آمروں کی غلام عدلیہ آزاد کیسے ہوئی؟

پاکستانی سیاسی تاریخ میں عدلیہ نے ہمیشہ فوجی آمروں کے سامنے بطور ادارہ سرنگوں کیا ہے، منتخب حکومتوں کے خاتمے کو جائز قرار دیا ہے اور مارشل لا کی توثیق کی ہے۔
مختصر الفاظ میں پاکستانی عدلیہ نے ماضی میں ہمیشہ فوج کے ٹٹو کا کردار ادا کیا۔ تاہم 72سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فوجی ڈکٹیٹر کو آیئن توڑنے پر سنگین غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے جس سے پہلی مرتبہ پاکستانی عدلیہ کا وقار بھی بلند ہوا ہے۔ لیکن پرویز مشرف کو اس انجام سے دوچار کرنے میں 3 کردار اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔ افتخار محمد چوہدری نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان 31 جولائی 2009 کو فل کورٹ کی سربراہی کرتے ہوئے رولنگ دی تھی کہ مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کرکے آئین کی خلاف ورزی کی تھی اور ان پر سنگین غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:
حکام نے بتایا کہ وسط ایشیائی ملک قازقستان میں ٹیک آف کے فورا بعد طیارہ حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ جب نور سلطان نذر بائی نے ٹیک آف کیا اور کنکریٹ کی باڑ سے ٹکرا گیا ، جس سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ، طیارہ طلوع آفتاب اور دھند سے پہلے لینڈ کر گیا۔ حادثہ اس وقت اس علاقے میں ہوا تھا
