جنرل باجوہ کی تیسری ایکسٹینشن لینے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے دعوی کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل جاوید قمر جاوید باجوہ چھ سال تک آرمی چیف کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود گھر جانے کو تیار نہیں تھے لہذا موصوف نے ایک اور ایکسٹینشن حاصل کرنے کے لیے تب کے وزیراعظم عمران خان اور ان کی اپوزیشن، دونوں کو ماموں بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ یوں خان صاحب اور باجوہ، دونوں کو گھر جانا پڑا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کے تین معرکے، پاکستان کا نقصان کر گئے۔ ہماری بدقسمتی کہ اکثر فوجی سربراہان ذاتی مفاداتی ایجنڈے پر چلتے ہوئے ریاست اور فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ ہماری 75 سالہ تاریخ میں جنرل ایوب سے لیکر جنرل باجوہ تک 15 فوجی سربراہان آئے، لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہیں کہ جسے بطور قومی ہیرو یاد کیا جائے، ہاں مارشل لا لگانے والے آرمی جلیس کو بطور قومی ولن ضرور کوسا جاتا ہے، حفظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ اگر روس کے خلاف افغان جنگ جنرل ضیاء الحق، سیاسی حکومت کی زیر نگرانی لڑتا تو بطور قومی ہیرو تاریخ میں مقام پاتا، لیکن اج اسے ایک ولن قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جنرل قمر باجوہ کے پاس یہ منفرد اعزاز ہے کہ موصوف نے باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ اپنے ہی ادارے کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا۔ 29نومبر 2016، جنرل باجوہ کو بہترین فوج کی سربراہی کا اعزاز ملا۔ مگر انہوں نے چھوٹتے ہی، اپنے محسن نوازشریف کی اکھاڑ پچھاڑ میں جنرل راحیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ٹھان لی۔ انہوں نے چند ماہ بعد ہی، مارچ 2017ء میں نواز شریف کو مجبور کیا کہ آپ وزارتِ عظمیٰ چھوڑ دیں، اور شہباز شریف یا کسی من پسند بندے کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ یوں میاں صاحب کی پانامہ کیسز سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ اس دوران موصوف نے اپنی اگلی توسیع کا مطالبہ بھی کرنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف نواز شریف کا ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی فوجی سربراہ کو توسیع نہیں دی۔ چنانچہ باجوہ نے تہیہ کر لیا کہ نواز شریف کو ہٹا کر دم لینا ہے۔ چنانچہ باجوہ نے پہپے نواز شریف کو نااہل قرار دلوایا اور پھر 2018 کے فراڈ الیکشن کے ذریعے اسے وزیراعظم بھی بنوا دیا۔ اسکے بعد اس مفاد پرست جرنیل نے خان کی کٹھ پتلی حکومت قائم کر کے 2019ء میں اپنی توسیع یقینی بنائی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے باوجود جنرل باجوہ کو چین نہیں لہذا موصوف نے انہیں سیاست سے بھی باہر کرنے کیلئے کچھ مذید کام کیے۔ پہلے موصوف نے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹوایا، اور پھر انہیں بیٹی سمیت 10 سال قید کی سزا دلوائی۔ دھونس دھاندلی سے عمران خان کو اقتدار دلانا باجوہ کے پہلے معرکے کا حصہ تھا۔ اسطرح اختیارات عملاً جنرل باجوہ کے پاس جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان کا اقتدار میں عمل دخل صرف حماقتوں تک محدود رہنا تھا۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ 7 جنوری 1951ء سے جب بھی کوئی پاکستانی سپہ سالار بنا، اسی لمحہ تاحیات سربراہ رہنے کا عزم ساتھ لف رہا۔ جنرل باجوہ کا ایجنڈا بھی مختلف نہ تھا ،چیف بنتے ہی تاحیات سربراہ رہنے کی خواہش ان میں بھی بدرجہ اتم موجود تھی۔ انکی نظر میں نوازشریف کا جرم، انہیں توسیع سے انکار کرنا تھا۔ لہذا بطور آرمی چیف انہوں نے اخری دن تک نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی اور اپنی ذات کی خاطر ہر چیز داؤ پر لگاتے رہے۔ اس حوالے سے جنرل باجوپ کے سہولت کار کے طور پر عمران خان اور سپریم کورٹ کا گھناؤنا رول بھی ہمیں رکھنا ہو گا۔ یہ دونوں قدم بہ قدم فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ کا جھنجھنا بنے رہے۔ دونوں کے پاس اسکرپٹ ایک ہی تھا، کہ نواز شریف پر جھوٹے الزامات کی تشہیر کرنی ہے، اور ان کی حبّ الوطنی پر سوالات اٹھانے ہیں، لہذا کرپشن کے جھوٹے الزامات کے علاوہ میاں صاحب کو مودی کے یار کا طعنہ بھی دیا گیا۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ بطور وزیراعظم نواز شریف کی کسی آرمی چیف سے نہیں بنی، وجہ یہ تھی کہ وہ فوج کے سیاسی کردار کو ختم کرنا چاہتے تھے اور کسی بھی آرمی چیف کو توسیح دینے کے حق میں نہیں تھے۔ اسی لیے 2014ء سے 2018 ء تک، نواز حکومت ایسے زیر عتاب رہی کہ تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تب 30 ٹی وی چینلز حکومت وقت کا موقف دینے سے انکاری تھے،عمران خان اور ان کے کنیڈین فرسٹ کزن طاہر القادری شانہ بشانہ ہرنواز مخالف سُو لائیو میں آگے آگے ہوتے تھے۔ اس دوران سینیئر اینکر پرسن حامد میر کو گولیاں ماری گئیں تو عامر میر نے جیو ٹی وی پر اس واقعے کا الزام تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کر دیا۔ چنانچہ جیو ٹی وی کو آف ایئر کر دیا گیا۔ چھاؤنیاں، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے طول و عرض میں بڑے بڑے کیبل آپریٹرز جیو TV کو دکھانے سے خوفزدہ تھے۔ اسکے بعد عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران 2020 میں میر شکیل الرحمن کو بغیر کسی وجہ 7 ماہ جیل میں رکھا گیا جس کا واحد مقصد جیو اور جنگ کو سبق سکھانا تھا۔ اس دوران جنرل باجوہ نے یہ خطرناک بیان بھی دے دیا کہ ’’کنٹونمنٹس میں کس TV چینل کو چلانا ہے اور کس کو نہیں، یہ میرا اختیار یے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ اس دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان اور باجوہ کے ساتھ مل کر نواز شریف مخالف ایجنڈا تیزی سے اگے بڑھایا اور چھوٹے پن کی نئی مثالیں قائم کیں۔ عمران خان کی خاطر سکرپٹ جنرل باجوالہ لکھتا تھا اور اس پر عمل درامد ثاقب نثار کیا کرتے تھے۔ موصوف نے سپریم کورٹ کو خان صاحب کے گھر کی لونڈی بنا دیا لہازا وہ انکے ہر ناجائز عمل کو جائز قرار دیتے رہے۔ ایک طرف ثاقب نثار عدلیہ کے ایوانوں کو استعمال کر کے ناانصافی کی تاریخ رقم کر رہا تھا تو دوسری طرف عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لکھے ہوئے سکرپٹ کو سر ہلا ہلا کر فرفر پڑھ رہا تھا ۔ یوں جنرل باجوہ نے اپنا پہلا معرکہ سر کر لیا۔ 2018 تک ہر شعبہ میں جامع طریقہ سے مقاصد پایہ تکمیل کو ایسے پہنچے کہ تاریخ میں ایسی کھلم کھلا فوجی مداخلت کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس کارکردگی پر جنرل باجوہ کو کریڈٹ دینا ہوگا۔ پہلا معرکہ سَر ہو جائے تو دوسرے معرکہ کی تیاری کسی بھی جری جرنیل کی سرشت کا حصہ ہے ۔ موصوف نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھنا تھا اور عمران حکومت کو بھی بقلم خود چلانا تھا لہازا 2019 میں توسیع لینا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ پراجیکٹ عمران خان کی تکمیل کیساتھ ہی جنرل باجوہ دوسری توسیع کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ اس دوران پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد بھی خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے رہا تھا لہذا جنرل باجوہ نے اس تحریک کو روکنے کے عوض عمران خان سے تیسری توسیع کا مطالبہ کر ڈالا۔ تاہم باجوہ کی بد قسمتی کہ اپوزیشن نے عمران خان کی خواہش پر جنرل باجوہ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا کہ تحریک عدم اعتماد نہ لائی جائے۔ یوں خان صاحب کو بھی گھر جانا پڑا اور جنرل باجوہ کو بھی۔۔۔۔

Back to top button