میں نے مینارپاکستان پر کسی کو فلائنگ "کس” نہیں دی تھی

https://youtu.be/tjjKGE98vfU
مینار پاکستان پر سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کی جانے والی یوٹیوبر عائشہ اکرم نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے گریٹر اقبال پارک میں موجود لڑکوں کو "فلائنگ کس” دی جس کے بعد ان کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر۔پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ باز آ جائیں۔ عائشہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 14 اگست کے روز نہ تو انہوں کسی کو فلائنگ کس دی اور نہ ہی بھارت کا جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ عائشہ اکرم نے ان مردوں اور خواتین کا شکریہ ادا کیا جو ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا رہے ہیں اور ان کی ہمایت کر رہے ہیں۔ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ جو اس معاملے میں میری آواز بنے ہیں وہ پاکستانی مرد میرے بھائی ہیں، میرے محافظ ہیں کیونکہ میں نے سچ کا ساتھ دینے کے لیے آواز بلند کی ہے۔‘
پولیس کی تفتیش کے بارے میں عائشہ کا کہنا ہے کہ وہ اس سے مطمعین ہیں اور پولیس کی کارکردگی کو سراہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی وجہ سے ہی میں یہاں موجود ہوں، پولیس نے ہی مجھے بچایا ہے ورنہ میں تو جینے کی امید کھو چکی تھی خاص طور پر ڈولفن فورس نے۔ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں شاید اسی طرح پاکستان میں درندگی ختم ہو سکے۔‘
یاد رہے کہ 14 اگست کو گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان کے نیچے ہراسانی کے واقعے میں ملوث 40 ملزمان کو عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ عدالتی حکم پر ملزمان کی شناختی پریڈ کی جائے گی اور جن کو متاثرہ خاتون ٹک ٹاکر نے شناخت کیا انہیں قانونی طور پر سزا مل سکتی ہے۔ پولیس نے 21۔مئی کو 40 ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور شناختی پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی جو عدالت نے منظور کر لی ہے۔ ملزمان کو عدالت لاتے وقت ان کہ چہرے سفید تھیلوں سے چھپائے گئے تھے جن میں ہوا کے گزر کے لیے آنکھوں اور ناک کے سامنے سوراخ کیے گئے تھے۔ پیشی کے موقع پر ملزمان نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے میں ملوث نہیں پولیس نے بلا جواز گرفتار کیا ہے۔ ملزمان کے مطابق وہ پارک میں تفریح کے لیے گئے تھے۔ اس دوران لڑکی کو ٹک ٹاک بناتے دیکھ کر وہاں ہجوم لگ گیا جس میں وہ بھی موجود تھے۔ ملزمان کا موقف ہے کہ پولیس نے ویڈیو میں ان کو دیکھ کر پکڑ لیا۔ لہذا جس لڑکی کی وجہ سے لوگ وہاں جمع ہوئے تھے اسے بھی گرفتار کیاجائے۔
دوسری جانب پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم سے 14 اگست کی شام گریٹر اقبال پارک میں ہونے والی دست درازی اور اجتماعی ہراسانی میں ملوث ملزمان کو ویڈیوز کی مدد سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعہ سے نہ صرف متاثرہ خاتون بلکہ ویڈیو وائرل ہونے سے کئی خواتین خوفزدہ ہوئی ہیں۔ ویڈیوز کی مدد سے نادرا کے زریعے لوگوں کی شناخت کی گئی اور انکے ایڈریس حاصل کیےگئے۔ پولیس نے بتایاکہ تفتیشی ٹیم نے لڑکی کے کپڑے بھی قبضے میں لے لیے اور میڈیکل رپورٹ بھی حاصل کرلی گئی ہے۔
زیادہ تر ملزمان کا تعلق لاہور اور شیخوپورہ کے مختلف علاقوں سے ہے۔ بعض ملزمان کے والدین نے عدالت میں موقف دیا کہ انکے بچے جرائم پیشہ نہیں۔ وہ 14 اگست منانے کے لیے پارک میں گئے تھے کیونکہ وہ اس پہلے بھی یوم آزادی منانےوہیں جاتے تھے۔ لیکن 14 اگست کوان کی وہاں موجودگی کے باعث پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔ گرفتار شدگان میں سے بعض لڑکے فیکٹریز میں کام کر کے گھر کا خرچا اٹھاتے ہیں۔
انکے والدین نے درخواست کی ہے کہ ہمارے بچوں کو انصاف دیا جائے اور ہلڑ بازی کے ایک واقعہ میں ملوث کر کے ان کی زندگیاں خراب نہ کی جائیں۔ تاہم عدالتی حکم پر ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا جہاں متاثرہ خاتون سے ان کی شناخت کرائی جائے گی۔
پراسیکیوٹر فاروق حسنات کے مطابق تفتیشی ٹیم کو خصوصی ہدایات کر دی گئی ہے کہ متاثرہ لڑکی کے پھٹے ہوئے کپڑے مل چکے ہیں واقعہ کی تمام ویڈیوز اور سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج جائے وقوعہ کا نقشہ حاصل کر لیاہے۔ان کے مطابق ’متاثرہ لڑکی کے ساتھ آنے والے لڑکوں سے بھی تفتیش جاری ہے اور ان کے بیانات بھی ریکارڈ کیےجا رہے ہیں۔ تاکہ کسی بے گناہ کو بغیر جرم سزا نہ مل جائے۔
سینئر وکیل عامر جلیل صدیقی کے مطابق پولیس نےاس واقعہ میں 354اے، 382, 147,149شامل کی ہیں۔ ان کے مطابق 354اے دفعہ کسی خاتون کو مجرمانہ طور پر کسی عوامی مقام پر ننگا کرنا اور اس کے کپڑے پھاڑنے کی ہے جس کے تحت عمر قید، سزائے موت اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے جرم کا ثابت ہونا لازمی ہے اور ٹرائل میں یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ملزموں نے سوچ سمجھ کر مجرمانہ طور پر ایسا کیا ہو۔اس کے ساتھ 382,147,149 میں کسی خاتون سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور اسے دانستہ ہراساں کرنے پر لگائی جاتی ہیں جس میں دو سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ عامر جلیل کے بقول: ’سب سے پہلے دوران ٹرائل پولیس اور مدعیہ کو یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ واقعہ ملزمان کی جانب سے دانستہ اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت خاتون کو برہنہ کرنے یا ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنانے کے لیےکیاگیا۔‘
دوسری جانب یہ پہلو بھی زیر بحث آئے گا کہ لڑکی جائے وقوعہ پر اپنی مرضی سے اور ساتھیوں سمیت آئی اور وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بنائیں۔ لہازا عام خیال یہی ہے کہ اس واقعہ میں کافی پیچیدگیاں سامنے آئیں گی جنہیں دوران عدالتی ٹرائل مختلف زاویوں سے دیکھاجائے گا۔ ان حالات میں لگتا یہ ہے کہ دفعہ 354 اے پولیس اور مدعیہ کے لیے ثابت کرنا کافی مشکل ہوگا لہذا ملزموں کا سخت سزا سے بچنا آسان دکھائی دے رہاہے۔

Back to top button