوں کی پی ٹی آئی کے متوالوں کے ہاتھوں دھلائی اور ٹھکائی ہو گئی جسکے بعد انہیں وہاں سے بھاگنا پڑا۔
شادی کی تقریب کے موقع پر جہاں تقریب میں مدعو کیے گئے مہمان مقررہ جگہ پر پہنچے وہیں ’ن لیگ اور پی ٹی آئی کے حامی‘ بھی مقررہ مقام کے باہر جمع ہو کر ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے اور ہوٹنگ کرنے لگے۔ چنانچہ نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ایک بڑے گروپ نے یوتھیوں کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ اس موقع پر پر لیگیوں نے احتجاج کی کوشش کرنے والے یوتھیوں کا گھیرا ڈال کر فلک شگاف عمران مخالف نعرے لگانے شروع کر دیئے جس کے بعد یوتھیے موقع سے فرار ہوگئے۔
یاد رہے کہ جنید صفدر کے نکاح کی تقریب لندن کے مقامی ہوٹل میں ہوئی جہاں دلہا اور دلہن نے نکاح نامے پر دستخط کیے اور رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ نکاح کی تقریب میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت خاندان کے قریبی افراد نے شرکت کی۔ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سوشل ٹائم لائنز پر شادی کی تقریب کے حوالے سے اپ ڈیٹس شیئر کرنے والے کچھ صارفین بے یہ دعوی بھی کیا کہ ’پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ورکرز میں تصادم‘ کے بعد پولیس کو ہوٹل کے باہر طلب کر لیا گیا جس نے لیگیوں کے ہاتھوں پیٹنے والے یوتھیوں کی جان بخشی کروائی۔
لندن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی سوشل میڈیا سرگرمی میں جہاں شادی سے متعلق دیگر اپ ڈیٹس شیئر کیں وہیں کچھ ٹویپس نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی نواسے کی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔ جنید صفدر کی شادی کی تقریب کے مقام کے باہر بنائی گئی ویڈیوز میں جہاں وائس آف پاکستان نام کے بینرز لیے کچھ افراد احتجاج کرتے دکھائی دیے وہیں اس پروگرام میں شریک ایک فرد نے وزیراعظم عمران خان سے بھی شکوہ کیا۔ایک ویڈیو پیغام میں مذکورہ فرد نے کہا کہ ’مجھے پورے لندن کی پی ٹی آئی کا ایک بندہ بھی نظر نہیں آیا۔ یہاں جو اخراجات ہو رہے ہیں وہ کہاں سے پورے کیے جا رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا چھوٹا سا احتجاج تھا جو لیگیوں نے 10 منٹ کے اندر ہمیں لاتیں اور دھکے مار کر بدمعاشی سے ختم کر دیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ایک ویڈیو میں مسلم لیگ لندن کے صدر زبیر گل یہ کہتے سنائی دیے کہ اب اگر کسی نے ہمارے قائد نواز شریف کے گھر کا رخ کیا تو اس کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ شیئر کی جانے والی دیگر ویڈیوز میں لیگی قیادت کے پوسٹر تھامے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف نعرے لگاتے افراد ’اپنے مخالفین‘ کو وہاں سے دور لے جاتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
سوشل ٹائم لائنز پر شادی کے اصل ایونٹ سے زیادہ مقررہ مقام کے باہر ہونے والی سرگرمی کے سیاسی رنگ اور دونوں جانب سے ان پر دیا جانے والا ردعمل وقت کے ساتھ ساتھ بڑھا تو کچھ صارفین نے ’سیاسی کارکنوں میں تصادم کے بعد مقامی پولیس کو بلائے جانے‘ کی اطلاع دیتے ہوئے ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں پولیس اہلکار وہاں جمع افراد کے درمیان نمایاں ہیں۔ جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں کون شریک ہوا اور اس موقع پر کیا انتظامات کیے گئے کے بجائے سوشل ٹائم لائنز پر ہونے والی سرگرمی پر احتجاج کا رنگ غالب دکھائی دیا۔اس موقع پر شیئر کیے گئے کچھ مناظر میں روایتی ڈھول بجتے اور اس کی تھاپ پر رقص کرتے چند افراد دکھائی دیے لیکن سیاسی نعروں، پوسٹرز، احتجاج کرنے اور ایسا ہونے سے روکنے کی کوششوں کے رنگ باقی سب رنگوں سے کہیں زیادہ گہرے دکھائی دیے۔سابق وزیراعظم نواز شریف شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تو گاڑی سے اترنے کے بعد وہ فورا عمارت کے اندر داخل چلے گئے جہاں فیملی کے دیگر افراد موجود تھے۔
قانونی پابندیوں کے باعث مریم نواز شریف اپنے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے لندن نہیں جا سکی ہیں۔ تاہم نکاح کی تقریب میں انھوں نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ ٹوئٹر پر مریم نواز کی جانب سے لندن میں جنید صفدر اور عائشہ سیف کے نکاح کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں، تصاویر میں جنید کو نکاح کے فارم پر دستخط کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔تصاویر شیئر کرنےکے ساتھ مریم نے دعا دیتے ہوئے لکھا ہے کہ’ اللّہ ہمیشہ خوش اور آباد رکھے’۔

Back to top button