کپتان کے بہنوئی کو قبضہ دلوانے میں ناکام عمر شیخ فارغ

وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ دلوانے میں ناکامی کے فوری بعد کپتان کی ہدایت پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے لاہور کے متنازع ترین سی سی پی او کے انکے عہدے سے ہٹا دیا ہے لیکن حکومت پنجاب کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عمر شیخ کو آئی جی پنجاب کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات اور لاہور میں جرائم کی شرح میں اضافے کے بعد ہٹایا ہے اور غلام محمود ڈوگر کو نیا سی سی پی او لاہور تعینات کیا ہے۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمر شیخ کو لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے چوبیس گھنٹے کے بعد ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جس میں عدالت نے وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
یاد رہے کہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عمران خان نے عمر شیخ کو لاہور کا سی سی پی او تعینات کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پچھلے دو سال سے تمام تر کوسشوں کے باوجود لاہور پولیس سے ان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ نہیں چھڑوایا جا رہا تھا لیکن عمر شیخ نے یہ کام چند ہی دن میں سر انجام دے دیا۔ بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانا عمر شیخ کا وہ کارنامہ بن گیا جس کی وجہ سے وہ عمران خان کی آنکھ کا تارا بن گئے اور پھر موٹروے ریپ کیس کے ملزم کو گرفتار کرنے میں دو مہینے تک ناکام رہنے کے باوجود وزیر اعظم نے عمر کو اس کے عہدے پر برقرار رکھا۔ یاد ریے کہ لاہور کا سی سی پی او لگائے جانے سے چند ماہ پہلے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے کرپٹ اور نااہل قرار دیے جانے پر وزیراعظم عمران خان نے خود عمر شیخ کو اگلے گریڈ میں ترقی دینے سے انکار کیا تھا لیکن پھر بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے اُن انتہائی منفی کارکردگی رپورٹس کے باوجود اُنہیں سی سی پی او تعینات کر دیا۔
عمر شیخ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن ہی اپنے آئی جی کے خلاف ہی اپنے ماتحت تمام افسروں کے سامنے تقریر کر دی اور کہا کہ اب آئی جی کا نہیں بلکہ اُن کا حکم مانا جائے گا۔ جب آئی جی نے اپنے اختیار کی دھجیاں اڑتے دیکھیں تو انہوں نے عمر شیخ کی شکایت وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم سے کی جس پر عمران خان نے عمر شیخ کی بجائے آئی جی شعیب دستگیر کو ہی تبدیل کردیا۔ سی سی پی او لاہور تعینات ہونے کے بعد لاہور سیالکوٹ موٹروے سانحہ کے متعلق عمر شیخ نے انتہائی متنازعہ بیان دیا جس پر اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن خان صاحب ڈٹے رہے۔ عمر شیخ نے ریپ ہونے والی عورت کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی عورت آدھی رات کو موٹر وے پر سفر کرے گی تو پھر ایسا تو ہو گا۔ تاہم عمر شیخ کے اس بیان کا نوٹس لینے کی بجائے وزیراعظم نے ان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چند جونیئر افسر ایک محنتی آفیسر کے خلاف سازش کر رہے ہیں لہذا سی سی پی او لاہور اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
ظاہر ہے معاملہ عمران خان کی حکومت کی ساکھ سے ذیادہ بہنوئی کے پلاٹ کا تھا جس کو چھڑوانے کے لیے عمر شیخ دن رات کوشاں تھے۔ تاہم 30 دسمبر کے روز لاہور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ عمر شیخ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا جب عمران خان کے بہنوئی عبدالاحد کو ساڑھے چار کنال رہائشی پلاٹ کا قبضہ دلوانے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس پلاٹ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے عمران خان کے موقف، وزیراعلیٰ پنجاب کے زبانی احکامات، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے متنازع اقدامات اور پولیس ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ یوں مخالف پارٹی کا موقف درست ثابت ہوا کے عمران خان کا بہنوئی پولیس کو استعمال کرکے اس کے ملکیتی پلاٹ پر قابض ہونا چاہتا تھا۔ یوں عمر شیخ پلاٹ کا انتقال وزیراعظم کے بہنوئی کے نام کروانے میں ناکامی کے بعد سی سی پی او کے عہدے سے فارغ ہوگیا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 20 کے عمر شیخ کو اسی تنخواہ پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس/ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی جگہ محکمہ پولیس میں 14 سال کا تجرنہ رکھنے والے غلام محمود ڈوگر کو سی سی پی او لاہور کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ غلام محمود ڈوگر فیصل آباد کے آر پی او کے علاوہ کیپٹل پولیس افسر لاہور کے عہدے پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔
بد زبانی اور بد تمیزی میں ملکہ حاصل کرنے والے سابق سی سی پی او لاہور سینئر افسران کے ساتھ اختلافات اور ماتحتوں سے نامناسب رویوں اور بیانات کے باعث خاصے تنازعات میں گھرے رپے۔ عمر شیخ اس وقت خبروں میں نمایاں ہوئے تھے جب ان سے اختلافات کے سبب گزشتہ برس 9 ستمبر کو سابق انسپکٹر جنرل پنجاب شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو آئی جی تعینات کردیا گیا تھا۔ بعدازاں آئی جی پنجاب انعام غنی کے اختیارات کو بھی چیلنج کرتے ہوئے انہوں ایک پنڈورا بکس کھول دیا تھا کہ لاہور میں ڈی ایس پیز کا تقرر آئی جی پولیس کے بجائے سی سی پی او کا دائرہ اختیار ہونا چاہیے۔ اس کے بعد حکومت پنجاب نے سی سی پی او سے اختلافات کے بعد لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کا بھی تبادلہ کردیا تھا۔ بعدازاں 15 اکتوبر کو عمر شیخ نے لفظی تکرار کے بعد تفتیشی ایجنسی کے ایس پی عاصم افتخار کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے تھے جنہیں بعد میں انہوں نے اپنے سینئرز کی مداخلت پر واپس لے لیا تھا۔
تاہم اگلے ہی روز حکومت پنجاب نے عاصم افتخار کا بھی تبادلہ کرکے ایس پی ہیڈکواٹرز ٹریفک پنجاب تعینات کردیا تھا۔ اس کے علاوہ سی سی پی او لاہور کے رویے سے تنگ آکر 2 پولیس اہلکاروں ٹرینگ اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیبل نے انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی کو سی سی پی او کے رویے سے متعلق شکایت بھی کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق سی سی پی او عمر شیخ نے کئی رسمی اور غیر رسمی ملاقاتوں میں سینئر افسران کے خلاف مبینہ طور پر ‘نامناسب الفاظ’ بھی استعمال کیے تاہم پولیس فورس اس وقت گھبراگئی تھی جب سی سی پی او نے کچھ عہدیداروں کو گرفتار کیا اور محکمہ جاتی طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔
