مریم جس کو سمجھتی ہیں تابعدار، وہ اصل میں ہے بہت ہوشیار


مریم نواز شریف کی جانب سے تابعدار قرار دیے جانے والے بندے یعنی وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کئی لوگ بالکل الٹ رائے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بندہ دراصل اتنا گہرا اور ہوشیار ہے کہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بڑے بڑوں کو بے وقوف بنا لیتا ہے اور سامنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
سینئر اینکر پرسن اور صحافی سلیم صافی اپنی تازہ ترین تحریر میں لکھتے ہیں کہ 2011 میں جب اس وقت کی اسٹیبلشمینٹ نے بظاہر تابعدار لیکن اصل میں ہوشیار بندے کو نواز شریف اور آصف زرداری کا متبادل بنانےکا فیصلہ کیا تو آغاز لاہور کے مینار پاکستان اور پنڈی کےمشہور زمانہ جلسوں سے کیا گیا۔ ملک کے بڑے بڑے اہل سرمایہ کو کہا گیا کہ وہ نوٹ نچھاور کریں۔ میڈیا کو بھی ہدایات جاری ہوئیں کہ انہیں مسیحا ثابت کریں۔ لیکن آپ حیران ہوں گے کہ تب خے صدر آصف علی زرداری نے بھی اہنے دوستوں سے ان جلسوں کے لئے پیسے دلوائے اور سرکاری سپورٹ بھی فراہم کی۔ زرداری صاحب کا تجزیہ تھا کہ وہ بھی چونکہ دائیں بازو کے لیڈر ہیں اور مسلم لیگ (ن) بھی دائیں بازو کی جماعت ہے ، اس لئے یہاں وہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹ کاٹیں گے لیکن وقت آنے پر انہوں نے پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کا نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کا جنازہ نکال دیا۔ صافی کہتے ہیں کہ اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بندہ بظاہر تابعدار لیکن اصل میں زرداری سے بھی کئی گنا زیادہ چالاک اور ہوشیار ہے۔
سلیم صافی عمران خان کا نام لیے بغیر مزید لکھتے ہیں کہ اس بظاہر تابعدار لیکن اصل میں ہوشیار بندے نے نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو لڑانے کی مہم شروع کررکھی تھی ۔ عقلمندی کا تقاضا یہ تھا کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دس سال کی بداعتمادی کو ختم کرتے لیکن وہ ان کی سازش کا شکار ہوئے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تنائو بڑھاتے رہے ، جس کی وجہ سے مسٹر تابعدار لیکن نہاہت ہوشیار اسٹیبلشمنٹ کی پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہو گئے ۔ یوں اصل میں ہوشیار نواز شریف نہیں بلکہ بندہ تابعدار ہے۔
صافی لکھتے ہیں کہ کرکٹ ورلڈ کپ پوری ٹیم نے جیتا لیکن کپتان نے جیت صرف اپنے نام کردی ۔ پھر ورلڈ کپ کو بہت ہوشیاری کے ساتھ ہسپتال کے لئے اور پھر ہسپتال کو سیاست کے لئے استعمال کیا ۔ نواز شریف اور زرداری کے برعکس بظاہر تابعدار لیکن اصل میں ہوشیار بندے نے نہ کبھی اپنا پرس رکھا اور نہ ہی اپنا بینک بیلنس۔ دورجوانی سے اپنے اردگرد دولت مند رکھے جو ان کی ہر خواہش پوری کرتے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ بندہ بڑا چالاک ہوشیار ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ تابعدار کو اندازہ تھا کہ پاکستان میں اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ ہے۔ چنانچہ پہلے دن سے اس نے ان حلقوں سے بنا کر رکھی اور جب پرویز مشرف نے ٹیک اوور کیا تو اس نے نہ صرف اسکی حمایت کی بلکہ اسکی کابینہ میں اپنے بندے بھی شامل کروائے۔ تب مسٹر تابعدار ہر دوسرے روز ان کےگھر ملاقات کے لئے حاضر ہوتے اور ان سے الیکٹیبلز کی ڈیمانڈ کرتے۔ تابعدار لیکن ہوشیار نے ریفرنڈم میں مشرف کے لئے ووٹ بھی مانگے لیکن جب اقتدار کا ہما ان کی بجائے چوہدریوں کے سر بٹھانے کا فیصلہ ہوا تو وہ ناراض ہوگے، تاہم مشتعل پھر بھی نہیں ہوئے کیونکہ بندہ بہت چالاک اور ہوشیار ہے۔
صافی کے مطابق تب بھی وہ مشرف کے مخالف نظر آرہے تھے لیکن ڈیپ اسٹیٹ کے ساتھ معاملات درست رکھے۔ مشرف کے خلاف بیانات کے دنوں میں لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے لیکن درون خانہ وہ ڈیپ اسٹیٹ ہی کا کارندہ تھا۔ تب جب میں کسی کے سامنے اس رائے کا اظہار کرتاکہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کے بندے ہیں تو لوگ مجھے احمق اور بے وقوف سمجھتے ۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ سادہ نہیں بلکہ بندہ بہت چالاک اور ہوشیار ہے۔
صافی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں مسٹ تابعدار عرف ہوشیار عوام کے سامنے اسٹیٹس کو ختم کرنے کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس وقت کے اپنے سرپرستوں کے حکم پر اس نے جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کواپنا نمبرٹو بنایا اور یہ سوال نہیں اٹھایا کہ یہ تو روایتی سیاستدان ہیں۔ اس کے ایک طرف علیم خان، دوسری طرف جہانگیر ترین، تیسری طرف اعظم سواتی اور چوتھی طرف شاہ محمودقریشی بیٹھے رہے لیکن پھر بھی نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا اور ان کو اس غلط فہمی کا شکار رکھا کہ اقتدار میں آکر سٹیٹس کو توڑیں گے اور کرپشن ختم کریں گے ۔ نوجوان اسے انقلاب کا نقیب سمجھتے رہےکیونکہ بندہ صرف سادہ اور تابعدار نہیں بلکہ کمال کی حد تک چالاک اور ہوشیار ہے۔
سلیم صافی کے مطابق مولانا طارق جمیل اور پروفیسر رفیق اختر وغیرہ کے سامنے مسٹر تابعدار ایک الگ قسم کے انسان ہیں ۔ لیکن اعظم خان ،زلفی بخاری، کراچی والے زیدی اور واوڈا وغیرہ کے سامنے وہ دوسری طرح کے انسان ہیں۔ اسد عمر، شاہ محمود اور دیگر وزرا کے سامنے وہ ایک اور طرح کے انسان ہیں جبکہ پبلک کے سامنے ایک اور طرح کے ۔ جاوید ہاشمی جیسا انقلابی ہویا جہانگیر ترین جیسا رائٹ ہینڈ، وہ معمولی گستاخی کریں تو ان کا بلڈ پریشرہائی ہوجاتا ہے اور ان کو پرے پھینکنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ لیک اس کے برعکس جنرل راحیل شریف نے انہیں استعمال کیا ‘پھر انہیں آرام سے گھر جانے کاکہا لیکن ان کا بلڈپریشرہائی نہیں ہوا۔ اپنی ایکسٹینشین کے لئے ان سے لاک ڈائون کرایا اور پھر آرام سے الیکشن کا انتظارکرنے کا کہا تو بھی وہ برہم نہیں ہوئےکیونکہ وہ جانتے تھےکہ کس کے سامنے اپنے بلڈپریشر کو ہائی رکھنا ہے اور کس کے سامنے لو؟
صافی کہتے ہیں کہ مسٹر تابعدار کو نواز شریف اور زرداری کی شکل پسند ہے اور نہ ان کا کوئی کام لیکن ان دونوں کی ایک پسند یعنی جسٹس جاوید اقبال کو وہ پیار کرنے لگے ہیں۔ اس پسند کا کچھ مواد قبضے میں لے کر جتنا انہوں نے جاوید اقبال کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا، اتنا ان کے اصل مالک بھی نہیں کرسکے کیونکہ بندہ بڑاچالاک اور ہوشیار ہے ۔
جنرل قمر جاوید باوجوہ ، عمران خان نہیں بلکہ نواز شریف کی چوائس تھے ۔ وہ میاں نواز شریف کے ہر نقش کہن کو مٹانا چاہتے ہیں لیکن میاں صاحب کی اس ایک چوائس کو ملازمت میں توسیع دے ڈالی۔ توسیع دیتے وقت نوٹیفیکیشن پر نوٹیفکیشن نکال کر اس معاملے پر انہیں بھی اور عدلیہ کو بھی آزمائش میں ڈالا لیکن صسف بچ نکلا کیونکہ بندہ حد سے زیادہ چالاک اور ہوشیار ہے ۔ صسفی خے مطابق یہ بندہ اتنا ذیادہ سمجھدار اور اتنا ہوشیار ہے کہ باری باری سب کو بے وقوف بنا چکا۔ لیکن بے وقوف بننے واکے خود کو بے وقوف سمجھنے کی بجائے مسٹر تابعدار کو سادہ سمجھتے رہے۔ اور بعض بے وقوف تو آج بھی اسے سیدھا سادہ سمجھ رہے ہیں۔ ہے نا کمال کا چالاک اور ہوشیار؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button