مریم نواز کو لیگی قیادت ملی تو امتحان میں پورا اتریں گی


مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں مریم نواز کو پارٹی کی قیادت سونپی گئی تو وہ اس امتحان میں بھی پورا اتریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے خود کو بطور ایک میچور سیاسی لیڈر کے منوا لیا ہے اور اسی لئے پیپلزپارٹی والے بھی ان سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے مریم نواز کی لاڑکانہ میں مقبولیت دیکھ لی تھی اور اب اسی خوف کو کم کرنے کے لیے وہ ان پر تنقید کر رہے ہیں۔
سینئر صحافی عاصم نصیر کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر جمہوری اختلاف چلتا رہتا ہے لیکن مزاحمتی اور مفاہمتی تقسیم نہیں ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے خود کو ایک مقبول عوامی لیڈر کے طور پر منوا لیا ہے اور اگر مستقبل میں پارٹی قیادت انہیں سونپی جاتی ہے تو وہ یہ ذمہ داری بھی بخوبی نبھا لیں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ اور شوکت عزیز صدیقی کی پٹیشنز کا حال دیکھتے ہوئے ن لیگ مناسب نہیں سمجھتی کہ شریف فیملی کے خلاف کیسز میں ثاقب نثار کی لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ کو بطور ثبوت پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ کہ عدلیہ نے اپنے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ثاقب نثار کو کیسا انصاف فراہم کرنا ہے اس لیے مسلم لیگ نون نہیں سمجھتی کہ ثاقب نثار کے خلاف ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
پرویز رشید نے مسلم لیگ نون کی جانب سے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک اور سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی آڈیو ویڈیو لیکس کے دفاع میں کہا کہ اگر کسی شخص نے پردے میں ذاتی کی بجائے کوئی قومی جرم کیا ہے تو اس کے کرتوت عوام کے سامنے آنے چاہیے اسی کا نام احتساب ہے اسی کو شفافیت کہتے ہیں۔ بقول پرویز رشید جس ریاست میں جتنی زیادہ شفافیت ہوگی اس ریاست اور حکومت کی ساکھ اتنی اچھی ہوگی۔ اگر ریاست اور حکومت اپنے شہریوں سے معاملات اور حقائق چھپاتی ہے تو عالمی سطح پر بھی اس پر اعتبار نہیں کیا جاتا حتیٰ کہ عوام بھی اس ریاستی حکومت کی وفاداری پر شک کرتے ہیں۔
ایک اور سوال پر پرویز رشید نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے لانگ مارچ میں کابل کی طرح اسلام آباد کو فتح کرنے نہیں جا رہے، نہ ہمارا مقصد لشکر اور جھتے لے کر اقتدار کو چھیننا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کی ناکام حکومت کو ہم آئینی اور جمہوری طریقہ سے گھر بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو آڈیو لیکس اور ویڈیو سیکنڈل نے عوام اور تاریخ کی عدالت میں سرخرو کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے حالیہ نواز شریف مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہماری جماعت مسلم لیگ (ن) سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے مریم نواز کی لاڑکانہ میں مقبولیت دیکھ لی، اس خوف کو کم کرنے کے لیے اب وہ اظہار خیال کر رہے ہیں۔لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف کا سب کچھ پاکستان میں ہے، شاید زرداری صاحب پرویز مشرف کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ مزاحمت اور مفاہمت ہماری جماعت کا بیانیہ نہیں، پارٹی میں جمہوری اختلاف ہے۔ مزاحمت اور مفاہمت ہماری جماعت کا بیانیہ نہیں پارٹی میں جمہوری اختلاف ہے یہ دو کی بجائے 5 بھی ہو سکتا ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ 1970 تک پاکستانی عوام صرف ایک ہی مطالبہ کرتے تھے کہ انہیں ووٹ کا ملنا چاہیے۔ عوام کہتے تھے کہ انہیں اپنے نمائندے چننے کا موقع دیا جائے۔ اب عوام یہ کہتے ہیں کہ ان کا ووٹ چوری نہیں ہونا چاہیے وہ جس جماعت اور جس شخصیت کو ووٹ ڈالیں وہ اسی کو ملنا چاہیے۔ پرویز رشید نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ عوام ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو اپنا رہے ہیں۔ سماجی اور سیاسی طور پر پاکستان میں بڑی تبدیلی آئی ہے کہ لوگ اپنے ووٹ کی عزت کروانے کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں اور اپنا اختیار چاہتے ہیں۔ نواز شریف شریف کے خلاف کس چیز کے حوالے سے پرویز رشید نے کہا کہ کہ درجنوں ثبوت سامنے آنے کے باوجود میاں نواز شریف کو انصاف نہیں ملا تاہم نظام عدل میں جو رکاوٹیں ہیں وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہیں۔ بقول پرویز رشید لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اگر ہم اپنے لوگوں کو انصاف نہیں دیتے تو اس سے ہم ملک کا نقصان کرتے ہیں۔ نواز شریف عوام کی عدالت میں بری ہو چکے ہیں اب فرق نہیں پڑتا کہ عدالت انہیں باعزت بری کرتی ہے یا نہیں۔ تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا تو عدالتوں، ججز اور ملک کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف فیملی عوام کی عدالت میں سرخرو ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر کے مجبور باسی انقلاب کے راستے پر گامزن ہو گئے
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حوالے سے پرویز رشید نے کہا کہ ن لیگ اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کی جدوجہد ملک میں خالص جمہوریت کی بحالی کے لئے ہے۔ پرویز رشید کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ یا جماعتیں جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کرتی ہیں ان کا مستقبل بڑا تابناک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون اور پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اپنے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ ایک دن پاکستان میں حقیقی جمہوریت ضرور بحال ہوگئی اور ووٹ کو عزت مل کر رہے گی۔

Back to top button