مریم نواز ملک کی اگلی وزیراعظم بن سکتی ہیں یا نہیں؟
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مرتبہ پھر ایک خاتون یعنی مریم نواز کا نام بطور وزیراعظم زیر بحث ہے۔ تاہم ماضی اور حال میں فرق یہ ہے کہ آج سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف اگلے وزیراعظم ہوں گے یا مریم نواز جبکہ ماضی میں سوال یہ تھا کہ کیا ایک خاتون اسلامی ریاست کی سربراہ بن سکتی ہے یا نہیں؟ پاکستانی سیاست میں عورت کے حق حکمرانی کے حوالے سے رجعت پسند مخالفین نے ہمیشہ مذہب کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگوں میں مولانا فضل الرحمن سر فہرست تھے جنہوں نے پہلے تو نظیر بھٹو کو عورت ہونے کے ناطے وزارت عظمیٰ کے لئے ناقابل قبول قرار دیا لیکن بعد میں منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہی کے دور حکومت میں سرکاری کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن گئے اور یوں اپنے موقف سے یوٹرن لے لیا۔ آج کل مولانا فضل الرحمن یپلز پارٹی کو پی ڈی ایم اتحاد سے نکالنے کے بعد مریم نواز کے لیے وزارت عظمی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
ناقدین کے مطابق یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ ماضی میں فاطمہ جناح سے لیکر بے نظیر بھٹو تک رجعت پسند مذہبی عناصر نے اپنے وقتی سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کارڈ کا بے دریغ اور انتہائی بھونڈے انداز میں استعمال کیا۔ عورت کی حکمرانی کے مخالفین نے موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی ایک مؤقف اپنایا اور جب مصلحتوں کے تقاضے بدلے کیا اس مؤقف کو ترک کرکے اسکے برعکس دوسرا مؤقف اپنا لیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی مخالفت کرنے والی مذہبی جماعتوں نے ماضی میں فاطمہ جناح کی بطور صدارتی امیدوار حمایت کی تھی کیونکہ تب مصلحت کا تقاضہ مختلف تھا۔ لیکن جب وقت بدلا تو فاطمہ جناح کی حمایت کرنے والی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نے بے نظیر کی قیادت کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔ یہی موقع اسامہ بن لادن کا بھی تھا جس نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے لیے مبینی طور پر آئی جی آئی کی قیادت میں پیسے بھی تقسیم کیے۔
کچھ عرصہ سے مسلم لیگ ن کے حلقوں میں یہ بحث عروج پر ہے کہ اس جماعت کا وزارت عظمیٰ کا امیدوار کون ہو گا ؟ اس بارے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ بیان سامنےآیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے موجودہ پارلیمانی لیڈر شہباز شریف ہی وزارت عظمی ٰ کے امیدوار ہوں گے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے یہ فرمایا کہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار صرف نواز شریف ہوں گے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وزارت عظمی ٰ کے لیے ن لیگ کی طرف سے مریم نواز کا نام بھی لیا جا رہا ہے جنہوں نے پچھلے کچھ برسوں میں عوامی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ لہذا مسلم لیگ کے مزاحمتی دھڑے میں مریم نواز کو پارٹی کا مستقبل اور اگلا وزیراعظم بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو بھی مریم نواز کے وزیر اعظم بننے پر کوئی اعتراض نہیں۔
تاہم ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ آج سے کچھ دہائیاں قبل جب ایک خاتون بے نظیر وزارت عظمی ٰکی امیدوار تھیں تو مریم کے والد نواز شریف نے بطور اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ بی بی کا راستہ روکنے کے لئے یہ موقف لیا تھا کہ کوئی عورت مسلم ریاست کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ تب مسلم لیگ صوبہ سرحد کے صدر جنرل فضل حق نے ضلع مردان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے غیور عوام اس بات کو قبول نہیں کریں گے کہ ایک عورت ان پر حکمران ہو کیونکہ اسلام میں عورت کو امامت کا حق نہیں دیا گیا۔ اس جلسہ عام میں نواز شریف بھی شریک تھے لیکن۔ یہی نہیں بلکہ اسلامی جمہوری اتحاد نے اپنا موقف مضبوط بنانے کے لئے مختلف فتوے بھی حاصل کرنا شروع کئے۔ چنانچہ اخبارات میں یہ فتویٰ شائع ہوا کہ عالم اسلام کی معروف اور قدیم ترین درسگاہ جامعہ ازہرکے چار ممتاز علماء نے یہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ کوئی خاتون کسی اسلامی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ اس فتوے میں کہا گیا کہ عالم عرب کو اور امت اسلامیہ کو حیرت ہے کہ بے نظیر بھٹو نے خود کو وزارت عظمی ٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے حالانکہ اسلامی نقطہ نگاہ سے کسی عورت کا سربراہ بننا قطعی غیر شرعی ہے۔
1988 کے عام انتخابات سے ایک روز قبل ملک کے چالیس جید علما سے مشترکہ فتویٰ لیا گیا کہ پاکستانی عوام اسلامی جمہوری اتحاد کو ووٹ دیں کیونکہ عورت سربراہ حکومت نہیں بن سکتی۔ اور تو اور جب انتخابات سے قبل افق پر پیپلز پارٹی کی جیت کے آثار نظر آ رہے تھے تو آزاد کشمیر کے سیاستدان ھی اس بحث میں کود پڑے۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار قیوم خان نے یہ بیان داغا کہ اسلام میں عورت کے سربراہ بننے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ شروع میں فضل الرحمن کی جمیعت العلماء اسلام کا بھی یہ موقف تھا کہ ہم کسی صورت عورت کی حکمرانی قبول نہیں کر سکتے۔ جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل نے انتخابات کے بعد یہ اعلان کیا کہ ہم ایک عورت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومتی سربراہ کے طور پر قبول نہیں کر سکتے۔ پھر یہ مطالبہ آیا کے قومی اسمبلی کہ سات سیٹیں جیتنے والی جمیعت العلماء اسلام فضل الرحمن سے اگلا وزیر اعظم منتخب کیا جائے، تب ہی ہم تعاون پر آمادہ ہوں گے۔ یہ شرط تو کسی نےکیا ماننا تھی، آخر میں فضل الرحمن اور ان کی جماعت کو اسی تنخواہ میں گذارہ کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کا اتحادی بننا پڑا۔ بعد ازاں مولانا کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنا دئیے گئے۔
