مسلم لیگ ن نے آمنے سامنے CCPO لاہور کو وارننگ دے دی


مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے لاہور پولیس کے سربراہ سی سی پی او عمر شیخ کو ایک باضابطہ ملاقات میں خبردار کیا ہے کہ وہ ان کی پارٹی کے اراکین خصوصاً شہباز شریف کو حکمرانوں کے ایما پر سیاسی استحصال کا نشانہ بنانا بند کریں کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا اور انہیں اس زیادتی کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے ائی جی پنجاب سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کو بتایا ہے کہ ان کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہونی چاہیے نہ کہ حکمرانوں اور انکی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ۔ انہوں نے عمر شیخ سے کہا کہ وہ بڑے شوق کے ساتھ وزیراعظم کی بہنوئی کی زمینوں کا قبضہ چھڑوایئں لیکن اپوزیشن کے رہنماؤں کے ساتھ زیادتیاں کرنے سے باز آجائیں۔ سی سی پی او سے ملاقات میں اپوزیشن وفد کے اراکین نے ریمارکس دیے کہ حزب اختلاف بالخصوص مسلم لیگ (ن) سے انتقام لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اپنے ہوش کھو بیٹھے ہیں، وہ اپنے خوابوں میں بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ کسی کو نہیں بخشیں گے، مسلم لیگ کے وفد کا یہ موقف تھا کے عمران نے نیب اور دیگر محکموں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے اور وہ انہیں جیل میں بھی اذیت دینا چاہتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اس کی ایک بڑی مثال ہیں۔ رانا ثنا اللہ خان نے سی سی پی او لاہور پر واضح کیا کہ اگر وہ ان کی جماعت کے صدر کے ساتھ عمران خان کو خوش کرنے کے لئے زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو پھر انہیں یہ زیادتیاں بھگتنا بھی پڑیں گی۔
رانا ثنااللہ کے ہمراہ صوبائی اراکین اسمبلی سمیع اللہ خان اور عظمیٰ بخاری بھی موجود تھے جنہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو جیل سے عدالت اور واپس جیل منتقل کرنا سی سی پی او کی ذمہ داری ہے اور وہ اس عمل کے دوران جتنی تکلیف پہنچا سکتے ہیں اس سے زیادہ پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو شدید کمر درد ہے اور پھر بھی عمران خان کے کہنے پر انہیں اذیت دینے کے لیے بکتر بند گاڑی میں عدالت لے جایا جاتا ہے۔ رانا ثنا نے بتایا کہ ہم نے سی سی پی او کو خبردار کیا ہے کہ ہم اب یہ رویہ اور سیاسی استحصال برداشت نہیں کریں گے، ہم نے ان سے کہا کہ وہ عمران خان اور شہزاد اکبر کے آلہ کار نہ بنیں، سی سی پی او کو یہ بھی انتباہ دیا گیا کہ اگر شہباز کو مزید بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا تو مسلم لیگ(ن) کے کارکنان ان کے دفتر کے باہر دھرنا دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر پر کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔ سی سی پی او سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ نواز کی جانب سے عدالت میں دائر کردہ ایک درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے احتساب عدالت نے پولیس کو شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں پیش کرنے سے روک دیا۔
احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے 19 نومبر کو شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ اور ایس پی سکیورٹی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے شہباز کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پولیس حکام کو انہیں بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کرنے سے روک دیا اور بلٹ پروف گاڑی بھی فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے (ن) لیگ کے رہنما حمزہ شہباز کو بھی بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کرنے سے روک دیا۔ واضح رہےکہ پولیس حکام نے شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کیا تھا جس پر (ن) لیگ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا جب کہ شہباز شریف نے بھی اس پر عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
شہبازشریف نے درخواست میں کہا تھا کہ میں سخت کمر درد میں مبتلا ہوں لیکن مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے بکتر بند گاڑی میں لایا جا رہا ہے، گاڑی کی حالت بھی درست نہیں، اس وجہ سے کمر درد میں اضافہ ہو رہا ہے، استدعا ہے کہ عدالت بکتر بند گاڑی میں لانے سے روکنے کا حکم دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button