مالدار اور قابل پاکستانی ملک چھوڑ کر باہر کیوں جا رہے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ آج پاکستان کا ہر مالدار شخص اور خاندان مایوسی کا شکار ہو کر یا تو پاکستان چھوڑ چکا ہے یا چھوڑنے والا ہے کیونکہ یہاں انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر اتا ہے۔ بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اس وقت ہماری حالت دیسی ائیر لائن کے ان مسافروں جیسی ہے جو سیٹ بیلٹ باندھے پرواز اڑنے کے منتظر ہیں۔ چونکہ انجن بند ہیں چنانچہ اے سی نہ چلنے کے سبب کیبن میں گھٹن بڑھ رہی ہے۔ کھڑکی سے باہر جھانکتے یا بے چینی سے پہلو بدلتے بے بس مسافروں کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے کہ پرواز میں تاخیر کا سبب آخر کیا ہے؟ کیا کسی وی آئی پی کا انتظار ہے؟ کیا کوئی تکنیکی خرابی دور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟ کیا پائلٹ یا معاون میں سے کسی کی طبیعت ناساز ہے؟ یا کوئی اور پراسرار وجہ ہے؟

کیبن سے ہر آدھے پونے گھنٹے بعد آنے والی کسی فضائی میزبان کی مشینی لہجے سے لبالب آواز مسافروں کی جھنجھلاہٹ اور بڑھا رہی ہے۔ بتایا جا رہا یے کہ ’ناگزیر تکنیکی وجوہات کے سبب تاخیر پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ ہم انشااللہ تھوڑی دیر میں پرواز کر جائیں گے۔ براہِ کرم اپنی نشستوں پر تشریف رکھیے۔ کرسی کی پشت سیدھی رکھیے وغیرہ وغیرہ۔

یہ کہانی سنانے کے بعد وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ریاست پاکستسن کا طیارہ بھی ایسی ہی حالت میں ہے۔ اسکق انجن کبھی آن ہوتا ہے کبھی آف مگر طیارہ ہل نہیں رہا۔ کبھی تو یوں لگتا ہے کہ یہ ٹائروں کے بجائے اینٹوں پر کھڑا ہو۔ پر تاثر مسلسل یہ دیا جا رہا ہے کہ بس تھوڑی دیر میں ہی ہم ٹیک آف کرنے والے ہیں۔
پچیس کروڑ مسافروں کو یہ تو اندازہ ہے کہ کچھ اوندھا سیدھا ہوئے چلا جا رہا ہے۔ لیکن ریاستی ائیرلائن کا عملہ نہ مسافروں کو پوری سچائی کے ساتھ اعتماد میں لینے کی ہمت رکھتا ہے۔ نہ اپنے کچھ غلط ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔ نہ ہی مسئلے کی نوعیت بتانے پر تیار ہے اور یہ بھی کہ اندازاً خرابی کب تک دور ہو جائے گی؟ ایسی بے یقینی کے جوہڑ میں افواہیں پنپتی ہیں۔ افواہوں کے جھنڈ کو حقائق کے اجالے سے بھگانے کے بجائے تادیبی قوانین کا بوجھ اور بڑھا کے انھیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو ’دبکے‘ میں نہ آئے اس پر شرپسند، ملک دشمن، بیرونی آلہ کار وغیرہ وغیرہ کے بیسیوں سٹیکرز میں سے کوئی بھی چپکا دیا جاتا ہے۔

وسعت اللہ خان کے بقول ایسی اول جلول حرکتوں اور انتظامی بدحواسیوں سے عدم اعتماد کی خلیج تھوڑی اور بڑھ جاتی ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کے لیے کھردرے طرزِ عمل میں مزید سختی لائی جاتی ہے۔ یوں مزید غلط فہمیاں پھلتی پھولتی ہیں۔ یوں ہم سب ایک منحوس چکر کے قیدی بنے گول گول گھومتے رہتے ہیں۔ جن ریاستوں کو خود پر اعتماد ہوتا ہے ان کے چالک سوچ بچار کر کے ایسی انتظامی، سیاسی، اقتصادی قانون سازی پر توجہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک عام شہری ریاستی امور میں برابری کی ساجھے داری اور اس ساجھے داری سے وفاداری محسوس کرے۔ مگر جو ریاستیں بالادست طبقات اور اداروں کے مفادات کو ہمیشہ اوّلیت دیتی ہیں انھیں اس گولی کو عام آدمی کے حلق سے اتارنے کے لیے سماجی، مذہبی، اقتصادی و سیاسی جبر اور نفاق پرست حکمت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جبر کی مزاحمت میں جو بے چینی جنم لیتی ہے اسے خوش اسلوبی سے کم کرنے کے طریقے سوچنے کے بجائے اسے دبانے کے لیے مزید جبر کا سہارا لیا جاتا ہے اور اس جبر کو بیرونی دنیا کے لیے زود ہضم بنانے کی خاطر رنگ برنگی قانونی پوشاکیں پہنانا پڑتی ہیں۔ اور پھر اس ’حسنِ انتظام‘ کو آئینی و قانونی و جمہوری قرار دے کر استحصال کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔

بقول وسعت اللہ خان، یوں سمجھ لیں کہ فوج اور اشرافیہ کے نزدیک عام آدمی وہ گدھا ہے جس کے آگے مستقبل کے سنہرے ڈنڈے پر امید کی گاجر باندھ کر لامحدود سواری گانٹھی جا سکتی ہے۔ جب گدھا تھکن سے چورگر پڑتا ہے تو اس کے جوان بچوں کو سواری میں جوت لیا جاتا ہے۔ اس گدھا پچیسی کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ریاست بالاخر دو واضح فریقوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک وہ جس کا ایک ہاتھ وسائل پر ہے اور دوسرے ہاتھ میں شخصی و طبقاتی و ادارہ جاتی مفادات کے تحفظ کا قانونی ڈنڈا ہے اور دوسرا فریق وہ مسائل زدہ مخلوق ہے جو اس ڈنڈے سے مسلسل پیٹی جا رہی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ استحصال جاری رکھنے والوں کو بھی ریاست کی پائیداری پر اعتماد نہیں ہوتا۔ وسائل، سہولتوں اور میرٹ کی منصفانہ تقسیم کو مسترد کرنے والا بالادست طبقہ بھی اس مستقل خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کل کلاں اگر یہ سب چھن گیا یا پھر ریاست ہی چھن گئی تو کیا ہو گا۔اس لالچی گھبراہٹ کے سبب یہاں جبر اور لوٹ کھسوٹ کی رفتار اور بڑھتی چلی جاتی ہے اور ہر ابھری ہوئی کیل کا علاج ہتھوڑے میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ ایسے میں جب فیصلہ سازوں کو زمین پاؤں تلے سے نکلتی محسوس ہوتی ہے تب سماج، ملک اور قومی ڈھانچے کو اس کے حال پر چھوڑ کے راہِ فرار اختیار کر لی جاتی ہے۔تاریخ ایسی بیسیوں عبرتی مثالوں سے مالامال ہے۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ جس طبقے کو مسلسل توہین، عزتِ نفس کی پامالی، جان و مال کے عدم تحفظ ، دوسرے اور تیسرے درجے کے شہری ہونے کے لگاتار احساس، سماجی و مذہبی گھٹن اور ترقی کے مواقع کی بند گلی کا سامنا ہوتا ہے، اس کے پاس آخر میں دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو اٹھ کھڑا ہوا جائے یا اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور ہو جایا جائے یعنی جس کے پاس بھی دولت، قابلیت یا نکلنے کا وسیلہ ہو وہ ملک چھوڑ کر چلا جائے۔ چنانچہ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہر کوئی پر تول رہا ہے۔ لوٹنے والے بھی بیرونِ ریاست اپنا اور اپنی نسلوں کا تسلی بخش انتظام کر چکے ہیں اور لٹنے والے بھی پہلی فرصت میں نکلنا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ ریاست بنی تو آزادی کے وعدے پر مگر اس سے لگاتار ایک نوآبادی جیسا سلوک کیا گیا ۔ فرق بقولِ غالب بس اتنا پڑا کہ گورے کی قید سے رہائی ملی تو کالے کی قید میں آ گئے۔ البتہ حکمران طبقات آج بھی گورے کی اقتصادی و ذہنی قید میں ہیں اور ہم اپنے ہی خرچ پر ’ کالوں‘ کی قید میں ہیں۔ گویا غلام کا ہدف غلام ہی ہے۔

Back to top button