مسافر طیارہ پر ایرانی میزائل حملے کی ویڈیو بنانے والاگرفتار

ایران کے میزائل سے یوکرین کا طیارہ تباہ ہونے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے شخص کو پاسداران انقلاب نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ مانا جا رہا ہے کہ گرفتار کیے گئے شخص کو نیشنل سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
8جنوری کو تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑانے بھرنے والے یوکرین کا مسافر طیارہ پی ایس 752 گر کر تباہ ہو گیا تھا جس سے طیارے میں سوار تمام 176مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے طیارہ حادثے کے چند ذمے داران کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور منگل کو ایران کے صدر حسن روحانی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بدھ کو ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاسداران انقلاب نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے ایران کے میزائل سے یوکرین کا مسافر طیارہ تباہ ہونے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ البتہ ابتدائی طور پر ویڈیو فوٹیج پوسٹ کرنے والے ایرانی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ان کے ذرائع محفوظ ہیں اور ایرانی حکام نے ایک غلط شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو ایران کے عدالتی ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے بتایا تھا کہ طیارہ حادثے کے ذمے دار متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ غیرقانونی اجتماعات میں حصہ لینے پر بھی 30افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 20سیلکنڈ کے فرق سے طیارے پر دو میزائل فائر کیے گئے۔ اخبار میں کہا گیا کہ پہلا میزائل لگنے سے طیارے کا مواصلاتی نظام خراب ہو گیا جس کے بعد دوسرے میزائل سے وہ مکمل تباہ ہو گیا ۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکا کے ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ اور انتہائی اہم کمانڈر قاسم سلیمانی مارے گئے تھے ان کے ساتھ عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا اور 8 جنوری کو ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور 80 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
ان میزائل حملوں کے کچھ دیر بعد ہی اسی روز تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔
یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔
