مشرف اور کیانی کے سوئس اکاؤنٹس بھی پکڑے گئے


سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے دو سابق آرمی چیفز جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کے ملٹی ملین ڈالرز کے سوئس بنک اکاؤنٹس سامنے آ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی جرنیلوں کے سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے ایک معروف برطانوی تحقیقاتی صحافی جیمز ڈی کرکٹن ماضی میں انکشافات کر چکے ہیں۔ اب جنرل مشرف اور جنرل کیانی کے سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات نے ان دعوؤں کو تقویت دی ہے جو برطانوی صحافی نے 2016 میں کیے تھے۔ جیمز کو جرنیلوں کے سوئس اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات تب ملیں جب وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کی آف شور کمپنیوں، پانامہ لیکس اور نواز شریف کے آف شور اکاؤنٹس کے متعلق چھان بین میں مصروف تھے ،اس دوران ان پر یہ راز افشا ہوا کہ سابق فوجی سربراہان اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ جیمز کے مطابق پاکستان کے سابق جرنیلوں کے اثاثے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے کئی گناہ زیادہ ہیں۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ جیمز کی طرف سے جنرل اشفاق کیانی اور جنرل پرویز مشرف کے بیرون ملک اکاونٹس کے حوالے سے جو دعوے کیے گئے تھے وہ بالکل درست تھے۔
اب یہ معلوم ہوا ہے کہ سوئس بنک کا اکاونٹ نمبر 3861337 جنرل پرویز مشرف کے نام پر ہے جبکہ اکاؤنٹ نمبر 583106 جنرل اشفاق پرویز کیانی کے نام پر ہے۔ ان بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہے۔ سابق ڈکٹیٹر مشرف کے اکاؤنٹ کو سٹار ٹرسٹ نامی کمپنی چلا رہی ہے۔ اکتوبر 2013 کے ریکارڈ کے مطابق مشرف کے سوئس اکاؤنٹ میں اس وقت 2 بلین ڈالر کی رقم موجود تھی۔ سابق آرمی چیف جنرل کیانی کے سوئس اکاؤنٹ کو یو اے ای کی ایک کمپنی جے اینڈ بی کنسٹرکشن کمپنی ‘چلا رہی ہے اور یہ جنرل کیانی کے بھائی کی کمپنی ہے جو خود بھی آرمی سے ریٹائرڈ آفیسر ہیں اور پاکستان میں ان کیخلاف کرپشن کی تحقیقات چل رہی ہیں۔ ان کے سوئس بنک اکاؤنٹ میں 500 سے 700 ملین ڈالر موجود ہیں۔
یاد رہے کہ جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی بھی ریٹائر فوجی افسر ہیں اور کرپشن کی خبروں میں شہ سرخیوں کی زینت بنتے رہے ہیں جبکہ جنرل کیانی الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ جنوری 2016 میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تحقیقات کی گئیں کہ کامران کیانی کس طرح جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع کے دوران کروڑ پتی سے ارب پتی بن گئے اور انھوں نے اندرون و بیرون ملک جائیدادیں کیسے بنائیں؟ ذرائع کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں ہر بندہ جانتا تھا کہ کامران کیانی کا بزنس ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کر رہا ہے کیونکہ تمام حکومتی، فوجی اور دفاعی کنٹریکٹ انھی کو دئیے جا رہے تھے اور وہ 17 ارب روپے کے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی فراڈ کے مرکزی ملزم بھی تھے۔ تاہم بعد ازاں نیب نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اس حوالے سے تمام الزامات سے یہ کہتے ہوئے بری کردیا تھا کہ ان کے خلاف کسی قسم کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ بعد ازاں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کرپشن کے معاملات پر چند فوجی افسران کو معطل کر دیا تھا لیکن انہیں سزا نہیں دی گئی۔ جنرل اشفاق کیانی کو عام شہری سادہ اور محب وطن تصور کرتے تھے لیکن ان کے سوئس اکاؤنٹس کے انکشاف نے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنرل مشرف کے اسلام آباد میں محل نما فارم ہاؤس کے علاوہ استنبول کے
مہنگے ترین علاقے اور دبئی میں ایک بنگلے موجود ہیں جبکہ ان کا لندن میں بھی ایک گھر ہے اور امریکہ میں انکے بیٹے بلال اور خاندان کے دیگر افراد کے نام جائیدادیں بیش قیمت جائیدادیں موجود ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button