مشرف نے کارگل کی جنگ نواز شریف کو بتائے بغیر شروع کی

بھارت میں شائع ہونے والی ایک نئی کتاب میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کی جنگ تب کے وزیراعظم نواز شریف کو جھانسہ دے کر انہیں بتائے بغیر شروع کی اور اس وقت نواز شریف کی حیثیت اپنے ہی ملک میں ایک قیدی کی تھی کیونکہ انکے فون ٹیپ کیے جا رہے تھے۔
اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں بھارتی اخبار ‘دی ہندو’ نے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ایک پرائیویٹ سیکریٹری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے ہندوستانی ہم منصب اٹل بہاری واجپائی نے 1999 میں کارگل جنگ کے دوران کم از کم پانچ مرتبہ فون پر ایک دوسرے سے بات کی۔ وہ اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کارگل تنازع کے دوران نواز شریف کو جھانسہ دیا تھا۔ یہ لڑائی مئی سے جولائی 1999 کے درمیان لائن آف کنٹرول کے ساتھ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کارگل کی برفانی چوٹیوں پر لڑی گئی۔ انڈیا میں اسے ’آپریشن وجے‘ کا نام دیا گیا جبکہ پاکستان میں اسے ’آپریشن کوہ پیما‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کے درست اعدادوشمار اب بھی میسر نہیں۔ تاہم جہاں انڈیا کے 500 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت کی بات کی جاتی ہے وہیں پاکستان کی جانب ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ پہلے پہلے پاکستان نے کارگل کی جنگ میں اپنے فوجیوں کے شامل ہونے کی تردید کی تھی لیکن بعد ازاں پاکستان نے اس جنگ میں شہید ہونے والے اپنے دو فوجیوں کو اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ‘نشان حیدر’ سے بھی نوازا۔ کارگل کی لڑائی کے اختتام کے 20 برس بعد بھی اس کے آغاز سے لے کر اختتام تک کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔
لیکن اب بطور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ہنگامہ خیز دور اقتدار میں رونما ہونے والے اہم ترین واقعات کے بارے میں انکے سیکرٹری نے واجپائی: وہ سال جنہوں نے بھارت کو بدل دیا’ نامی کتاب لکھی یے۔ واجپائی کے نجی سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے سابق بیوروکریٹ شکتی سنہا نے لکھا ہے کہ نواز شریف اور کارگل تنازع کے خاتمے کے لیے بند دروازوں کے پیچھے خفیہ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سابق سربراہ آر کے مشرا کا انتخاب کیا گیا تھا اور نوز شریف اور مشرا کے مابین ہونے والی ملاقاتوں کے بعد بھی رابطوں کا یہ سلسلہ جاری رکھا گیا۔
کتاب میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کی پوزیشن بہت نازک تھی اور بعد میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے مشرا کو عندیا دیا کہ انہیں باغ میں چہل قدمی کرنی چاہیے، ظاہر ہے انہیں شک تھا کہ ان کے گھر کو ٹیپ کیا جا رہا ہے، جب مشرا نے واجپائی کو اس کی اطلاع دی تو مؤخر الذکر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ نواز شریف کی حالت اس وقت ایک قیدی سے زیادہ نہیں۔ ان میں سے ایک کال واجپائی کے دورہ کارگل کے بعد جون 1999 میں سری نگر میں آئی تھی، سری نگر پہنچنے پر واجپائی نے مجھ سے نواز شریف سے رابطہ قائم کرنے کو کہا، میں اور میری ٹیم نے کوشش کی لیکن ہم کامیابی حاصل نہیں کرسکے، تب وہاں موجود ایک مقامی افسر نے ہمیں بتایا کہ جموں و کشمیر سے پاکستان کا کوڈ 092 ڈائل کرنے پر پابندی ہے، پھر ٹیلی کام کے حکام کو کہا گیا کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہ سہولت کھولیں تاکہ دونوں وزرائے اعظم بات کریں۔
شکتی سنہا اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ ایل او سی سے پاکستانی فوجوں کے انخلا کی ایک بڑی وجہ پاکستانی جرنیلوں آرمے چیف پرویز مشرف اور چئف آف جنرک سٹاف جنرل عزیز کی دو ٹیلیفونک ریکارڈنگ بنی تھیں جو کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینلاسٹ ونگ کے اس وقت کے سربراہ اروند ڈیو وزیر اعظم واجپائی کے پاس لائے تھے، ان ریکارڈنگز سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ پاک فوج کارگل معرکے میں شامل تھی۔ چار جون 1999 کو بھارتی حکام نے ان ٹیپس کو ان کی ٹرانسکرپٹ کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کو سنانے کا فیصلہ کیا۔ اگر مشرف کی بات چیت کو ریکارڈ کرنا انڈین انٹیلیجنس کی ایک بڑی کامیابی تھی تو نواز شریف تک ان ٹیپس کا پہنچانا کوئی چھوٹا کام نہیں تھا۔ یہ ٹیپس آر کے مشرا کے ذریعے وزیر اعظم نواز شریف کے لیے پاکستان اسمگل کی گئیں. ان حساس ٹیپس کو لے کر مشہور بھارتی صحافی آر کے مشرا کو منتخب کیا گیا جو اس وقت آسٹریلیا میں تھے۔ انھیں انڈیا بلا کر یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ اس خوف سے کہ کہیں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ان کی تلاشی نہ لی جائے، مشرا کو ’سفارتکار‘ کی حیثیت دی گئی ہے تاکہ انھیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہو جائے۔ ان کے ساتھ ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری وویک کاٹجو بھی گئے۔ آرکے مشرا نے صبح 8:30 بجے ناشتے کے وقت نواز شریف سے ملاقات کی اور انھیں وہ ٹیپ سنوائی اور ٹرانسکرپٹ ان کے حوالے کی۔ اس کام کو مکمل کرنے کے بعد مشرا اور کاٹجو اسی شام دہلی واپس آ گئے۔ اس سفر کو اتنا خفیہ رکھا گیا کہ اس وقت کم از کم اس کا ذکر کہیں نہیں آیا۔
جب کارگل تنازعہ پیش آیا تو مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہد حسین سید وفاقی وزیرِ اطلاعات تھے۔ 2019 میں اپنے ایک انٹرویو میں مشاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ نوازشریف اس بات سے بالکل لاعلم تھے کہ پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول پار کر چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’بطور وزیراعظم میاں صاحب کو کارگل کے بارے میں پہلی بریفنگ 17 مئی 1999 کو ڈی جی ایم او کی جانب سے دی گئی لیکن اس سے پہلے انڈیا سے آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ کچھ ہو رہا ہے۔‘ مشاہد حسین کے مطابق کارگل معرکے سے چند ماہ پہلے فروری 1999 میں جب انڈیا کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور آئے تو اس وقت بھی نوازشریف بے خبر تھے کہ پاکستان کی فوج انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں کسی جنگی کارروائی کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ مشاہد نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی کے دورے کے وقت دونوں ملکوں کے درمیان ماحول بہت اچھا تھا اور انڈین وزیراعظم کو پاکستان کے تینوں فوجی سربراہان نے باقاعدہ سلیوٹ بھی کیا تھا۔ اس سوال پر کہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ جنوری 1999 میں ایک بریفنگ میں نواز شریف کو بتایا گیا تھا کہ کارگل معرکہ ہونے جارہا ہے، مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ ’جنوری میں تو ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا۔ میں اس بریفنگ کا حصہ تھا اور وہ سکیورٹی معاملات پر ایک عمومی بریفنگ تھی۔‘
سابق وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ انھیں پاک فوج کی کارگل میں موجودگی کی اطلاع انٹرنیشنل میڈیا کو بریفنگ سے تھوڑی دیر پہلے دی گئی۔ ’جب یہ معاملہ منظرِ عام پر آ گیا تو مجھے کہا گیا کہ آپ بریفنگ دیں کیونکہ میں حکومت کا ترجمان تھا۔ اس وقت مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارگل میں لڑنے والے ہمارے بندے ہیں۔ ناردرن لائٹ انفنٹری ک ہمارے ریگولرز ہیں۔‘ مشاہد کہتے ہیں کہ یہ ان کے لیے بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ان کی رائے تھی کہ پاکستان کو انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے حقیقت بیان کرنی چاہیے۔ ’ہندوستان نے بھی 1984 میں سیاچن میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی تھی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ حقائق ہیں اور مسئلے کو حل کریں۔ لیکن سچ یہ یے کہ کبھی سرکاری سچ کو سچ کہنا پڑتا ہے۔‘
مشاہد حسین سید کے مطابق جب حکومتی حلقوں کو کارگل سے متعلق حقیقت کا ادراک ہوا تو شدید دھچکا لگا۔ ’ایک طرف ہم بھارتی وزیراعظم کی بس ڈپلومیسی کا خیر مقدم کر رہے تھے اور دوسری طرف تقریباً جنگ کی طرف جا رہے تھے۔ ’نظام کے اندر ایک تقسیم آنا شروع ہو گئی تھی کہ یہ اتنی بڑی حرکت کیسے اپنے طور پر کر لی گئی ہے۔ مشاید نے بتایا کہ ’نوازشریف کارگل کے بعد حیرانگی اور مایوسی کی کیفیت میں تھے کیونکہ انڈیا کے وزیراعظم امن کے لیے خود چل کر ہمارے پاس آئے تھے۔ ’نوازشریف سمجھتے تھے کہ پاکستان ایک ایسے بحران میں پھنس گیا ہے جس کے نتائج ہم کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘
بلآخر جب جنرل مشرف کو کارگل میں شکست نظر آئی تو انہوں نے وزیراعظم نواز شریف سے درخواست کی کہ امریکی صدر بل کلنٹن کے ذریعے جنگ کو ختم کیا جائے۔ نومبر 1999 میں کارگل کا تنازع وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کو بطور آرمی چیف برخاست کرنے کی کوشش میں ایک ‘کاونٹر کو’ کے بعد اپنے ہی اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوا۔ لیکن پھر 20 برس بعد دسمبر 2019 میں آئین پاکستان کے تحت تشکیل دی گئی ایک خصوصی عدالت نے جنرل مشرف کو آئین شکنی کے الزام میں غدار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنادی۔ یوں اپنے دور اقتدار میں سیاستدانوں کو غدار قرار دینے والا پرویز مشرف پاکستان کا پہلا مستند غدار وطن قرار پایا۔
