مشاہد اللہ: نظریات کی خاطر مصائب اٹھانے والا بڑا آدمی


سینیٹ میں اپنی بزلہ سنجی اور شعر و سخن سے سماں باندھ دینے والے لیگی سینیٹر مشاہد اللہ خان اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی وجہ سے پارٹی قیادت کو اس قدر عزیز تھے کہ شدید علالت کے باوجود انہیں تیسری مرتبہ سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا لیکن زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔
68 سالہ سینیٹر مشاہد اللہ خان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی نظریاتی ساتھیوں میں سے تھے جو اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی وجہ سے جانے جاتے تھے جسے نبھانے کے لیے انہوں نے کافی تکالیف اور مصائب کا بھی سامنا کیا۔ انھوں نے 12 اکتوبر 1999 کے مشرف مارشل لا کے بعد مشکل ترین صورتحال میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو وہ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی بھی رہے۔ مشاہد اللہ ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف بے باک اندازِ بیان اختیار کرتے تھے۔ 2015 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے دوران جب وہ وفاقی تھے تو انھیں سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ظہیر السلام کے بارے میں بیان دینے پر عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کے ان کی برطرفی کے پیچھے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ تھا جو ان کے بیان سے شدید ناراض ہو گئی تھی۔ کچھ ایسا ہی بعدازاں سینیٹر پرویز رشید کے ساتھ بھی ہوا تھا جن کو ڈان لیکس سکینڈل میں ملوث کردیا گیا تھا۔ یہ اور بات کے آج عمران خان کی حکومت ڈان لیکس کے ایجنڈے پر بلا روک ٹوک عمل پیرا ہے کیوںکہ اب ایسا کرنا وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔
17 فروری 2021 کو دنیائے فانی سے کوچ کر جانے والے مشاہد اللہ خان نہ صرف ایک منجھے ہوئے پارلیمنیٹرین تھے بلکہ انہیں شعر و ادب پر بھی ملکہ حاصل تھا۔ وہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ سینیٹ میں بحث کے حوالے سے بھی خوب پہچانے گئے۔ مشاہد اللہ خان نے پیرانہ سالی میں بھی اپنی شگفتہ گفتگو سے ہر محفل کو کشت زعفران بنائے رکھا۔ مشاہد کی پیدائش 1953 میں راولپنڈی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی اورپھر کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔اس وقت وہ ایوی ایشن کمیٹی کے چیئرپرسن تھے۔ ہاؤس آف بزنسز کی ایڈوائزری کمیٹی، پارلیمینٹری کمیٹی برائے کشمیر، پارلیمینٹری کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن آف پاکستان کے تقرر سے متعلق کمیٹی کے ممبر سمیت کل بارہ کمیٹیوں کے رکن بھی تھے۔ وہ سنہ 1975 سے 1997 تک پی آئی اے سے بھی وابستہ رہے۔ 1997 سے 1999 تک وہ افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق وزارت میں ایڈوائزر رہے۔ مشاہداللہ اپنے بے باک بیانات اور جارحانہ وفاداری کے سبب شریف برادران کو پسند تھے۔ سال 1999 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے زیادہ تر رہنما چھلانگ لگا کر دوسری کشتی میں سوار ہوگئے تھے لیکن مشاہداللہ نے فوجی آمر کا سامنا کرنے کا انتخاب کیا۔ پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر انہوں نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے 2 پرکشش عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جس میں ایک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ جبکہ دوسرا وزیر محنت اور افرادی قوت تھا۔
مشاہد کے اس اقدام اور مشرف مخالف بیانات کے بعد انہیں قید کردیا گیا اور خود ان کے بقول انہیں فوجی حکومت کے ‘مظالم’ برداشت کرنے پڑے۔ اپنی جماعت کے حلقوں میں قابل احترام ہونے کے باوجود ان کا مزاج اور عوامی بیانات دیتے ہوئے جارحانہ رویہ اکثر ان کے لیے مسائل کھڑے کرنے کا سبب بنا۔ جب سے نواز شریف کو جلاوطنی پر مجبور کیا گیا مشاہداللہ ان کے قابلِ بھروسہ ساتھی تھے، پہلے وہ مسلم لیگ (ن) کے انفارمیشن سیکریٹری اور بعدازاں 2009 میں پہلی بار سینیٹڑ بنادیے گئے۔جنوری 2015 میں نواز شریف دور حکومت میں انہیں چیئر مین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مقرر کیا گیا ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر تھا تاہم انہوں نے اس عہدے کوقبول نہیں کیا۔2015 میں دوسری مدت کے لئے انہیں سینیٹر منتخب کروا کر انہیں وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی بنایا گیا۔ تاہم فوج کے سیاسی کردار بارے ایک متنازع انٹرویو کے بعد انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ شاہد خاقان عباسی کے دور میں انہں دوبارہ وزیر برائےماحولیاتی تبدیلی بنایا گیا تھا۔ اگرچہ مشاہد اللہ خان ایک عرصے سے شدید علیل تھے تاہم پارٹی نے ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں تیسری مرتبہ جنرل نشست پر امیدوار بنایا تھا، بتایا گیا یے کہ مشاہد اللہ کی وفات کے بعد اب ان کے صاحبزادے ڈاکٹر افنان اللہ خان سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ مشاہد اللہ خان نواز شریف کے وفادار اور غیر معمولی ساتھی ہمیں چھوڑ گئے ہیں۔ میں اس افسوسناک خبر کو سن کر صدمے میں ہو۔ ان کے پدرانہ انداز اور محبت کو کبھی بھول نہیں پاؤں گی۔ ایک بہت بڑا صدمہ۔ خدا انھیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے۔ اپنے آخری آڈیو پیغام میں مشاہد اللہ خان نے سنیئر صحافی حامد میر کے والد پروفیسر وارث میر مرحوم کی صحافتی خدمات اور مشرقی پاکستان کے فوجی آپریشن سے متعلق اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا۔ مشاہد اللہ خان نے یہ اعتراف کیا کہ ستر کے عشرے میں وہ ٹین ایج میں تھے اور سیاسی معاملے کا مکمل ادراک نہ رکھنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کے حامی تھے، بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہر موقف کو سو فیصد جائز سمجھتے تھے۔ لیکن بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ سرکاری سچ نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ مشاہد اللہ خان نے حامد میر کے نام آڈیو پیغام میں ان کے والد پروفیسر وارث میر کی جانب سے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کرنے کو شاندار اور لازوال جدوجہد سے تعبیر کرتے ہوئے انہیں اپنے عہد کا بڑا آدمی قرار دیا۔ مشاہد اللہ خان نے اپنے آخری پیغام میں پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں سے پروفیسر وارث میر کے حق میں قراردادوں کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے نظریے اور کمٹمنٹ کی خاطر تکلیفیں اٹھانے والے ہی بڑے لوگ ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button