مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ مسترد کر دیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے پیش کردہ دوسرے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ غریب کش بجٹ ہے، اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے اپنی نالائقی پہلے مسلم لیگ (ن) اور اب کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی اور میرے خدشات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئے، افسوس حکومتی نااہلی کی سزاقوم اور ملک کو مل رہی ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں جبکہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کاتاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 5.8 فیصد جی ڈی پی شرح والی معیشت دی اور موجودہ حکومت نے پہلے سال میں 1.9 پر پہنچادیا جبکہ رواں سال 10 فیصد مالی خسارہ ملکی معیشت اور بجٹ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دے گا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ تاریخ میں یہ مالی خسارہ کبھی دوہندسوں میں نہیں رہا، پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے یہ کام کردکھایا اور بجٹ اور اس کے اہداف غیرحقیقی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پہلی حکومت ہے جو ٹیکس ریونیو، حکومتی اخراجات، مالیاتی خسارہ اور جی ڈی پی کے اپنے مقرر کردہ اہداف بھی حاصل نہیں کرپائی۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے پیچھے چھپنے سے کام نہیں چلے گا، وبا سے پہلے معاشی بربادی حکومتی ناکامیوں اور بے سمت پالیسیوں کا کافی ثبوت ہے جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) روک دیاگیا، بلوچستان کو نظرانداز کیاگیا۔شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباو پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے، اگر یہ بجٹ ہے تو قوم منی بجٹ کے لیے تیار رہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کورونا کو الزام دیتی ہے لیکن فروری سے پہلے ان کی معاشی کارکردگی اپنے اہداف سے 25 فیصد سے زائد کم تھی۔
قائد حزب اختلاف نے مزید تنقید کی کہ تاریخ اور دنیا میں پہلی حکومت ہے جس نے اپنے گزشتہ سال سے بھی کم ٹیکس ریونیو جمع کیا، موجودہ حکومت کی 5555 ارب روپے کی جگہ 3800 ارب روپے ٹیکس وصولی مسلم لیگ (ن) کی 2 سال قبل حکومت کی ٹیکس وصولیوں سے کہیں کم ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ’کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ 6.9فیصد کمی کیوں ہوئی؟ کپاس اور گنے پر کورونا کا اثر نہیں ہوا پھر ان کی پیداوار کیوں کم ہوئی؟انہوں نے پیش گوئی کی کہ معیشت چل نہیں رہی پھر حکومت 4963 ارب روپے ریونیو کا ہدف کیسے پورا کرے گی؟ جس کے صاف مطلب ہے کہ آئندہ آئی ایم ایف اجلاس سے قبل حکومت منی بجٹ پیش کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 2 برس میں موجودہ حکومت نے قومی قرض میں 30 فیصد اضافہ کردیا جبکہ حکومت نے انتہائی زیادہ شرح سود پر مقامی بینکوں سے 1723 ارب روپے قرض لیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی بجٹ کو مسترد کردیا۔انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ کنسٹرکشن سیکٹر کو تو پیکج دیا گیا مگر مزدور کے لیے کچھ نہیں، غریب اور مزدور دشمن بجٹ کو پاکستان کے عوام مسترد کرتے ہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے بات چیت سے متعلق ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہم سراج الحق کی جانب سے کورونا اور ٹڈی دَل کے حوالے سے اے پی سی بلانے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایسے بجٹ کو تسلیم نہیں کرے گی جس میں عام آدمی کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے امیرجماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ٹِڈی دَل کے حملوں سے بچاؤ پر کسی واضح پالیسی کو بیان نہ کرنا تشویش ناک ہے جبکہ گزشتہ برس بجٹ تقریر میں سابق صدر آصف علی زرداری نے ٹِڈی دَل کا مسئلہ اٹھایا تھا مگر حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال جو کہ آج کل کورونا وائرس کا شکار ہیں، انہوں نے وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ تجارتی خسارہ ہے نہ مالیاتی خسارہ۔ اصل مسئلہ اعتماد کا خسارہ، فیصلہ سازی کا خسارہ، وژن کا خسارہ اور اہلیت و صلاحیت کا خسارہ ہے جس کی بدولت معیشت مسلسل 2 سال سے ڈوب رہی ہے-
رہنما مسلم لیگ (ن) خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سارا ملبہ کوروناپر ڈالا جارہا ہے جیسے اس سے پہلے 19ماہ دودھ اور شہد کی نہریں رواں تھیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں جون سے مارچ کیا کارکردگی تھی۔ تباہی کاسفر تو جاری تھا کورونا نے آ کر سارے فریب اور نا اہلی کو ننگا کر دیا۔سارا ملبہ کروناپر ڈالا جارہا ھے۔جیسے اس سے پہلے 19ماہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رح تھیں۔ موجودہ مالی سال میں جون سے مارچ کیا کارکردگی تھی۔ تباہی کاسفر تو جاری تھا کرونا نےآ کے سارے فریب اور نا اہلی کو ننگا کر دیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جب کہ پی پی نے بھی بجٹ کو پاکستان دشمن قرار دیا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کورونا کے علاوہ ٹڈل دل کا سامنا ہے، نہ فنانس کمیٹی کو آن بورڈ لیا گیا اور نہ ہی بجٹ پرکوئی بحث ہوئی، یہ کوئی بجٹ نہیں بلکہ اکاؤنٹنگ ایکسرسائز ہے۔انہوں نے کہا کہ اِس حکومت نے 18 ماہ میں جتنے قرض لیے، اتنے کسی حکومت نے نہیں لیے تھے، حکومت اس وقت لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے بیروزگار کررہی ہے، بجٹ میں صرف اعداد شمار آگے پیچھے کیے گئے ہیں۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ یہ کسی شعبے کا دوست بجٹ نہیں بلکہ پورے پاکستان دشمن بجٹ ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا پیش کردہ دوسرا وفاقی بجٹ مسترد کردیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ حکومت کی گزشتہ برس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے والے بجٹ کی توقع نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ افراط زر سے عام آدمی کی قوت خرید میں ہونے والی کمی کی وجہ سے توقع تھی کہ تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔علاوہ ازیں نوید قمر نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جس کے باعث اب سرکاری ملازم امسال 10 فیصد کم خریداری کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جبکہ صنعتوں کو مراعات تو ایف بی آر اپنے ایس آر اوز کے ذریعے کرتا رہتا ہے۔نوید قمر نے کہا کہ ’بجٹ میں صوبوں کے ساتھ مل کر اخراجات کے معاملے پر بھی بجٹ میں کوئی بات نظر نہیں آئی‘۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صنعت حماد اظہر نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button