مریم اور گنڈاپور سولر منصوبوں سے عوام کو ماموں کیسے بنارہے ہیں؟

پنجاب حکومت نے ’روشن گھرانہ‘ سکیم کے تحت 14 اگست سے عوام کو سولر پینلز کی تقسیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہےجس کے بعد اب خیبرپختونخوا کی حکومت نے بھی گھریلو صارفین کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب پاکستان کے بیشتر شہروں میں عوام بجلی کے بلوں میں ’اوور بلنگ‘ کی شکایات کر رہے ہیں اور بجلی کے بلوں میں استعمال شدہ یونٹس کی تعداد اور اس کے عوض واجب الادا رقم کے حوالے سے سراپا احتجاج ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ کیا پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے یہ منصوبے کامیاب ثابت ہوں گے اور اس سے عوام کی مشکلات میں کس حد تک کمی آ سکے گی؟

خیال رہے کہ پنجاب میں حکومت یہ سولر سسٹم ماہانہ بجلی کے 50 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو مہیا کئے جائیں گے۔حکومتی جماعت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سولر سسٹم کی لاگت کا 90 فیصد حصہ پنجاب حکومت جبکہ 10 فیصد صارف ادا کریں گے۔ ’سولر پینل پانچ سال کی آسان اقساط پر صارفین کو مہیا کیے جائیں گے‘ اور سکیم کے پہلے مرحلے میں ’غریب ترین گھرانوں‘ کو سولر سسٹم دیے جائیں گے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’سولر سکیم‘ متعارف کروانے جا رہے ہیں جس کے تحت ایک لاکھ گھروں کو سولر سسٹم مہیا کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ سولر سسٹم کن خاندانوں کو دیا جائے گا اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا اس حوالے سے وفاقی حکومت سے مشاورت جاری ہے، جلد ہی تمام تفصیلات کا اعلان کردیا جائے گا۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے لیے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

معاشی ماہرین کے مطابق ملک بھر میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ’پروٹیکٹڈ‘ گھرانے موجود ہیں اور ان میں سے تقریباً ایک کروڑ گھرانے پنجاب میں ہیں۔’اگر یہ سسٹم ہر گھرانے کو دیا جاتا ہے تو کُل قیمت ایک کھرب سے بھی تجاوز کر جائے گی۔‘’ظاہر سی بات ہے کہ حکومت کے پاس اس سکیم کے لیے مالیاتی وسائل تو نہیں لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ پنجاب حکومت 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کردے اور پھر صارفین تین یا چار سال میں اس کی اقساط بھرتے رہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’روشن گھرانہ‘ سکیم کی کامیابی اس پر منحصر کرتی ہے کہ حکومت اسے ڈیزائن کس طرح کرتے ہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے سولر سسٹم کی 90 فیصد ادائیگی قابلِ عمل حکمتِ عملی نہیں۔

دوسری جانب معاشی ماہرین خیبر پختونخوا کی سکیم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق عمومی طور پر ایسی سرکاری سبسڈی سکیمیں بیوروکریسی کے تحت چلائی جاتی ہیں۔’تاریخ گواہ ہے کہ ایسی سکیموں کا نتیجہ فضول خرچی اور وسائل کے ضیاع کی صورت میں ہی نکلا ہے۔‘ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ  اس سکیم کے لیے درکار مالی وسائل کہاں سے آئیں گے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں ڈوبا صوبہ ہے جو اس طرح کی ناقص اور غیر سوچی سمجھی سکیموں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ان کے خیال میں یہ سولرائزنگ سکیم خیبر پختونخوا کے پاور سیکٹر کے مسائل کا حل نہیں ہے۔’زیادہ سے زیادہ یہ سکیم مائیکرو لیول پر لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا لیکن مجموعی طور پر اس کا معاشی سرگرمیوں یا گھریلو بہبود پر کوئی بامعنی اثر پڑنے کا امکان بہت کم ہے۔‘

Back to top button