مریم کی لندن روانگی بارے خاقان عباسی PTI کے ہمنوا بن گئے

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی مریم نواز کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنماؤں والا مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ مریم کی عدم موجودگی میں سرجری نہ کروانے کا میاں صاحب کا موقف نا مناسب اور جذباتی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں میزبان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اتفاق کیا کہ میاں نواز شریف کی طرف سے مریم نواز کے بغیر لندن میں سرجری نہ کرانے کا بیان منطقی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ بیان جذباتی ہے کیونکہ مریم ان کی بیٹی ہے اور نواز شریف چاہتے ہیں کہ وہ آپریش کے وقت ان کے ساتھ ہوں’۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ہے اور ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا ہے وزیراعظم عمران خان کا ذاتی موقف بھی سامنے آچکا ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ نواز شریف کے بعد اب اگر مریم کو بھی باہر جانے کی اجازت دی گئی تو یہ تحریک انصاف کے احتسابی بیانیے کی موت کے مترادف ہو گا۔ تاہم شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ ‘مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی کیا وجہ ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پسند نہیں آرہی ہیں۔ اگر ان کے نزدیک یہ رپورٹس غیر مصدقہ ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کے جو طبی ٹیسٹ کرائے گئے ہیں، وہ شریف خاندان کو فوری بھجوا دینے چاہیئں تاکہ حکومت کو اس معاملے پر مزید سیاست کرنے سے روکا جاسکے۔ شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ کیا نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، کیا ایسا کرنا مناسب ہے کہ ایک بیمار شخص کی صحت کو چینلز پر موضوع بحث بنایا جائے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو لکھے گئے خط کے حوالے سےشاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ‘موجودہ حکومت ملک کی بے عزتی کرانا چاہتی ہے’۔’میں بھی وزیراعظم کے منصب پر فائز رہ چکا ہوں لیکن کبھی بیرون ملک اداروں کو کسی باعزت سیاستدان خے بارخ ایسا خط نہیں لکھا’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانیہ کو 100 خط لکھے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنا علاج مکمل کرو کر ہی واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا موجودہ حکومت نے آئین پاکستان توڑنے والے پرویز مشرف کی حوالگی کے لیے برطانیہ کو ایسا کوئی خط لکھا ہے؟ سابق وزیراعظم نے کہا کہ کیا ملک میں سارے مسائل ختم ہو گئے ہیں جو حکومت نواز شریف کی بیماری کے پیچھے پڑی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے۔ برطانیہ میں ان کا علاج ہورہا ہے۔ ان کی واپسی سے متعلق عدالت ہی فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ نواز شریف گزشتہ برس نومبر کے اواخر میں اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں علاج کے لیے لندن پہنچے تھے۔ انہیں اکتوبر میں خرابی صحت کے باعث قومی احتساب بیورو کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے پلیٹلیٹس میں مسلسل کمی کے باعث صحت پیچیدہ ہورہی تھی۔ماہر امراض خون نے نواز شریف کو ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا نامی بیماری لاحق ہونے کی تشخیص کی تھی جو خون کے خلیات میں خرابی کی علامت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button