کیا اسٹیبلشمنٹ نے حافظ سعید کو استعمال کرکے پھینک دیا؟


ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا قیمتی ترین اثاثہ سمجھے جانے والے جہادی رہنما حافظ محمد سعید کو دہشت گردوں کی فنڈنگ کا جرم ثابت ہونے پر ایک اور کیس میں دس برس کی سزا سنا دی گئی ہے جبکہ چند ماہ پہلے بھی انہیں ایک ایسے ہی کیس میں گیارہ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
حافظ سعید کو اوپر تلے سزائیں سنانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے جماعت الدعوہ کے ذرائع نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے انکی قیادت کو سزائیں دلوا رہی ہے۔ جماعت الدعوہ کی قیادت نے اپنے دعوے کی سپورٹ میں یہ دلیل پیش کی کہ جب نواز شریف دور میں میں حکومت نے ہمارے خلاف ایکشن لینے کی تجویز دی تھی تو تب کی فوجی قیادت نے اس عمل کو ڈان لیکس کا نام دے کر سختی کے ساتھ مسترد کر دیا تھا۔ لیکن آج کی قیادت نے صرف بین الاقوامی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے جماعت الدعوہ کی قیادت کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم دوسری طرف اسلام آباد میں ایسے حلقے بھی موجود ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ حافظ سعید کو سزائیں سنانے کا مقصد یقینا پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنا ہے لیکن اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ جب پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے تو ماضی کی طرح پھر سے حافظ سعید کو اپیل کے ذریعے بڑی عدالت سے آزاد کروا لیا جائے گا۔ دوسری طرف بین الاقوامی امور کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ جہادی تنظیموں کے خلاف سخت ترین عدالتی فیصلوں کے پیچھے پاکستان کی بڑھتی بین الاقوامی تنہائی، بگڑتی معاشی صورتحال اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل لاہور کی انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشتگردی کے آپریشنز کی مالی معاونت کے حوالے سے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ 19 نومبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی ایک اور عدالت نے حافظ سعید کو 10 سال 6 ماہ قید اور ایک لاکھ 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنانے کے علاوہ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ حافظ سعیداور ان کے ساتھی کو سزا پر امریکی محکمہ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حافظ سعید کو مجرم قرار دیا جانا ایک اہم پیشرفت ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا ان پر 2008 میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگاتا ہے جس میں سینکڑوں بھارتی اور غیر ملکی باشندے مارے گئے تھے۔ ممبئی حملے کے دوران گرفتار ہونے والے اجمل قصاب نے بعد ازاں اپنے پاکستانی ہونے اور لشکر طیبہ کے ٹریننگ کیمپ میں تربیت حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ مشن کے لیے براستہ سمندر ممبئی روانگی سے پہلے اس نے اور دیگر جہادیوں نے کراچی میں عزیز آباد کے علاقے میں حافظ سعید اور کمانڈر ذکی لکھوی سے بھی ملاقات کی تھی۔
یاد رہے کہ ممبئی حملوں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حافظ سعید کئی برسوں سے انڈیا کو مطلوب ہیں اور اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے انھیں عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہےکیونکہ ان حملوں میں کئی امریکی شہری بھی مارے گئے تھے اس لیے امریکہ نے حافظ سعید کے سر پر 10 ملین ڈالر انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ تاہم ممبئی حملوں کے 12 برس بعد اب موجودہ صورتحال میں حافظ سعید کی گرفتاری اور انہیں سزا سنانے کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر حافظ سعید پر واقعی عالمی سطح پر سنگین الزامات لگائے گئےتو انھیں قید کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا اور کیا انھیں مستقبل میں زیر حراست رکھا جا سکے گا؟
ان سوالوں کے جواب میں ایک پیچیدگی یہ عمومی تاثر ہے کہ حافظ سعید کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ یوں تو عسکریت پسندوں کو اپنی خارجہ پالیسی اہداف کے لیے استعمال کرنے کے الزام کو پاکستان کئی برسوں سے رد کرتا رہا ہے مگر عالمی اور مقامی سطح پر یہی مانا جاتا ہے کہ جہادی تنظیموں کو فوج کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ تاہم دوسری جانب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان شدید مالی مشکلات میں بھی مبتلا ہے۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد سے ملک میں بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فوجی حکومتیں رہی ہیں اور امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی امداد پر بہت انحصار رہا ہے۔
واضح رہے کہ جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ یہ ان ممالک کی فہرست ہے جو منی لانڈرنگ اور شدت پسندی کے مالی معاملات کے خلاف بنائے گئے سٹینڈرڈز کی پاسداری نہیں کر سکے ہیں۔
اس کے بعد کئی ماہ تک بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان نے شدت پسندی سے منسلک متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور سینکڑوں ایسی پراپرٹیز کو سیل کر دیا جن کا کالعدم تنظیموں سے کوئی تعلق تھا۔ مگر بہت سے لوگوں نے ان اقدامات کو صرف دکھاوا سمجھا کیونکہ بڑی تنظیموں جیسے کہ جماعت الدعوۃ یا جیشِ محمد کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی۔ پاکستانی حکام پر دباؤ بڑھتا رہا اور اپریل 2019 میں حکومت نے جماعت الدعوۃ اور مرکزِ دعوت الارشاد سے منسلک چھ تنظیموں پر پابندی لگائی۔
حافظ سعید کو بھی سزا کالعدم تنظیموں سے منسلک پراپرٹی کی ملکیت پر ہوئی ہے۔انھیں گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button