کیا آئی ایم ایف کے قرضوں سے پاکستانی معیشت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو سکے گی ؟

پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں 3 فیصد تک اضافے، زراعت اور ریٹیل سمیت دیگر شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے اور پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد کو بڑھانے کی شرائط پر پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان 7 ارب ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق پاکستان کو 7 ارب امریکی ڈالر 37 ماہ کے طویل عرصے میں ملیں گے۔ تاہم معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہو گی۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے قرضے کے حصول سے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور پاکستان اور آئی ایم ایف کے 74 برس کے ساتھ اور اربوں ڈالر کے قرضے لینے کے باوجود پاکستان میں معاشی استحکام کیوں نہیں آ سکا؟

خیال رہے کہ گیارہ جولائی 1950 کو پاکستان دنیا کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے انٹرنیشل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف کا رکن بنا۔ آئی ایم ایف کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق ان 74 برسوں میں پاکستان آئی ایم ایف سے 22 مرتبہ قرض لے چکا ہے جبکہ اب لمبی مدت کے 23ویں قرض کے لیے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین سٹاف لیول کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے پہلا قرض لینے کی درخواست 8 دسمبر 1958 کو یعنی قیام پاکستان کے گیارہ سال بعد کی تھی جس کے نتیجے میں 25000 ڈالر کے برابر رقم جاری کی گئی۔آج کی ڈالر کی قیمت کے مطابق یہ رقم پونے تین لاکھ ڈالر کے قریب بنتی ہے ۔
آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008 میں لیا جس کی مالیت 7.6 ارب ڈالر تھی۔
آئی ایم ایف سے پاکستان نے دوسرا قرض 1965 کی جنگ کے دوران لیا جس کی مالیت 37500 ڈالر تھی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کا آئی ایم ایف پر انحصار 1965 اور 1971 کی جنگوں سے شروع ہوا اور اس کے بعد پہلا بڑا قرضہ پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں نے 2008 میں لیا۔قرضوں کی ادائیگی کے نظام کے ساتھ ساتھ دیگر اقتصادی اشاریوں میں بہتری 2014 اور اس کے بعد دیکھی گئی تاہم اس دور میں بھی اصلاحات پر زیادہ کام نہیں ہوا اور پھر صورت حال دوبارہ سنبھل نہ سکی۔70 کی دہائی سے شروع ہونے والا آئی ایم ایف پر انحصار کا سلسلہ پھر رُک نہیں سکا۔ 80 کی دہائی میں کچھ بریک لگی تاہم 90 کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں میں چار مرتبہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام شروع کیے گئے۔

آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر دیے گئے پاکستان سے متعلق اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو کئی دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابقآئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرض مسلم لیگ ن کے ادوار میں لیا گیا جو آئی ایم ایف کے پاکستان کے کُل قرض کا تقریبً 41 فیصد ہے۔اسی طرح پیپلزپارٹی نے اپنے تمام ادوار میں کل قرض کا اڑتیس فیصد جبکہ فوجی حکومتوں نے اٹھارہ فیصد لیا۔
پاکستان پر اس وقت بیرونی قرضے مجموعی طور پر 131 ارب ڈالر سے زائد ہیں جن میں چین کا قرضہ سب سے زیادہ ہے۔ایڈ انٹرنیشنل نامی ادارے کے مطابق یہ قرض تقریبا 79 ارب ڈالر ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی بیرونی قرضوں کی رپورٹ کے مطابق 38 ارب ڈالر کے قرضے مختلف ممالک سے لیے گئے ہیں۔ ساڑھے سات ارب ڈالر آئی ایم ایف اور ساڑھے سات ارب ڈالر کے انٹرنیشنل بانڈز ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق ’آئی ایم ایف سے قرض لینا بری بات نہیں ہے۔ پوری دنیا کے ممالک اپنے اقتصادی امور کو بہتر کرنے کے لیے یہ قرض لیتے ہیں۔‘ ’سب سے زیادہ قرض تاریخ میں امریکہ نے لیے لیکن اصل مسئلہ ہے کہ اس قرض کے بعد آپ نے اپنی معاشی منصوبہ بندی کیسے کی۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں اس کا فقدان رہا اور کبھی بھی مضبوطی کے ساتھ پاکستان اقتصادی معاملات کو ٹھیک نہیں کر سکا۔‘

اقتصادی ماہرین کے مطابق معاشی بہتری آئی ایم ایف پروگرام سے زیادہ پاکستان کی معیشت کا نظم و نسق چلانے والوں پر منحصر ہے۔تاہم درست معاشی اصلاحات کرنے کے بجائے حکومت کا سارا زور تنخواہ دار طبقے اور عوام سے بلوں کی صورت میں پیسہ اکٹھا کرنے پر ہے تو ایسے میں بہتری تو مشکل ہی ہے۔‘ ’بہت زیادہ سخت معاشی اقدامات سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی تو آئی ہے لیکن اس سے کاروبار کرنے کی فضا بھی خراب ہوئی ہے۔‘

Back to top button